دارالعلوم ندوۃ العلماء کے جمالیہ ہال میں منعقد انعامی مناقشہ بعنوان “ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون؟ حکومت یا مسلمان؟

سعید ہاشمی :خا ص خبر،آمنا سامنا میڈیا :مسلمانان عالم مختلف اندرونی اور بیرونی سیاسی مشکلات سے ہمیشہ دوچار رہے ہیں اور یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم الثبوت ہے کہ جس فرد یا معاشرہ میں سیاسی تدبر کا فقدان ہو یا مختلف اسباب کی بنا پر اس کے سیاسی تدبر پر پردہ پڑگیا ہو وہ فرد یا معاشرہ کسی صورت سرفراز نہیں ہوسکتا بلکہ ہمیشہ اسے ذلت ورسوائی اور پسماندگی میں رہنا ہوگا”
ان خیالات کا اظہار دارالعلوم ندوۃ العلماء کے جمالیہ ہال میں منعقد انعامی مناقشہ بعنوان “ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون؟ حکومت یا مسلمان؟ میں مولانا عنایت اللّہ ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا
اس موقع پر مولانا رئیس الشاکری ندوی بطور مہمان خصوصی شریک تھے
مولانا رئیس الشاکری ندوی نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا” آج کے اس مناقشہ میں شرکت کرکے ہمیں خوشی محسوس ہورہی ہے، طلبہ نے اس پروگرام میں اپنی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا امید ہے یہ طلبہ مستقبل میں اسلام کی دفاع کے لئے پیش پیش رہینگے”
واضح ہو کہ مولانا خالد گونڈوی ندوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء، مولانا اصطفاء الحسن کاندھلوی ندوی اس مناقشہ میں بحیثیت حکم موجود تھے
اس انعامی مناقشہ میں زمرہ حکومت کے قائد محمد قسیم اختر نے اول انعام اور زمرہ مسلمان کے قائد محمد انس نے دوم انعام حاصل کیا
پروگرام کا آغاز محمد قاسم کی تلاوت سے ہوا بعد ازیں محمد مشیر نے بارگاہ رسالت میں نعت کا نذرانہ پیش کیا جبکہ نظامت کا فریضہ اطہر ایوبی معتمد بزم ثقافت نے انجام دیا
اس موقع پر نائب صدر و ناظم جمعیتہ الاصلاح کے علاوہ تمام اراکین جمعیتہ الاصلاح اور کثیر تعداد میں طلبہ موجود تھے