فرقہ پرستی عروج پر ہے لوک سبھا الیکشن قریب آتے آتے زہرآلود سیاست اور تعصب پر مبنی پر تشدد وارداتوں میں مزید اضافہ ہوجائیگا

سہارنپور ( احمد رضا) وزیر اعظم مودی ، بھاجپاکے قومی صدر امت شاہ، گری راج سنگھ، ونے کٹیار، سنجیو بالیان، سیگیت سوم، وکرم سینی، راجویر سنگھ اور ہمارے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیانات ہمیشہ ایک فرقہ کو جوش دلانے اور مسلم فرقہ کو طنز کرنیوالے ہوتے ہیں جہاں دہلی، میرٹھ ، رام پور، مراد آباد، آگرہ میں وزیر اعلیٰ یوگی ایک طبقہ کو سیدھے الفاظ میں سدھر جانیکی دھمکیاں دیتے ہیں وہیں وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپائی سربراہ امت شاہ لکھنؤ،جے پور، اجمیر، بنگلور، ممبئی، گوا، چیننئی اور اتراکھنڈ کے بہت سے اضلاع میں کشمیری پتھر بازوں اور پاکستان کی گولہ باری میں شہید ہونیوالے ہمارے اپنے فوجیوں کی شہادت پر مسلم طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے اکثریتی افراد کو جوش دلانے میں پیچھے نہی رہتے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں سے ملک میں فرقہ پرستی عروج پر ہے اور جیسے جیسے لوک سبھا الیکشن قریب آئیگا یہ طنزیہ سیاست اور تعصب پر مبنی پر تشدد وارداتوں میں مزید اضافہ ہوجائیگا مرکزی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ نے بھی یہ ماناہے کہ موجودہ سرکار میں تشدد پر مبنی ہندو مسلم وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے؟ہندو شدت پسند ملک میں فرقہ پرستی کی آگ بھڑکاکر ۲۰۱۹ کا لوک سبھا چناؤ جیت نے کی راہیں کھوج رہے ہیں تبھی توآٹھ ماہ بعد ہی یوگی جی اپنے ۳۰ سال پرانی عادت اور فطرت پر اتر آئے ہیں ، آجکل کاس گنج فساد پر ایک سازش کے تحت مسلم طبقہ کو ملزم بنائے جانے میں زیادہ تر کردار بھاجپائی قیادت کے سینئر ذمہ داران گری راج سنگھ، ونے کٹیار، سنجیو بالیان، سنگیت سوم، وکرم سینی، سشیل رانا، راجویر سنگھ جیسے بھگوا سوچ والے افراد نے ہی ادا کیاہے قتل ہندو نے کیا الزام مسلم طبقہ پر لگادیاگیاہے یہ کیسا دستور یہ کیسا قانوں؟ریاستی وزیراعلیٰیوگی ان دنوں وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کامہرہ بنے ہیں اور ایک خاص طبقہ کے خلاف قابل مذمت بیانات دینے لگے ہیں جو افسوسناک عمل ہے مسلم فرقہ کے دلوں کو درد دینے والی ہر زہر آلودہ اور غیر مہذب کارکردگی کی کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں!گزشتہ سال ۲۷، اگست ۲۰۱۳ مظفر نگر فسادات اور اسکے بعد ۲۰۱۴ سہارنپور کے ۲۶، جولائی کو ہونیوالے فساد کے بعدکمشنری کے آلودہ حالات کو کنٹرول کر نے میں مظفر نگر، شاملی اور سہارنپور کا ضلع انتظامیہ ناکام رہاتھا اور شہرکے امن کو کافی خسارہ پہنچاتھا اور آپسی بھائی چارہ کو بھی کافی چوٹ پہنچی تھی درجنوں جانیں ضائع ہوجانیکے ساتھ ساتھ ستر کروڑ سے زائد کامالی نقصان بھی ہوا اور ایک لاکھ سے زائد آبادی گھروں سے بے گھر ہوگئی تھی مگر آج عام چرچہ ہے کہ اب ہماری یوگی سرکار فسادات سے منسلک قریب قریب چار سو فوجداری مقد مات جو سخت ترین مسلم کش فسادات سے جڑے ہیں انکے تمام ہندو ملزمان سے فوجداری مقدمات واپس لینے کی مکمل تیاری کر چکی ہے جو بیحد ہی افسوسناک حکمت عملی ہے؟
آج لکھنؤ میں پریس کیلئے جاری ایک اہم بیان میں دلتوں، مسلم پچھڑوں، پسماندہ طبقات اور سبھی قبائلی برادریوں کی بہتری اور سدھار کیلئے کافی عرصہ سے سرگرم قائدین احسان الحق ملک اور شیو نارائن کشواہا، سینئر وکیل دیوندر سنگھ ، اجے پال ،آر پی نشاد اور انجینئر رام پال نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار کی نرمی کے سبب ک بھاجپائی پورے ملک میں اندنوں اس طرح کے بیہودہ اور دل آزاری کرنیوالے بیانات دے کر مسلم فرقہ کو قومی دھارا سے الگ تھلک کرنے کی سازشیں کر رہیہیں جو قابل مذمت عمل ہے ہماری مانگ ہے کہ اس طرح کے الزامات، بیہودہ بیانات اور طنزیہ جملوں کی جانچ لوک سبھا چناؤ سے قبل بیحد ضروری ہے ہمارے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کوبھی ایسے بیانات پر نوٹس لینا چاہئے! یاد رہے کہ گزشتہ چار سالوں سے لگاتار سہارنپور بڑوت، سہارنپور میرٹھ، سہارنپور امبالہ اور سہارنپور سے ہوکر نجیب آباد ریلوے ٹریک پر لگاتار چلنیوالی مسافر ٹرینوں میں اس طرح کے واقعات عام ہیں مگر افسران تماشائی بنے ہوئے ہیں جس وجہ سے مسافروں کے چہروں میں خوف صاف نظر آنے لگاہے؟ ریلوں میں اس طرح کی مارپیٹ کے افسوسناک واقعات میں گزشتہ چارسال کی مدت میں کافی اضافی دیکھنے کو ملاہے یہ بھی قابل فکر بات ہے کہ شکایت ملنے کے بعد بھی ریلوے پولیس اور انتظامیہ مسافروں کے ساتھ انصاف کرنے میں مکمل طور سے ناکام ہیشاید اسی لئے جرائم پیشہ افراد کے حوصلہ بلند ہیں نیز ملک میں خاص طور سے ریاست میں نسلی تشدد، مذہبی حسد ،قاتلانہ حملہ ، چھینا جھپٹی ،چوری اور لوٹ پاٹ جیسی بڑھتی جرائم کی وارداتوں نے اندنوں عام شہری کو خون کے آنسو رونے کو مجبور کر دیاہے بھینسو ں سے بھرے چھوٹے موٹے ٹرک یاپک اپ مخبری کئے جانیکے بعد پولیس دبش دیکر مختلف ا ضلاع کے بیشتر علاقوں سے جبریہ طریقہ پر پکڑتی آرہی ہے اور اکثر مسلم اور پچھڑی ذات کے ڈرائیوروں کو مارتے پیٹتے رہتے ہیں مگر پولیس چپ رہتی ہے قانون کے دائرے میں رہکر کئے جانیوالے سہی کاموں کو بھی اندنوں غیر قانونی قراد دیکر مسلم اور دلت طبقہ کو نشانہ بنایا جارہاہے جو ایک بڑی سازش کا ہی حصہ ہے آجکل ملک کے سیکڑوں شہری علاقہ اور گاؤں اسی طرح کے واقعات سے بھرے ہیں شدت پسند ہندو کارکنان اس طرح کی افواہیں پھیلاکر اکثر ماحول کو گرما نے میں لگے وہیں ایک ٹرک سے کچھ زندہ اور کچھ مردہ بھینس بر آمد کی گئی تو افواہیں پھیلادی گئیں کہ گؤ کشی گؤ کشی بھاری بھیڑ جمع ہوگئی مگر صاف ذہن ہندومسلم عوام کی سوجھ بوجھ سے معاملہ وقتی طور سے نپٹادیاگیاہے اکثر ہمارے ہندی اخبارات اور گؤ رکشک سمیتی کے ذمہ دار بلاوجہ دودھ والی بھینس اور کھیتی کیلئے آنیوالے بیلوں کو بھی کٹان کے لئے لائی جارہی گائیں بتاکر ا ور ان بھینسوں، بیلوں اور بچھڑوں سے بھرے چھوٹے پک اپ اور ٹرالی کو پولیس کے سامنے قبضہ میں لے لیتے ہیں یہ شاطر پہلے ڈرائیور کی پٹائی کرتے ہیں پھر بھینسیں ضبط کر لیتیں ہیں اس طرح کی حرکات سے عوام میں جہاں خوف وڈر پھیلاہے وہیں پولیس بھی جانوروں کے پکڑے جانے کی بعد اکثر گؤ کشی کے جھوٹے الزم ہی عائد کرتے ہوئے ڈرائیور، کلینرس، ایجنٹ اور ہیلپرس کوہی اصل ملزم بناکر انکے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرلیتی ہے! پولیس کے اس ایکشن سے فرقہ پرستوں کو خوشی ملتی ہے دوسری جانب بیقصور افراد بلاوجہ آفت سے گھر جاتے ہیں اس طرح کے معاملات ہماری کمشنری کے مختلف علاقوں میں عام ہیں مگر اعلیٰ افسران چپ ہیں عام چرچہ یہ بھی ہیکہ لوک سبھا چناؤ سے قبل بقرعید کے خاص موقع پر اس طرح کی حرکات بہت ہی خطرناک سازش کا حصہ بتائی جارہی ہیں ملک میں مذہبی جنوں کو آر ایس ایس،بھاجپا، وشوہندو پریشداور بجرنگ دل اور انکے قائدین کی جانب سے لگاتار ہوا دیکر بڑھا یا جا رہاہے فرقہ وارانہ وارداتومیں اور فرقہ واریت پر مبنی بیان بازی میں بھی بے تحاشہ اظافہ ہوتا جا رہاہے فرقہ پرستی کو ساکشی مہاراج، یوگی آدیتہ ناتھ ، سنگیت سوم اور سشیل رانا،سادھوی پراچی،پروین توگڑیا، ونے کٹیار جیسے بھاجپا نیتا لگاتار بڑھا واہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو للکارنے کا گھنونہ کام بھی انجام دے رہے ہیں سب سے شرمناک بات تو یہ ہے کہ ملک کے ماحول کو بگاڑنے اور اقلیتی فرقہ کے خلاف زہر افشانی کرنے میں مرکزی سرکار کے وزیر مہیش شرما،گری راج سنگھ اور سنجیو بالیان کی حصہ داری بہت زیادہ ہییہی بڑبولہ پن آج اس عظیم ملک اور امن پسندقوم کی ایکتا ،خوشحالی اور بھائی چارہ کے لئے خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ شاید پھر سے اپنے ہی ملک کو بانٹنے کی بیہودہ سازش کا ہی ایک حصہ ہے!
پچھڑی اور دلت سوشل تنظیم کے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک ، آر پی نشاد، اجے پال اور شیو نارائن کشواہانے کہاکہ اب تک ملک میں جتنے بھی فرقہ وارانہ فساد رونماء ہوئے ہیں ان میں سنگھی گروہ اور فرقہ پرست تنظیموں کا زبردست رول رہا ہے اس بات کا خلاصہ صوبائی سرکار کے زریعہ کرائی گئی جانچ میں بھی ثابت ہو چکاہے کہ چندلوگ ہی فر قہ پرستی کو بڑھاوادینے میں آگے آگے ہیں مسلمانوں کو پہلے جوش دلاؤ پھرایک دوسرے سے لڑاؤ، حالات بگڑنے کے بعد مسلمانوں کی خوب پٹائی کراؤاور جب فورسیز مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے گروں میں دبک کر بیٹھ جاؤاور پھر مظلوم مسلمانوں کو بیچ سڑک پر کھڑا کر کے بھاگ جاؤ بس یہ ہے ہمارے قائدین اور سیای جماعتوں کے لیڈرا ن کی ہنر مندی آخر یہ کس طرح کی ذہنیت آخر کیو ں مسلمانوں کے ساتھ آزادی سے آج تک یہی کھیل کھیلا جارہا ہے دوسری جانب آجکل کمشنری کیعام بازاروں، گھنی آبادی والے علاقوں، میرج ہال، سول لائن، پاش کالونیوں، آفیسرس کالونیوں اور بازاروں کے علاوہ اہم ترین شہری علاقوں میں چوری، چھینا جھپٹی، اغوا اور لوٹ مارکی بڑھتی وارداتوں نے ضلع کے عوام کو ہلاکرکر رکھ دیاہے پولیس کے سینئر افسر لاکھ دعوے کریں مگر سچائی یہی ہے کہ اندنوں بدمعاش بے خوف رہکر جرائم کی وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں مگر سرکار ادھر توجہ نہ دیکر صرف تعصب پھیلانیوالوں کی پشت تھپ تھپارہی ہے!سوشل قائدین احسان ملک اور شیونارائن کشواہا کے علاوہ سینئر وکیل دیوندر سنگھ، پال سماج کے رہبر مہیش پال نے یہ بھی صاف کہاکہ ریاستی چیف منسٹر کے عہدے کا احترام نہ رکھتے ہوئے یوگی جی مودی اور امت شاہ کی پلاننگ کو عملی جامہ پہنانیکی تیاری میں مصروف ہیں تبھی تو آئین کے عین برعکس اور مسلم طبقہ کی دل آزاری والے بیانات دینے لگے ہیں! نے صاف طور سے کہا ہے کہ بھگوا کارکنان اور قائدین کی یہ کارکردگی ریاست کو بد امنی کے راستہ پر لیجارہی ہے ہم سبھی کو ملکر اور ہندومسلم ایکتاکا ثبوت دیکر فرقہ پرستوں اور امن کے دشمنوں کی اس چال کو ناکام کرناہوگا ! ریاستی سطح پر ہر تھانہ میں ہنومان جی اور شیوجی کی مورتیوں کو نہلایا اور پوجا جانا عام ہوگیاہے پبلک مقامات پر اور سرکاری دفاتر کی مین لین پر بھی مورتیوں کا قائم کیاجانا ، پوجا پاٹھ اور مساجد کے سامنے واقع مندروں میں بھی اکثر فجر، عصر اور مغرب کی آزاان کے وقت مائک پر بھجن کیرتن کیا جانا بھی اب کھلے عام روزانہ کا معمول بن گیاہے مگر سرکار اور انتظامیہ خاموش بیٹھی ہے! قائدین کا کہناہے کہ ہم سبھی ہندو مسلم مل جل کر ساتھ ساتھ رہنا چاہتے ہیں مگر دس فیصد لوگ ہمیں لڑانے پر بضدہیں اسی سازش کو ناکام بنانیکے لئے اب امن ضروری ہے ہمارا آپسی پیار بھرا اتحاد ضروری ہے اسکے ساتھ ساتھ ہم سبھی کیلئے آج صبر بھی ضروری ہوگیاہے امن پسند عوام کاجوش ان سازش کرنیوالوں کو طاقت دیگا جوش کو پیچھے دھکیل کرافوہوں اور بیہودہ بیانات کو نظر انداز کرنا سیکھ لو تبھی نسلی اور فرقہ پرستی کے زہر کو ختم کیا جاسکتاہے! ضلع کے حالات دیکھ کر لگنے لگاہے کہ ایک خاص سیاسی سوچ اور خاص طبقہ کے چند مفاد پرست لوگ اس طرح کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی فراق میں بیٹھے ہوئے ہیں جو امن کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں!