جعلی کرنسی مقدمہ دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوان بری ،لیکن جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں ایک باعزت بری ،دو کوچھ سال کی سزا جمعیۃعلماء ہندنے قانونی امدادفراہم کی ،عدالت کا فیصلہ خوش آئند :مولانا ارشدمدنی

ممبئی۷؍ فروری
ممبئی کی خصوصی سیشن عدالت نے آج یہاں دہشت گردی کے الزام سے تین مسلم نوجوانوں کو ایک جانب جہاں بری کردیا وہیں جعلی نوٹ رکھنے کے الزام میں دوملزمین کو چھ سال کی سزا سنائی ، حالانکہ ملزمین اب تک جیل میں چھ سال سے زائد کا عرصہ گزارچکے ہیں ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزاراعظمی نے مزید بتایا کہ ممبئی کی سیشن عدالت کے جج وی پی اہواڑ نے ہارون عبدالرشید نائیک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو دہشت گردی کے قانون یواے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والا قانون) سے بری کردیا جبکہ کے انہیں جعلی کرنسی رکھنے کے تحت تعزیرات ہند کی دفعہ 489-Cکے تحت چھ سال کی سزاسنائی ۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے اس فیصلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مسلم نوجوانوں پر سے دہشت گردی کے الزام کو مسترد کردیا جو انسداد دہشت گرد دستہ کے لیئے باعث ہزیمت ہے نیز وہ عدالت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس فیصلہ سے عوام بالخصوص اقلیتوں میں عدلیہ کے وقار میں مزیداضافہ ہوگا اورحصول انصاف کی امید لئے عدالتی جنگ لڑ رہے بے قصور افراد کو حوصلہ ملے گا۔
گلزار احمد اعظمی نے بتایا کہ عدالت نے ملزم اظہر الاسلام ، محمد صدیق کو تمام الزامات سے بری کردیا جبکہ ملزمین ؂ہارون عبدالرشید نائیک ، اسرار احمد عبدالحمیدکو جعلی کرنسی رکھنے کا مجرم پایا گیا اور انہیں چھ سال کی سزااور دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر نے ملزمین کی پیروی کی جبکہ استغاثہ کی جانب سے ایڈوکیٹ روہنی سالیان نے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیئے نیز استغاثہ کی جانب سے عدالت میں ملزمین کے خلاف ۲۹؍ سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات کا اندارج کرایا جبکہ ملزمین کے حق میں دفاعی وکلاء نے ۸؍ گواہوں کو عدالت کے روبرو پیش کیا جس میں ملزمین کی اپنی گواہیاں بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہاس معاملے میں ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATS نے سال ۲۰۱۱ء میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانونیّ(یو اے پی اے) کی مختلف دفعات سمیت دیگر قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین پر الزام عائد کیا تھاکہ ان کے قبضہ سے غیر قانونی جعلی ہندوستانی کرنسی ضبط کی گئی تھی جس کا استعمال وہ دہشت گردانہ معاملات میں کرنا چاہتے تھے نیز انہیں یہ کرنسی سرحد پار سے مہیا کرائی گئی تھیں۔
جمعیۃعلماء قانونی امدادکمیٹی کے سکریٹری جناب گلزاراحمد اعظمی نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور اپنے سینئر وکلاسے صلاح ومشورہ کے بعد عدالت کے اس فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے