لشکرکے نام پر این آئی اے نے ایک اورمسلما ن کو کیا گرفتار، چھ دن کی حراست میں  قومی سلامتی ایجنسی کی نظر اب خطہ علم و ادب دیوبند ، سہارن پور اور اطراف پر سخت ہوگئی 

نئی دہلی 7فروری : قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کی بھارت میں سرگرمیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں اتراکھنڈ سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ ایجنسی کے ایک سرکاری ترجمان نے آج یہاں بتایا کہ معاملے میں پانچویں ملزم عبدالصمد کو کل ہری دوار سے گرفتار کر دہلی لایا گیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اتراکھنڈ کے ہری دوار ضلع کے بوکن پور گاؤں کے رہائشی عبدالصمد کو کل یہاں ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جسے دہشت گرد انہ سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے معاملے میں چھ دن کے لئے این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے ۔ خصوصی جج ترون سہراوت نے 22 سالہ عبدالصمد کو ایجنسی کی حراست میں بھیج دیاہے ، ایجنسی نے عدالت سے کہا تھا کہ ملزم سے پوچھ گچھ کے لئے اسے حراستی تحویل میں لینے کی ضرورت ہے۔ این آئی اے کے ترجمان نے الزام لگایا کہ عبدالصمد ایک مخصوص حوالہ آپریٹر ہے جو مظفرنگر، دیوبند اور روڑکی جیسے علاقہ جات میں اپنی سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے ۔ وہ سعودی عرب میں رہنے والے اپنے رشتہ دار کے ذریعے وہاں موجود لشکر طیبہ کے ایک خصوصی سرغنہ کے لئے کام کر رہا تھا۔ نومبر 2017 میں اس نے لشکر طیبہ کے فعال رکن شیخ عبدالنعیم تک فنڈز کی فراہمی کے لئے اتر پردیش کے مظفرنگر میں دوسرے فعال رکن کے ذریعہ مبینہ طور پر ساڑھے تین لاکھ روپے اکٹھے کئے تھے۔ این آئی اے نے بتایا کہ شیخ عبد النعیم نے اپنے پاکستانی سرپرست عبد الرؤف ریحان کی ہدایات پر بہار، اڑیسہ، اتر پردیش اور جموں و کشمیر کا دورہ کر کے وہاں اپنا اڈہ بنایا ہے ۔ عبدالصمد کے علاوہ این آئی اے شیخ اور بہار کے گوپال گنج کے رہائشی دھنو راجہ اور محفوظ عالم اور جموں و کشمیر کے پلوامہ سے توصیف احمد ملک کو گرفتار کر چکی ہے۔