ملک کے دلت اور اقلیتی طبقہ کو کمزورکرنا ایک خاص ذہنیت کا حصہ؟  سیاسی، سماجی، تعلیمی اور اقتصادی سطح پر مسلم طبقہ کو تباہ کرنیکی سازشیں , ظلم کی انتہا ہوچکی ہے نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور عدم رواداری نے ملک کو پس پشت کر دیاہے!عمران مسعود

سہارنپور ( خصوصی رپورٹ احمد رضا) بھاجپا اور اسکی ہم نوالہ ہم پیالہ تنظیمیں گزشتہ ایک سو سال سے اس ملک کو ہندو راشٹرا بنانیکی ناپاک سازشوں میں سر تاپاؤں مگن ہیں مگر صاف ذہن ہندو حضرات کے ووٹ کے رہتے یہ طبقہ ملک میں ہندو راشٹرا کا قیام آج تک بھی نہی کر سکاہے راجستھان کے للوک سبھا نتائج نے بھاجپائیوں کو دھول چٹادی ہے یہیں اسبلی کی سیٹ پر بھی کانگریس ہی کو فتح ملی ہے ،یہ ملک ہم سبھی کاہے ہم مودی، امت شاہ اور یوگی کی دھمکیوں سے گھبراکر پیچھے ہٹنیوالے قائد نہی ہم تو جھوٹ کی سیاست کرنیوالوں کو ووٹ کی چوٹ سے شرمندہ کردینیوالے مجاہد ہیں ملک کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس ہی اپنے عوام کی طاقت سے ان فرقہ پرستوں کو سبق سکھانے کیلئے بہت کافی ہے! مندرجہ بالا خیلات کا اظہار یہاں آج ہم سے کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کمیٹی کے سینئر قائد عمران مسعود نے کہاکہ ظلم کی انتہا ہوچکی ہے نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور عدم رواداری نے ملک کو پس پشت کر دیاہے بھاجپا ملک کی ایک اور تقسیم چاہتی ہے ہمارا ہندو مسلم اتحاد بھاجپائیوں اور ہندو وادیوں کو راس نہی آرہاہے! ریاستی کانگریس کمیٹی کے نائب صدر عمران مسعود نے کہاکہ ملک میں بڑھتی عدم رواداری کے مدنظر ریاست کے اسی (۸۰) کے قریب ریٹائرآئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران نے صدر جمہوریہ ہند اور پی ایم کو چٹھی لکھ کر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے حالات پر توجہ دئے جانیکی پرزور مانگ کی ہے انقلابی قائد عمران مسعود نے بریلی کے قابل کلکٹر آر وکرم سنگھ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر سرکار کے غلام رہکر کام نہی کانا چاہتے ہیں وہ ملک کے دستور کے مطابق عملی کام انجام دینے کے متمنی ہیں افسران کو دبا نا اور نوکری کا خوف دلانا غیر آئینی قدم ہے عمران مسعود نے کہاکہ بریلی کے کلکٹر آر وکرم سنگھ کی بات حق کی جیتی جاگتی نظیر ہے اب وقت آگیاہیکہ سرکار ہندو انتہا پسندو سے پیار چھوڑکر انکے خلاف فساد پھیلانے اور نظم ونسق کو نقصانات پہنچانے کے الزام میں سخت سے سخت فوجداری کے مقدمات دائر کرے نیز کاس گنج کے بے قصور مسلم افراد کو فوری طور سے رہا کرے!
مندرجہ بالا ایشوز پرکل دیر شام پریس سے خاص گفتگو کرتے ہوئے سماجی اور سوشل تنظیم ملک سماج مہاسبھا کے قومی صدر جنا ب احسان ملک نے اقلیتی اور دلت فرقہ کیساتھ ہونیوالے ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کی مذمت کرتے ہوئے اس ظلم وجبر کو بھاجپائی ریاستی اور مرکزی سرکار کی لاپرواہی کا شاخسانہ قراد دیتے ہوئے مرکز کی مودی سرکار کو ملک کی سب سے لاپرواہ اور غیر ذمہ دار سرکار بتاتے ہوئے اس سرکار کو عوام دشمن سرکار قرار دیا آپنے کہاکہ ملک کو اور ملک کے عوام کو سنہرے خواب دکھاکر بیوقوف بنایا جارہاہے آپنے مودی سرکار کو عوام میں افراتفری پھیلانے عدم رواداری بڑھانے والی سرکار قرار دیا ملک نے کہاکہ کاس گنج فساد بھاجپائی کارکنان کی سازش کا حصہ ہے وہی مسلم اور دلت طبقہ کے خلافشر انگیزی، جھوٹی الزام تراشیاں اور جھوٹے مقدمات کا تعین کیاجانا بھی اسی فاسسٹ ہندو انتہا پسندوں کی گہری چال ہے!
قابل امر ہے آج ہی کاس گنج اور بریلی کے کلکٹر وکرم سنگھ کے بیان کی حمایت میں سیکڑوں افراد نے انکی تعریف کرتے ہوئے انکے حوصلہ کی داد دی ہے ،ملک میں ہندو راشٹرا کا پرچم بلند کرنیوالے عناصر مسلم اور دلت طبقہ کی بڑھتی طاقت سے خائف ہوکر اب دلتوں اور مسلموں کو ذات برادری، طلاق، فسادات اور دہشت گردی کے مسائل میں الجھاکر کمزور بنانا چاہتے ہیں ملک میں جو پہلے مسلم افراد کے ساتھ سلوک کیا جاتاتھا وہ سلوک اب دلتوں کے ساتھ بھی ہونے لگاہے مغربی یوپی میں نو ماہ کے دوران نسلی تنازعات، گؤکشی اور چھواچھوت کی بنیاد پر مقامی شبیر پور، بڈھانہ، شاملی، چھٹملپور، بہاری گڑھ، ناگل ، نانوتہ اور دیوبند کے علاقہ میں جس بربریت کے ساتھ دلت افراد پر منظم طور سے پہلے حملہ کرائے گئے پھر ان پر سخت فوجداری کے مقدمات عائد کئے گئے جبکہ سہارنپور کے تین دلت افراد پر نیشنل قومی سلامتی ایکٹ کے تحت بھی کاروائی عمل میں لائی جاچکی ہے جسکی مخالفت سہارنپور سے لکھنؤ اور دہلی تک ہورہی ہے مگر سرکار نہ جانے کیا سوچ کر دلت اور مسلم فرقہ کو دبا نا اور ڈرانا چاہ رہی ہے بھلا ملک کی چالیس فیصد آبادی کو مٹھی بھر ہندو وادی کب تک پولیس کی شہ پر دبا سکتے ہیں یہ تو ۲۰۱۹ کے لوک سبھا چناؤ میں ہی طے ہوجائیگا مگر الیکشن جیت نیکے لئے بھاجپائی جس گندی حکمت عملی پر کامزن ہے اس سے ملک کی یکجہتی اور امن کو بڑا خطرہ لاحق ہے؟ سرکار کے مفاد پرستانہ اور تعصب سے لبالب اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سماجی اور سوشل تنظیم ملک سماج مہاسبھا کے قومی صدر جنا ب احسان ملک نے کہاکہ یوپی میں اقلیتی فرقہ پر ظلم و ستم کی انتہاء ہوچکی ہے ریاست کے ہر ضلع میں ہندو مسلم تنازعات کھڑاکرنے کی ناکام کوششیں لگاتار جاری ہے مگر اس طرح کے تنازعات کو کنٹرول کر پانے میں ریاستی انتظامیہ پوری طرح سے فیل بناہواہے سماجی اور سوشل تنظیم ملک سماج مہاسبھا کے قومی صدر جنا ب احسان الحق نے ملک کی موجودہ سیاست پر بات کرتے ہوئے کہاکہ سرکار چلانے کے لئے شعور کی ضرورت ہے مسٹر ملک نے اپنی پریس ریلیز کے آخر میں کہاہے کہ اندنوں ہمارا ملک تماشہ دکھانے والے سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ہے مسٹر ملک نے کہاکہ ملک اور ملک کی زیادہ تر ریاستی علاقہ اندنوں مہنگائی اور بیروزگاری کا شکار ہیں مگر ہمارے وزیر اعظم اور زیادہ تر ریاستی چیف منسٹر چپ بیٹھے ہیں آخر اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا آج اس پر غور وفکر کی سخت ضرورت ہے اس سے قبل بھی اپنی ایک دیگر اہم اور قابل تعریف ریلیز میں بتایا ہے ملک اور بلخصوص یوپی کیمسلمانوں کے بدترین حالات کا اندازہ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ انڈیاز ہیو مین ڈیولپمنٹ رپورٹ 2011 سے بھی بخوبی لگا یا جا سکتا ہے ۔ اس کے مطابق ، 1993-سے 2007-08 کے درمیان پر کی جانے والی مختلف سرکاری تقرریوں میں اقلیتی افراد کو تقرری ایمانداری کے ساتھ نہیں دی جا تی ہے ہمیں لگتاہے کہ وہ صرف اور صرف اس نظریہ سے نہی دیجارہی ہیں کہ کہیں ان کے حالات دیگر ہماری برادریوں بہتر ہو جائیں اور پھر یہ ہمارے برابر آجائیں بس اسی نظریہ سے ریاستی اور ملک گیر سطح پر ان اقلیتوں کو ریزرویشن دینا اور کسی بھی میدان میں سرکاری مراعات دینا کسی بھی صورت ضروری نہی ہے ہم آپکو بتادیں کہ ملک کی اسی سیاسی اور بیورو کریسی کی خطرناک سوچ نے گزشتہ ۶۸ سالوں سے مسلم قوام کو تمام عالم کے سامنے کمزور اور مجبور بناکر رکھ دیاہے ایک خاص سوچ نے مسلمانوں کی نئی سوچ کو دہشت ، الزامات ،فسادات اور احساس کمتری کے جال میں جان بوجھ کر پھنسادیاہے تاکہ یہ خد ہی دبک کر بیٹھ جائیں اور ملک کی مین اسٹریم سے پچھڑ جائیں؟ شرمناک پہلو تو یہ بھی ہے ہماری گفتار کی غازی قوم کی مفاد پرست اور کمزور سیاسی اور دینی قیادت نے بھی گزشتہ ۷۰ سالوں سے اس قوم کی اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی سچی تعلیم اور تربیت سے روبرو کرانا اور سہی دینی سوچ اور حکمت سے مالامالکرنا ضروری ہی نہیں سمجھاہے نتیجہ کے طور پر آج ہم ۳۰ کروڑ ہوجانے کے بعد بھی ہاں میں ملانے اور سیاسی قائدین کے نعرے لگانے والوں کی بھیڑ کا ہی ایک حصہ بھر ہیں