اسلامی شریعت میں مداخلت ناقابل قبول، معاشرتی خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت: اسامہ قاسمی کاسگنج میں جمعیۃ ریلیف کمیٹی کے ساتھ لیگل سیل قائم کرکے بے قصورو ں کی قانونی پیروی شروع: مولانا حکیم الدین قاسمی جمعیۃ علماء اترپردیش کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد، ۱۰؍مارچ کو لکھنؤ میں ہونے والے صوبائی اجلاس عام کی تیاریوں کیلئے کارکنان کو کمربستہ ہونے پر زور

لکھنؤ۔(سعید ہاشمی )
جمعیۃ علماء اترپردیش کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس مدرسہ تعلیم القرآن نزد بڑی مسجد پولیس چوکی عیش باغ لکھنؤ میں صوبائی صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صوبہ یوپی کے تمام ذمہ داران و عہدیداران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ۱۰؍مارچ کو لکھنؤ میں ہونے والے جمعیۃ علماء اترپردیش کے اجلاس عام کو بھرپور کامیاب بنانے کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند کی دینی تعلیمی بیداری مہم اور زیادہ سے زیادہ مکاتب کے قیام، ملک کے عائلی و خاندانی قوانین کے تحفظ اور تحریک اصلاحِ معاشرہ، آئین ہند، سیکولرازم اور جمہوری نظام کی حفاظت نیز قومی ایکتا کو مضبوط کرنے، دلت مسلم اتحاد اور مشترکہ کھان پان مہم کو شہر شہر اور قریہ قریہ پہنچانے، مدارس اسلامیہ، مکاتب اور مساجد کی افادیت کو بڑھانے، ان کے داخلی امور کو مزید شفاف بنانے اور سرکاری مداخلت سے محفوظ رکھنے، مسلمانوں کو اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے بیدار کرنے اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ اُٹھانے اور تنظیمی استحکام، اضلاع کی سرگرمیوں کا جائزہ اور زیادہ سے زیادہ گاؤں و قصبات تک جمعیۃ علماء اشاخیں قائم کرنے جیسے مسائل کے ساتھ حال ہی میں پیش آئے کاسگنج سانحہ میں بے قصور گرفتار شدگان اور فساد کے نتیجے میں مالی طور پر نقصان اُٹھانے والے متأثرین کی مالی و قانونی مدد کرنے اور جیلوں میں بند وہ قیدی جو جرمانہ ادا نہ کرپانے کی وجہ سے یا معمولی وجوہات کی بناء پر سالوں سے قید ہیں،بلا تفریق مذہب ان کی مالی مدد کرکے ان کی رہائی کرانے سے متعلق غور و خوض کیا گیا۔
جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرات صحابہ کرامؓ خصوصا خلیفہ اول سیدناحضرت ابوبکر صدیقؓ اور خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت اور ان کے طرز سیاست کو بیان کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران و کارکنان کو انہیں اپنا آئیڈیل و نمونہ بناکر میدان میں کام کریں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کی غیرت ایمانی کا تذکرہ کرتے ان کا تاریخی جملہ دوہرایا کہ ’’أینقص الدین و انا حي‘‘ دین میں کمی بیشی ہوجائے اور میں زندہ رہوں؟۔ جمعیۃ علماء ہند ایسی ہی ایمانی غیرت رکھنے والوں کی جماعت ہے جو شریعت میں کسی قسم کی مداخلت یا کمی بیشی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مولانا نے کہا کہ تین طلاق کے مسئلہ کو لے کر قانون سازی کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کا جو دروازہ کھولا جارہا ہے وہ ناقابل عمل ہے۔ساتھ ہی مولانا نے کہاکہ ہمارے اندر بھی معاشرتی کمیاں ہیں لیکن ان کمیوں کو ہم خود دور کریں گے، حکومتوں کی ہمارے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کو جمعیۃ علماء ہند کے خدام قطعی برداشت نہیں کریں گے۔
مولانا اسامہ نے کہا کہ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں، ایک خاص منصوبے کے تحت ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مذہب اور ذات پات کے نام پر انسانوں کو ایک دوسرے کی جان کا دشمن بنایا جارہاہے، ایسے حالات میں علمائے کرام خصوصا جمعیۃ علماء ہند سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔بحیثیت مسلمان اور جمعیۃ علماء ہند جیسی اولیاء اللہ و مجاہدین کی جماعت سے تعلق رکھنے کی حیثیت سے ہماری فریضہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ کے اسوہ اور اکابرین جمعیۃ کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے بلاتفریق سارے انسانوں کو ایک خدا کا کنبہ سمجھ کر ان کو ملک دشمن اور انسانیت دشمن سازشوں سے بچائیں اور ملک میں پیار ومحبت اور امن و بھائی چارہ کی فضا قائم کرنے میں اپنی ذمہ داری ادا کریں۔مولانا نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ملک میں رہنے والا ایک ایک فرد خواہ کسی بھی مذہب کا ہو، ہمارا بھائی ہے،جو شرپسند ہمارے ملک کی فضا میں نفرت کا زہر گھول کر یہاں آگ لگانا چاہتے ہیں، ہم جمعیۃ کے خدام انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔مولانا اسامہ نے ۱۰؍مارچ کو ہونے والے صوبائی اجلاس عام کے سلسلے میں فرمایا کہ موجودہ حالات میں یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پورے صوبے اور ملک کی نگاہیں جمعیۃ علماء کی طرف ہیں، ایسے میں اس اجلاس کو تاریخ ساز بنانے کیلئے ابھی سے کمر باندھ لیں اور تیاریوں میں لگ جائیں۔ جہاں ایک طرف ہر قسم کے اسباب اختیار کئے جائیں تو دوسری طرف اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اجلاس کی کامیابی اور اجلاس کے مثبت نتائج کیلئے دعائیں بھی کی جائیں۔جمعیۃ علماء ہند کی دینی تعلیمی بیداری مہم سے متعلق فرمایا کہ اس وقت قوم کو سب سے زیادہ ضرورت تعلیم کی ہے، مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر ایک صالح اور کامیاب سوسائٹی وجود میں آتی ہے، اس لئے جمعیۃ علماء ہندنے یکم اپریل سے ۱۰؍اپریل تک پورے ملک میں دینی تعلیمی بیداری مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سب کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے قوم کیلئے جمعیۃ علماء ہند کی موجودہ خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خالق کے حقوق ادا کرنیکے ساتھ مخلوق کی ہمدردی رکھنے اور ان کی خدمت کرنے والے کو اللہ رب العزت دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیابی سے ہمکنار فرماتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ نماز، روزہ اور حج وغیرہ دین کی بنیاد ہیں لیکن خدمت خلق کو شریعت میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ مولانا نے بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیائی پناہ گزینوں کی مدد کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے قائد مولانا سید محمود مدنی کی ہدایت پر اپنے بنگلہ دیش دورہ کا ذکر کرتے ہوئے جب روہنگیائی مسلمانوں کے حالات اور ان کیلئے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کی تذکرہ کیا تو اجلاس میں شریک ہر شخص کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔حال ہی میں ۲۶؍جنوری کے دن یوپی کے کاسگنج میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کے بعد صوبائی صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کے ہمراہ اپنے دورہ کاسگنج کا تذکرہ کیاجمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا احمد عبداللہ رسول پوری نے جمعیۃ اسکاؤٹ گائڈ اینڈ ٹریننگ کے سلسلے میں معلومات فراہم کیں اور جمعیۃ علماء ہند کے سو سال پورے ہونے پر اگلے سال۲۲؍۲۳؍ اور ۲۴؍ فروری۲۰۱۹ء کو دیوبند میں ہونے والے جمعیۃ علماء ہند کے تین روزہ اجلاس جشن صد سالہ کی خوشخبری سنائی۔


اجلاس کا آغاز مولانا سلمان قاسمی میرٹھ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، حافظ امین الحق عبداللہ کانپور نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء اترپردیش کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمد مدنی دیوبنداور سکریٹری مولانا کلیم اللہ قاسمی نے سابقہ کارروائی پڑھ کر سنائی جس پر صدر محترم نے توثیقی دستخط فرمائی۔اجلاس میں موجود جمعیۃ علماء کے تمام صوبائی ذمہ داران اور ضلعی صدور و نظماء نے ۱۰؍ مارچ کو ہونے والے صوبائی اجلاس کو بھرپور طور پر کامیاب بنانے کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اخیر میں جمعیۃ علماء اترپردیش کے سابق صدر، جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کے مہتمم، جمعیۃ علماء ہند کے اہم رہنما، مجاہد ابن مجاہد حضرت مولانا حیات اللہ صاحب قاسمی بہرائچی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ایصال ثواب ودعائے مغفرت کی گئی اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا گیا۔ اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا احمد عبدللہ رسول پوری کے علاوہ صوبائی نائب صدور مولانا عبدالرب اعظمی، پروفیسر محمد نعمان، مولانا ڈاکٹر جمال الدین ، سکریٹری مولانا کلیم اللہ قاسمی ، مولانا محمد قال صدر مغربی زون، سید وزین احمد صدر وسطی زون، مولانا محمد ظہورو سید ذہین احمد سہارنپور، مولانا محمد سلمان و قاری امیر اعظم میرٹھ، مولاناشمس الدین بجنور، مولانا بنیامین و مولانا قاری ذاکر مظفر نگر، مولانا تحسین شاملی، مولانا علاؤالدین و مولانا افتخار الحق ہاپوڑ، مولانا ابراہیم و مولانا اسجد غازی آباد، مولانا مفتی عباس و حافظ محمد قاسم باغپت، مولانا ابوشحمہ و حافظ عبیداللہ بنارس، قاری محمد یامین و حافظ محمد فرمان امروہہ، مولانا ضیاء الحق و مولانا محمد عرفان مہاراج گنج، مولانا خورشید احمد و قاری ارشاد کشی نگر، مولانا عبدالوحید دیوریا، مولانا محمد فاروق و مولانا شبیر احمد پرتاپ گڑھ، مولانا اسلام الحق اسجد و مولانا محی الدین لکھیم پور، ڈاکٹر عبدالمعید و مست حفیظ رحمانی و حافظ عمران سیتا پور، مولانا محمد عثمان و مولانا عبداللہ سلطانپور، مولانا عبدالولی و مفتی حسین ہردوئی، مفتی ظفر احمد و مولانا عبدالرب فرخ آباد، سید محمد حسین ہاشمی، حسین امین، عبدالقدوس ہاشمی لکھنؤ، قاری عبدالمعید چودھری، مفتی اظہار مکرم، مولانا فرید، امین الحق عبداللہ و قاری بدرالزماں کانپور، مولانا حفیظ الرحمان محمودی امبیڈکر نگر، حکیم محمد اللہ و مولانا محمدالیاس قاسمی بارہ بنکی، مولانا شبیر و مفتی صہیب بہرائچ، مفتی قاسم رضی فیروزآباد، مولانا محمد سہیل مولانا محمد حنیف بھدوہی، مولانا عبدالواحد الہ آباد،مولانا ارشاد الحق مدنی مؤ، آفس سکریٹری مولانا سفیان اور مولانا غفران سمیت صوبائی مجلس عاملہ کے جملہ اراکین و مدعوئین خصوصی، تمام اضلاع کے صدور و نظماء سمیت ۲۰۰؍ سے زائد اہم ذمہ داروں نے شرکت کی۔