ملک میں تعصب پر مبنی پر تشدد وارداتوں میں اضافہ قابل مذمت بھاجپا ئیوں کی تر نگا یاترا کا مقصدمسلم فرقہ کو دہشت زدہ رکھنا ۔  شیو نارائن کشواہا

سہارنپور ( خاص خبراحمد رضا) کل راجیہ سبھا میں پروفیسر رام گوپال ورما نے بیباک لہجہ میں بھرے ہاؤس کے سامنے یہ کہ ہی دیا کہ ہندو ہی ہندو کو مارتاہے مگر الزام لگایا جارہاہے مسلم افراد پر یہ قومی سلامتی کیلئے خطرے کا سنگل ہے یہ سچ ہے کہ پروفیسر رام گوپال یادو کی حمایت میں کانگریس کے ممبران بھی پیش پیش رہے مگر بھاجپائی ممبران یا ہاؤس کے سربراہ پروفیسر کے اس باوزن الزام کا جواب نہی دے پائے ملک میں گؤ کشی، ترنگا یاترا، تعصب، قوم پرستی اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں پر کئے جانے والے جبر نے دستور ہند کو آئینہ دکھاتے ہوئے انسا نیت اور رواداری کی سبھی حدیں لانگھ دی ہیں جس وجہ سے آج شہر درشہر، قصبہ درقصبہ اور محلہ در محلہ عدم روادی کے معاملات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے گزشتہ دنوں کاس گنج میں ترنگا یاترا کے دوران ہندو انتہا پسندوں نے جو کھیل کھیلا اسکی سبھی نے مذمت کی مگر جھوٹے الزام لگاکر پھنسادیاگیاہے بے قصور مسلمانوں کو ! مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر سوشل قائدین شیو نارائن کشواہا اور کامریڈ عبید الرحمان کا کہناہے کہ بھاجپا راجستھان کے چناؤ نتائج سے بوکھلاگئی ہے مرکز کو ہتھیانے کے مقصد سے امسال بھاجپائی نیچے سے نیچے کی سطح تک جاسکتے ہیں اسلئے ہم سب کیلئے ضروری اور بہت ضروری ہے حوش مندی اور صبر؟
قابل ذکر امر ہیکہ کاس گنج میں کشیدگی اور زبردست تناؤ کے بعد بھی ہندو انتہاپسندوں کا بغیر اجازت آگرہ، علیگڑھ، فیروزآباد اور کانپور کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ترنگا یاتارائیں نکالنا اس بات کا پختہ اشارہ ہے کہ یہ سبھی کچھ ۲۰۱۹ کو لوک سبھا الیکشن جیتنے کا ایکشن پلان ہے جو پورے ملک میں ا مت شاہ، مودی اور یوگی پلان کے نام سے مسلم اکثریتی علاقوں میں لاگو کیاگیاہے اس کام میں دس ہزار کٹر ہندو وادی ذہنیت رکھنیوالے والینٹرس سرگرم ہیں جو ایک خاص پالیسی کے تحت ماحول کو ہندو مسلم بناکر ہندو ووٹرس کو متحد کرنیکا تانابانا تیار کر رہے ہیں ایسے حالات میں جگہ جگہ تعصب پر مبنی پر تشدد وارداتیں ہونا کوئی نئی بات نہ ہوگی ایسے حالات میں مسلم طبقہ کو سینے پر پتھر رکھ کر صبر سے کام لینا ہوگا تبھی سیکولر ہندو قائدین خد بہ خد بھاجپائیوں کی اس گندی سوچ کیخلاف ہمارے ساتھ آکر کھڑے ہو جائیں گے سینئر سوشل قائدین شیو نارائن کشواہا اور کامریڈ عبید الرحمان نے یہ بھی کہاکہ اگر مسلم طبقہ بھی ان انتہا پسندوں کے سامنے مشتعل ہوگیا تو پھر یہ بھاجپائی اپنے مقصد میں کامیاب ہوہی جائیں گے وقت ہے حکمت سے کام لینے یہ پورا سال صبر کا ہے اگر ہندو انتہا پسندی کو نیست ونابود کرناہے تو صبر اور بیداری سے کام لینا بے حد ضروری ہے؟سوشل قائد شیو نارائن کشواہا اور کامریڈ عبید الرحمان کا کہناہے کہ بھاجپا راجستھان کے چناؤ نتائج سے بوکھلاگئی ہے مرکز کو ہتھیانے کے مقصد سے امسال بھاجپائی نیچے سے نیچے کی سطح تک جاسکتے ہیں اسلئے ہم سب کیلئے ضروری اور بہت ضروری ہے حوش مندی اور صبر؟
سینئر سوشل قائدین شیو نارائن کشواہا اور کامریڈ عبید الرحمان نیکہا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی انکی کابینہ کے درجن بھر وزراء اور یوپی کے وزیر اعلیٰ۲۰۱۷ ودھان سبھا الیکشن میں فتح کرنیکے بعد سے ہی لگاتار یہ کہتے اور بار بار دہراتے رہے ہیں کہ وہ ملک میں راشٹر واد لانا چاہتے ہیں اور راشٹر واد کی آڑ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کیا جائیگا ، خاموش زبان سے بھگوا بریگیڈ اکثر مسلمانوں کو ملک کا تیسرے درجہ کا شہری مانتی اور کہتی رہی ہے اس گروپ نے ہمیشہ ہی ملک کے تیس کروڑ مسلم فرقہ کی دل آزاری کی اور ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا آزادی کے بعد سے کچھ بھگوا سوچ کے پولیس اور خفیہ یونٹ کے افسران بھی مسلم فرقہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے لگے مگر جب سے مرکز میں این ڈی اے سرکار آئی ہے تب سے اس طبقہ پر کچھ زیادہ ہی سختی کردیگئی ہے اور پچھلینو ماہ سے یوپی میں قائم یوگی سرکار نے تو مسلم طبقہ کی آزادی پر ہی شکنجہ کسنا شروع کردیاہے دیوبند ،چرتھاول، مظفر نگر اور شاملی سے اکثر دہشت پھیلانے کے نام پر بنگلہ دیشی طالب علموں اور نوجوانوں کو خفیہ یونٹ نے گرفتارکیا مگر عدالت نے سبھی کو سالوں کی سخت عدالتی کاروائی کے بعد ثبوتوں کی کمی سے باعزت بری کردیا کزشتہ روز پورے ملک میں پھر سہارنپور ، دیوبند ، شاملی اور چرتھاول سے مسلم دہشت پسند نوجوانوں کو گرفتار کرلینکا دعویٰ کیا گیاہے ہندی اخباراتکے ساتھ ساتھ اردو اخبارات نے بھی بغیرجانچ پڑتال کئے پولیس ، اے ٹی ایس اور انتظامیہ کی خبروں کو سرخی بناکر ملک ہی نہی پوری دنیامیں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر پیش کردیاہے جو ایک مہذب سماج کے لئے اسلئے باعث شرم ہے کہ جبتک عدالت ملزم یا مجرم ثابت نہی کردیتی تب تک آپکا کسی بھی مشتبہ شخص کو دہشت گردوں سے منسلک کرنا بیحد افسوسناک عمل مانا جائیگاہے !
یوپی کے سینئر ایڈوکیٹ کامریڈ عبید الرحمان اور پچھڑا سماج مہاسبھا کیجنرل سیکریٹری قائد شیو نارائن کشواہانے زور دیکر کہاکہ جو کچھ بھی مرکز کی مودی اور ریاست کی یوگی سرکار حکمت عملی اپنا رہی ہے اسکا سیدھا سا مطلب ملک کے تیس کروڑ مسلم طبقہ کی آزادی پر شکنجہ کسناہے تاکہ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے خلاف کوئی بھی اپوزیشن میں آواز نہ اٹھاسکے اور بھاجپائی جیساچاہے قانون پاس کریں یا دستور ہند میں ترمیم کریں بھاجپائیوں کاملک کو کانگریس سے آزادی دلادینیکا کا نعرہ ہی ہندو راشٹرا کا سیدھا اشارہ ہے! سوشل قائد شیو نارائن کشواہانے کہاکہ جن کٹر وادیوں نے انگریزوں کی پیٹھ تھپتھپائی، گاندھی کو قتل کرایا اسی آر ایس ایس نے آزادی کے بعد ہی سے ایک سازش کے تحت ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ دوغلہ اور تیسرے نمبر کا شہری ثابت کرنیکی بیہودہ کوششیں کیوہی اپنے منھ سے راشٹر واد کی باتکر رہے ہیں کیا مسلم طبقہ کو مارنا ، فرضی مقد مات میں پھنسانا اور دہشت گرد بتاناہی بھاجپا اور آر ایس ایس کا اصل راشٹر واد ہے! سوشل قائد کشواہا نے کہاکہ ملک کے ساتھ یا ملک کی سچی اور صاف ستھری قیادت کے ساتھ کبھی مسلم یا دلت فرقہ نے دھوکہ نہی کیا جبکہ اعلیٰ ذات کے افراد نے پچھلی کئی صدیوں سے ملک کے دلتوں اور اقلیتی فرقہ کے افراد کا جینا مشکل کر رکھاہے اور یہ سلسلہ آجبھی جاری ہے کشواہانیکہاکہ بھاجپائی غنڈوں اور مافیاؤں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی بھی صورت جرائم پر جرائم انجام دینے میں سرگرم ہیں پولیس اور انتظامیہ بھی اکثر مسلمانوں اور دلتوں کو گؤ کشی کے نام پر مارنا خاص طور سے یوپی میں پولیس کے مقابلہ گؤ رکشکوں، راشٹر وادیوں کی غنڈہ گردی اور مافیائی گروہ کار اج کاج بھاجپائی سرکاروں کی پولیس اور انتظامیہ کی چھوٹ کے باعث پھل پھول رہا ہے دیش بھگتی، گؤ کشی اور نسل پرستی کی آڑ میں مسلم طبقہ کے ساتھ ساتھ دلت فرقہ پر بھی زندگی تنگ کیجارہی ہے مرکز کی بھاجپا سرکار کی شہ پر بھاجپا کی قیادت والی سبھی ریاستی سرکاریں اقلیتی طبقہ اور دلتوں کا تحفظ کرنے میں بری طرح سے ناکام ہیں ملک میں بھاجپائی دہشت پسندوں کی اپنی پراؤیٹ سرکار چلتی نظر آرہی ہے کہ جہاں دستور ہند اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہاہے !