شراب کے بیوپاری وجے مالیا کے قرض کے متعلق سرکار کے پاس کوئی جانکاری نہیں، ہمارے پاس معلومات نہیں ، وزارت خزانہ کادلچسپ جواب

نئی دہلی7فروری :وجے مالیا کو لے کر وزارت خزانہ نے مرکزی انفارمیشن کمیشن سے کہا ہے کہ اس کے پاس صنعت کار وجے مالیا کو دیئے گئے قرض کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ اس پر انفارمیشن کمیشن نے کہا کہ وزارت کا جواب’مبہم اور قانون کے مطابق
ناقابل یقین ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر آر کے ماتھر نے راجیو کمار کھرے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے افسران سے کہا کہ درخواست گزار کی طرف دیئے گئے درخواست کو پبلک اتھارٹی میں منتقل کیا جائے۔ وزارت خزانہ کے حکام اگرچہ دعویٰ کریں کہ ان کے پاس مالیا کو مختلف بینکوں کی طرف سے دیئے گئے قرض یا ان کے قرض کے بدلے میں مالیا کی طرف دی گئی ضمانت کے بارے میں معلومات نہیں ہے، لیکن وزارت نے ماضی میں اس سلسلے میں سوالات کا پارلیمنٹ میں جواب دیا تھا۔ مرکزی فنانس وزیر سنتوش گنگوار نے 17 مارچ 2017 کو مالیا پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کا تھا کہ جس شخص کے نام کا ذکر کیا گیا تھا (مالیا کو) اسے2004 میں قرض دیا گیا اور فروری 2008 میں اس کاجائزہ بھی لیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ سال 2009 میں 8040 کروڑ روپے کے قرض کو این پی اے قرار دیا گیا اور 2010 میں این پی اے کے لیے رسٹریکچر کیا گیا۔گنگوار نے 21 مارچ کو راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ پی ایس بی نے جیسا رپورٹ کیا، قرض ادائیگی میں چوک کرنے والے مقروض وجے مالیا کی ضبط کی گئی جائیداد کی میگا آن لائن نیلامی کے ذریعے فروخت کر کے 155 کروڑ روپے کی رقم وصول کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 17 نومبر 2016 کو نو ٹ بندی پر ایوان بالا میں بحث کے دوران مالیا کے قرض مسئلے کو ’خوفناک ور ثہ ‘بتایا تھا جو این ڈی اے حکومت کو سابقہ یو پی اے حکومت سے وراثت میں ملی تھی ۔ اگرچہ کھرے کو وزارت خزانہ سے اپنے آرٹی آئی درخواست کا جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد انہوں نے سی آئی سی کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔