ہاں میں 146پکوڑا بجٹ145 ہوں:نازش ہما قاسمی 

ہاں! میں پکوڑا بجٹ ہوں، گزشتہ روز مجھے لوک سبھا میں وزیر مالیات ارون جیٹلی نے پیش کیا ہے۔ ہاں میں وہی بجٹ ہوں جسے مودی حکومت کا آخری بجٹ سمجھا جارہا ہے۔۔۔ہاں میں وہی بجٹ ہوں جس میں میں بہت سارے وعدے کیے گئے ہیں۔ ہاں میں وہی بجٹ ہوں جسے عوام 146الیکشنی منشور145 کہہ رہے ہیں۔ اب تو ملک کے عوام بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ 2014کے 146جملہ145 کی طرح ہی ہے۔ اس بجٹ کو لوگوں نے 146پکوڑا145 بجٹ کا نام دیا ہے اور انہوں نے صحیح نام دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مجھے پیش کیاگیا اس وقت ملک کی حالت دگرگوں ہے۔ ملکی معیشت بے شرموں کی طرح گر رہی ہے؛ لیکن اس بجٹ میں صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ اور ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہیں تو بڑھائی گئیں لیکن وہ عوام جو اپنے خون پسینے بہا کر کچھ کمارہے ہیں، انہیں کچھ راحت نہیں دی گئی۔ کہنے کو تو مجھے غریبوں اور کسانوں کی سوغات کہا گیا ہے؛ لیکن کیا میں واقعی سوغات ہوں؟ ۔۔۔نہیں ہر گز نہیں۔۔۔متوسط طبقے کے عوام کو اس میں کچھ سہولیات نہیں دی گئی ہیں البتہ کارپوریٹ کو پوری راحت اور ہر طرح کی مراعات سے نوازا گیا ہے۔ اگر عوام اس بار بھی دھوکے میں آکر اس 146146″پکوڑے بجٹ145145کی لالچ میں آکر” 146146چائے کی کیتلی145145پر بھروسہ کئے، تو یقینا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سب سے بڑے بیوقوف ثابت ہوں گے۔ اور مجھے قوی امید ہے کہ یہ واقعی بے وقوف ہیں جبھی تو اس کے حکمراں ایسے ہیں۔۔۔اس بجٹ میں کہاگیا ہے کہ دس کروڑ غریب خاندانوں کو پانچ لاکھ تک کا صحت بیمہ ملے گا؛ لیکن اسپتال کہاں ہے؟۔۔۔کیا وہی اسپتال جہاں مریض کو ایمبولینس نہیں ملتی ، جہاں متوفی عنہا زوجہا کا شوہر اس کی لاش کو کاندھوں پر لاد کر دس کلو میٹر تک پیدل سفر کرتا ہے۔۔۔ کیا اسی اسپتال میں صحت بیمہ ملے گا جہاں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال انتظامیہ ایمبولینس دینے سے انکاری ہے؟
ہاں! میں وہی 146146″پکوڑا بجٹ145145ہوں جسے کہنے کو تو غریبوں اور کسانوں کے لئے سوغات کی بارش کہا جارہا ہے؛ لیکن تنخواہیں صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، گورنروں اور ممبران پارلیمنٹ کی بڑھ رہی ہیں۔۔۔مڈل کلاس و متوسط طبقے کا تو اس پکوڑا بجٹ میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے، اس بجٹ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مڈل کلاس والے اس ملک کے شہری ہی نہیں ہیں۔۔۔کچھ تو اس مظلوم طبقے کا خیال کیا گیا ہوتا کیونکہ سب سے زیادہ یہی لوگ مہنگائی کی چکی میں پستے ہیں، غریب غریبی ریکھا میں چلاجاتا ہے اور امیروں کے کیا کہنے۔۔۔۔ ان کے تو دونوں ہاتھوں میں گہنے ہیں۔۔۔ان پر تو حکومت مہربان ہی ہے کیونکہ حکومت ان ہی لوگوں کی ہے۔۔۔ حکومت نے اپنے الیکشنی منشور میں کہا تھا کہ ہم بے روزگاری کو ختم کریں گے۔۔۔ روزگار مہیا کریں گے؛ لیکن یہ تو سابقہ حکومت سے بھی دس قدم آگے نکلی، اس نے روزگار ہی ختم کردیا، مہاراشٹر حکومت نے تیس فیصد سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ جب ملک کے وزیر اعظم سے کہاگیا کہ آپ کے روزگار اسکیم کا کیا ہوا تو انہوں نے یہ کہا کہ پکوڑا بیچنے والا بھی تو سو دو سو کمار رہا ہے وہ بھی تو روزگار ہوا۔۔واقعی مودی جی نے 146یونیک 145روزگار فراہم کیا ہے، یہ تو اچھا ہوا کہ پکوڑے پر ہی اکتفا کرلیا، وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ریلوے اسٹیشن ، مسجدومندر اور گرودوارے کے باہر جو کٹورے لیے بیٹھے رہتے ہیں وہ بھی تو دن بھر میں سو دو سو روپئے کما لیتے ہیں کیا وہ روزگار نہیں ہے۔۔۔؟ ویسے اس ملک کے عوام کو بجٹ سے کیا لینا دینا انہیں تو مسجدو مندر کی فکر ہے۔۔۔انہیں کیا فرق پڑتاہے کسانوں کی خودکشی سے۔۔۔انہیں تو بس وندے ماترم، سوریہ نمسکار، طلاق ثلاثہ میں الجھے رہنا ہے۔۔۔
ہاں! میں وہی پکوڑا بجٹ ہوں جس میں کسانوں کو مالی قرض دینے کے لیے 146سوبھاگیہ منصوبہ145 کے تحت 16ہزار کروڑ روپئے سے چار کروڑ غریبوں کے گھروں کو بجلی کنکشن دینے کی بات کہی گئی ہے اور 2022تک 146اپنا گھر پروگرام145 کے تحت دیہی علاقوں میں 51لاکھ مکان بنائے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں اتنے ہی مکان اور بنائے جائیں گے۔ آپ جان ہی گئے ہوں گے اس مکان سے کسانوں کو کتنا فائدہ پہنچا ہے؟ اس کی مثال حکومت کے بیت الخلاء اسکیم سے سمجھ سکتے ہیں جہاں لوگ آج بھی قضائے حاجت کے لئے ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر ریل کی سیٹی کی آواز میں اپنی آواز مدغم کررہے ہیں۔ خواتین آج بھی صبح تڑکے کھیتوں میں اجتماعی میٹنگ کررہی ہیں۔۔۔کیا اسی طرح اپنا گھر پروگرام اسکیم کے تحت اس میں دکانیں کھلیں گی۔۔جس طرح بیت الخلاء دکانوں میں تبدیل ہے۔۔۔اس پکوڑا بجٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ان کی قیمتیں کم کی گئی ہیں۔۔۔ کیا یہ بھی اسی طرح نہیں ہے کہ گجرات الیکشن میں گجرات میں تو قیمتیں کم کی جائیں اور ممبئی دہلی میں حسب سابق پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں سنچری کے قریب ہی رہیں۔۔ مجھے بھی عوام 2019کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں اور اس پکوڑا بجٹ کو الیکشنی منشور سمجھ رہے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات قریب ہے حکومت جھوٹے جملوں کے ذریعے 146رام 145 کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اور عوام کا یہ حال ہے کہ اسے فرقہ پرستی سے فرصت ہی نہیں۔۔یکے بعد دیگرے ایسے ا یسے معاملات پیش کیے جارہے ہیں جس میں عوام الجھتے ہی جارہے ہیں ان سیاسی بازیگروں کی چالوں کے سمجھنے کے بجائے عوام ہندو مسلم ، لوجہاد، گئو کشی میں الجھے ہوئے ہیں اگر اسی طرح مزید الجھے رہے تو ہندوستان میں عوام کو پکوڑا بیچنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملے گی ہاں البتہ کٹورا ضرور ملے گا جس میں یہ سیاسی حضرات کچھ ڈال دیں گے اور اسے سوغات سمجھ کر عوام گزارہ کریں گے۔۔۔!