پرتاپ گڑھ ضلع میں خاتون کے ساتھ وحشیوں نے خوفناک واردات انجام دیا ۔ جسم چاقوئوں سے گودا دیاگوشت باہر لٹک گیا,اپنی عصمت بچانے کی مخالفت پر مسلم خاتون رابعہ کے ڈنڈے او رلوہے کی سلاخ سے پیٹ پیٹ کرہاتھ پیر توڑےگئے ،

الہ آباد۔۵؍فروری:یوپی کے پرتاپ گڑھ ضلع میں  خاتون کے ساتھ وحشیوں نے خوفناک واردات انجام دیا ہے۔ اپنی عصمت بچانے کی مخالفت پر مسلم خاتون رابعہ کے ہاتھ پیر توڑڈالے اور پورے جسم کو چاقوئوں سے گود دیا۔ سنگین حالت میں علاج کے الے اسپتال لے جا

گیا

یا

  جہاں اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ یہ واقعہ ٹھیک اسی طرح کا ہے جس طرح کی حیوانیت نربھیا کے ساتھ ہوئی تھی۔ خاتون کے ساتھ ہوئی حیوانیت دیکھ کر پولس اور ڈاکٹروں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے، پولس کے مطابق ڈنڈے او رلوہے کی سلاخ سے پیٹ پیٹ کر خاتون کے ہاتھ پیر توڑے گئے ، جسم کا کافی حصہ ہڈی کے ٹوٹنے کی وجہ سے گھوم گیا تھا، جبکہ باقی جسم چاقوئوں سے گودا ہوا تھا جس کی وجہ سے گوشت باہر لٹک رہے تھے۔ قاتل اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے لیکن جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو وہ زندہ تھی لیکن شدید زخمی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹراسے جانبر نہ کرسکے۔ پولس کے مطابق خاتون نے اسپتال میں اپنا آخری بیان دیا ہے۔ نصف درجن درندوں نے عصمت دری کی کوشش کی تھی لیکن خاتون کی مخالفت کی وجہ سے جب وہ کامیاب نہیں ہوئے تو اسے بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پڑوسیوں کی اطلاع پر پولس نے خاتون کو اسپتال پہنچایا ، لیکن حالت کی سنگینی کیو جہ سے اسے الہ آباد ریفر کردیاگیا ۔ اسپتال میں خاتون نے اپنا بیان بھی دیا ہے لیکن اس کی جان نہیں بچ سکی۔ اطلاع کے مطابق پرتاپ گڈھ کے ٹیونگائوں کی رابعہ (۴۲) پاس کے ہی انگلش اسکول میں ٹیچر تھی وہ پڑھی لکھی اور اپنے پیر پر کھڑی خاتون تھی۔ اس کے اہل خانہ دلی میں رہتے تھے اور ہیں وہ یہاں اکیلی رہ رہی تھی، سنیچر کی رات میں نصف درجن لوگ اس کے گھر میں گھسے اور عصمت دری کی کوشش کی ۔ رابعہ نے اپنی طاقت کے مطابق اس کی مخالفت کی اور وحشیوں کو ان کے منصوبے میں کامیاب نہیں ہونے دیا، رابعہ کی مخالفت پر وحشیوں نے لاٹھی، ڈنڈے اور لوہے کی راڈ سے اس کے ہاتھ پیر توڑڈالے۔ چیخ وپکار سن کر پڑوسی رابعہ کے گھر کی جانب دوڑے تو اسے مردہ سمجھ کر قاتل فرار ہوگئے۔ گھر کے اندر جب پڑوسی پہنچے تو رابعہ کا حال دیکھ کر ہر کوئی سہم گیا، رابعہ کا جسم پوری طرح سے خون سے لت پت تھا، آنا فاناً پولس کو اطلاع دی گئی اور اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیاگیا ۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ دلی میں رابعہ کے اہل خانہ کو اس کی اطلاع دی گئی ہے اور وہ گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔ ابھی تک پولس کو تحریر ن ہیں مل سکی ہے لیکن اس واردات کے بعد گائوں والوں نے گائوں کے ہی بدمعاشوں پر حیوانیت کا الزام لگایا ہے پولس کے مطابق گائوں والوں نے گائوں کے بدمعاش گڈو پاسی اور مدن پاسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جنہوں نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ رابعہ کو اپنی ہوس کا شکار بنانا چاہا او رناکام ہونے پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ گائوں والوں نے بتایا کہ گڈو اور مدن آئے دن گائوں میں چھیڑ چھاڑ کی حرکت کرتے تھے، کسی کی بھی بہن بیٹی کا ہاتھ پکڑ لینا ان لوگوں کے روز کا معمول تھا کچھ دن قبل ہی گائوں والوں نے ان دونوں کی جم کر پٹائی کی تھی حالت سنگین ہونے پر ان بدمعاشوں کو اسپتال لے جایا گیا لیکن پولس نے ان پر کارروائی نہیں کی اور نتیجتاً ایک بار پھر سے ان کی حیوانیت جاگی اور رابعہ کو نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اگر پولس پہلے کارروائی کی ہوتی تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور رابعہ زندہ ہوتی۔