انیسویں صدی میں اردو صحافت پر غیر مسلم صحافیوں کا دبدبہ قائم تھا:ڈاکٹرعارف ایوبی لکھنؤ،(سعید ہاشمی)

اردوکے غیر مسلم صحافیوں میں منشی نول کشور کا نام زرّین حروف سے لکھا جائے گا،اردو صحافت میں منشی نول کشورکی خدمات ناقابل فراموش ہیں اردو عربی کتابوں کی طباعت میں گراں خدمات انجام دینے والے منشی نول کشور نے 1858 میں لکھنؤ سے اودھ اخبار شروع کیا۔ یہ اخبار پہلے ہفتہ وار تھا پھر سہ روزہ ہوا اور 1877 میں روزنامہ ہوگیا۔ اپنے وقت کا یہ اردو کا بہت بڑا اخبار تھا ۔ان خیالات کا اظہارعطا ء اللہ سنجری نے اکادمی آف ماس کمیونکیشن کے تحت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے تعاون سے اکادمی آف ماس کمیونکیشن ن ہال، قیصر باغ لکھنؤ میں ’’اردو صحافت میں غیر مسلم صحافیوں کی خدمات‘‘ موضوع پرمنعقدیک روزہ سمینار میں کیا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر عارف ایوبی (چیئرمین فخرالدین علی میموریل کمیٹی )اورایس رضوان احمد(سیکریٹری اترپردیش اردو اکیڈمی )نے مشترکہ طورپر کہاکہ انیسویں صدی میں اردو صحافت کے آسمان پر غیر مسلم صحافی چھائے رہے۔ آگرہ کے صدر الاخبار کے کیدار ناتھ، فوائد الشائقین کے ، پربھوردیال، بنارس اخبار کے بابو رگھوناتھ ٹھاٹھے ،مفیدِ ہند کے منشی ایودھیا پرساد، مالوا اخبار کے دھرم نرائن، کوہ نور کے منشی ہرسکھ رائے ،اور لالہ جگت نرائن ،زائرینِ ہند کے ہرونش لال وغیرہ نے اردو صحافت میں بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔دونوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں ہندی۔اردوزبانوں اورانکی صحافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،تاکہ ملک میں قومی یکجہتی اورہم آہنگی کی فضا قائم ہو۔

مہمان اعزازی ہندی کے ادیب وصحافی روشن پریم یوگی ،پروفیسر صابرہ حبیب ،فیاض رفعت اورمحمد طارق نے کہا نے کہا کہ اردوصحافت کی زرّیں تاریخ غیرمسلم صحافیوں کی خدمات سے اس قدر پُر ہیں کہ اُس سے انکار،اردو صحافت سے انکار ہے۔اٹھارویں ،انیسویں اور بیسویں ہر ہر صدی میں ہمارے غیر مسلم بھائیوں نے مسلم بھائیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکراردوصحافت میں وہ اہم خدمات انجام دیں ہیں،جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی،موجودہ دورمیں ضرور کچھ کمی غیر مسلم بھائیوں کی نظرآتی ہے، مگرمستقبل کی صحافت ’ریختہ‘ جیسی خدمات کی وجہ سے ضرورروشن نظرآتی ہے۔سمینار میں افتتاحیہ کلمات اکادمی آف ماس کمیونکیشن کے روح رواں محسن خان نے اداکئے اورمہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے حاضرین کو سوسائٹی کے اغراض ومقاصدسے بھی واقف کرایا۔اس موقع پرپروگرام کی شاندار نظامت کرتے ہوئے شاہد کمال نے مہمانوں اور مقالہ نگاروں کاتعارف اپنے مخصوص اندازمیں کراتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی کے نصف حصے یا پہلی جنگ آزادی 1857 سے قبل تک ہندوستان کے مختلف شہروں سے متعدد اخبار جاری ہوچکے تھے۔ اس دوران خیر خواہ ہند مرزاپور سے جاری ہوا جو اترپردیش کا پہلا اخبار ہے اسے ایک پادری نے 1837 میں جاری کیا تھا۔ یہ ایک مذہبی اخبار تھا اس کا مقصد عیسائیت کی تبلیغ تھا۔سمینار میں اپنامقالہ پیش کرتے ہوئے شاہنواز قریشی،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور ڈاکٹر فخرالکریم نے اردوصحافت کے اس زرّیں دور کو یاد کیا جب اردو صحافت میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم متحرک وفعّال نظرآتے تھے۔تینوں مقالہ نگاروں نے کہا کہ منشی نول کشور کی اردوصحافتی خدمات جگ ظاہر ہیں، مگر صر ف یہی ایک نام نہیں بلکہ اس جیسے ہزاروں نام ہیں جنہوں نے اردوصحافت میں نئی روح پھونک دی تھی، چاہے وہ منشی دورکا پرشاد اُفق ہوں یا پھر رام موہن رائے کی صحافتی خدمات ہوں ،رام موہن رائے ہندوستان کے سب سے پہلے صحافی تھے جنہوں نے ایک آزاد پریس کا بلند معیار قائم کیا جو جدید ہندوستا ن کی قابل فخر روایت ہے،اوراُفق نے اردوصحافت کو نظم کے انداز میں لکھنے کا جو طریقہ رائج کیا وہ انہیں کا خاصہ ہے، اس سے قارئین نے اخبار کو نظم کے انداز میں پڑھنے کا لطف اٹھایا۔سمینارمیں مقالہ پیش کرتے ہوئے صحافی ضیاء اللہ صدیقی وصحافی محمدراشدخان ندویؔ نے کہا کہ اترپردیش اور لکھنؤکے غیر مسلم صحافیوں کی اردوصحافت میں خدمات اتنی زیادہ اوراہم ہیں کہ ان کو بیان کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانا ہے،1879 کے بعد جب اردو صحافت نے یہ کوشش کی کہ ہندوستانیوں میں آزادی کا شعور بیدار ہو تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو صحافی بھی آزادئِ وطن کی تحریک میں پیش پیش رہے اور اگر مدینہ ضلع بجنور سے ، زمیندار لکھنؤ سے آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے تو دوسری لکھنؤ ہی سے پنڈت بیج ناتھ کا سحر سامری وغیرہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔منشی نول کشور کو اردو اخبارات میں وہی مقام حاصل ہے جو انگلینڈ میں جان والٹر اور بارمس ورتھ کو حاصل تھا۔ 1887 میں لکھنؤ سے ایک بڑا اخبار اودھ پنچ منظر عام پر آیا اور اس اخبار نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے اس کے لکھنے والوں میں پنڈت تربھون ناتھ ہجر ؔ ، منشی جوالا پرشاد برق ؔ ، اکبر الہ آبادی قابل ذکر صحافی ہیں۔