بھوک سے مرتی قوم: ذمہ دار کون؟؟ تحریر: سمیع اللّٰہ خان

ارتداد کی دو بڑی وجہیں ہیں، ایک: بھوک، دوسرے خوف
ہم امارت اور شورٰی کی لڑائیاں لڑرہے ہیں، ہم دیوبندیت اور ندویت کی افضیلت پر معاند ہیں، ہم مسلک مسلک کھیل رہےہیں، اپنی شخصیت، اپنے حضرت، کا ڈنکا پیٹ رہےہیں، اپنے مشرب، اپنے نظریے پر سرٹیفکیٹ بانٹ رہےہیں، لاکھوں، کروڑوں کے شامیانے سجاتے ہیں، اعلٰی اور عمدہ قسم کی متنوع زندگیاں گذارتے ہیں،ہماری دانشوری اور اعلٰی فکری کی حقیقت، ڈائننگ ہال سے بیت الخلا تک دم توڑ دیتی ہے، گلابی اور نارنگی، رنگ برنگے اسلامی کالجز اور پرشکوہ مساجد و یونیورسٹیاں خاندانی جاہ و جلال کی آئینہ دار ہورہی ہیں، قوم پیٹ کاٹ کاٹ کر آج بھی قومیت پر قربان ہورہی ہے لیکن، کتنے بدترین ہیں ہم، کس قدر سنگدل ہیں ہم، کتنے بے حس اور ڈھیٹ ہوچکے ہیں ہم، اور ہمارا نفس، کہ آج ہمارے بیچ ایسے ایسے روح فرسا حوادث ہمارے اپنے معاشرے میں پیش آرہے ہیں، ان کے لیے ہم کیا کرتے ہیں وہ سب درکنار، ان واقعات پر بے چینی اور حساسیت کا کیا مظاہرہ ہوتاہے، کم از کم مجھے سنانے اور سمجھانے کی ضرورت نہیں یے، کہ بہت دیکھے ہیں میں نے، مشرق و مغرب کے میخانے!
جس وقت آپ لوگ چھبیس جنوری کا ڈھونگ منارہے تھے، عین اسی وقت اس جمہوری ملک نعمت زدہ ملک میں ایک ماں بھوک سے چل بسی، امیر جہاں نامی خاتون فاقہ کشی کے اُس اسٹیج پر پہنچ گئی تھی کہ، رات میں اس نے اپنے بچوں کو کھانا کھلایا کیونکہ، کھانا اتنا ہی تھا اس غریب کے پاس، بچوں کو کھلایا اور خود نے دم توڑ دیا, یہ فرد کی نہیں، قومی اجتماعیت کی موت ہے۔
اسی شب ہم نے بھی لکھا تھا کہ، اس ملک میں جو لوگ جمہوریت کا جشن منارہے ہیں ان کے پاس اس کا کیا جواز ہے؟‏جشن کس بات کا منایا جارہاہے؟
ہماری عوام کی غربت کا؟
کسانوں کی خودکشی کا؟
یا پھر پھیلے ہوئے،


پھیلے ہوئے کرپشن! بچوں کی غذائی قلت سے اموات! یا ہماری غربت و افلاس کا؟ ‏جہاں باشندے بنیادی تعلیمی سہولیات کو ترس رہے ہوں، جہاں عورتوں پر آج بھی مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں،! جہاں عوام صرف غذائی قلت سے مررہی ہو،
وہاں جشن جمہوریت، بھولی بھالی عوام کے ساتھ بھدّا مذاق ہے!
اس پر منفیت کے طعنے مارنے والوں کا شکریہ،
آپ کہیں گے ہم تھوڑے ہی سب کے ٹھیکیدار ہیں،
ہوسکتاہے یہ وقوعہ آپکی، پارٹی یا حلقہٴ انتخاب سے دور پیش آیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ، آپکے حضرت ہی اس کے ذمہ دار کیوں ٹھہرائے جائیں؟
لیکن اللّٰہ دیکھ رہاہے، کہ اِن حقائق سے دوری کے اسباب کیا ہیں؟ عوام کے بگاڑ کا سبب اصلی اوجھل نہیں، خواص کی بدترین روش کی ستم ظریفیاں اللّٰہ کی بارگاہ سے اوجھل نہیں! ملت دیکھ رہی ہے، کہ، کون کون، امیر المؤمنین اور قائدین اعظم ہیں، بخدا سب کے سب ذمہ دار ہیں، تُف ہے ہماری قومیت پر،ہم میں ایک خاتون بھوک سے دم توڑ دی گئی، لیکن ہم ۔۔۔۔ مرادآباد میں مسلمان نہیں بستے؟ یا وہاں انسان نہیں رہتے؟ سنا ہے مسلمان وہاں مضبوط ہیں، اور یہ بھی سنا ہیکہ بڑے بڑے اللّٰہ والوں کا مسکن بھی ہے!
بخدا، ان سب کے بشمول مجموعی طور پر ہم سے بروز محشر پوچھ گچھ ہوگی: الله ضرور اس قتل کا حساب لے گا:
*امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے تعلق سے آتاہے،*
*” کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی ” ۔*
یاد رکھیں ارتداد کی ۲ بڑی اور بنیادی وجہیں ہیں،
۱ ۔ بھوک ۲ ۔ خوف
اس وقت ملت اسلامیہ ان دو، وباؤں کی بڑی تیزی سے شکار ہوتی جارہی ہے ۔
ہم اپنی ذہنیت اور فکر سے، مختلف امور پر تو ارتداد کے تیروں سمیت جنگ چھیڑدیتے ہیں، لیکن! اس حقیقی ارتداد کے لیے کچھ تیاری کی ہے کیا؟
یہ واقعہ شاید ہمیں جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے ہو ۔