فساد بھڑکانیوالے آجبھی آزاد مگرخمیازہ بھگت رہے ہیں دلت اور مسلم!

سہارنپور(احمدرضا) کمشنری میں ہر صورت امن وامان کے قیام میں جہاں ہمارے ضلع کی صاف ذہن عوام نے مقامی سرکاری مشینری کو بھر پور تعاون دے رکھا ہے وہیں ہر سینئر افسر اپنے اپنے علاقہ کی نظم ونسق پر مبنی پروگریس رپورٹ بھی گزشتہ آٹھ ماہ سے ہر لمحہ ضلع ہیڈ کواٹر بھیجتے ہوئے اپنے لئے نئی نئی ہدایت حاصل کر رہاہے ضلع ہیڈ کواٹر بھی لگاتار ریاستی وزیر اعلیٰ کے آفس سے جڑا ہوا ہے یوگی سرکار سے یہ اشارے ملنے لگے ہیں کہ بد امنی پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی اور لا قانونیت کے خاتمہ کیلئے سرکار کسی بھی طرح کا ایکشن لینے سے گریز نہی کریگی مگر ان سب باتوں کے علاوہ ابھی بھی ضلع کے دلت اور مسلم فرقہ پر بھاجپائی گروہ کی کالی نظریں مرکوز ہیں کبھی کھتولی کا ممبر اسمبلی وکرم سینی اقلیتی فرقہ کو دھمکی دیتاہے تو کبھی دلتوں کو سبق سکھانیکے لئے این ایس اے کا استعمال کیا جاتاہے ۲۲ اپریل سن ۲۰۱۷ دودھلی فرقہ وارانہ فساد پھر اسکے بعد شبیر پور کا ٹھاکر دلت نسلی فساد بھاجپاکے مٹھی بھر قائدین کی سازش کا نتیجہ بھر ہے مگر آگ لگانیوالے آج بھی آزاد ہیں اور خمیازہ بھگت رہے ہیں دلت اور مسلم فرقہ کے لوگ آخر سرکاری مشینری کا یہ کیسا انصاف ؟
قابل غور ہے چیف منسٹر کے نئے احکامات کے مطابق بد نظمی پھیلانے والا کوئی بھی ہو کسی بھی پہنچ کا ہو کسی بھی شکل میں بخشانہی جانا چاہئے چونکا دینے والی بات یہ بھی ہیکہ پچھلے دنوں مرکز کی مانگ پر ہماری یوپی سرکار اور ہمارے گورنر یوپی رام نائک نے بھی کمشنری کے ان چاروں فسادات اور سیاسی تکرار سے وابسطہ اپنی ایک تفصیلی پختہ رپورٹ ہمارے ریاستی گورنر اور ریاستی ہوم سیکریٹری نے علیحدہ علیحدہ انداز سے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیج بھی دی ہے تاکہ آگے کی کاروائی عمل میں لائی جاسکے مرکز کو بھیجی گئی اہم رپورٹ میں پر تشدد واقعات میں چار سیاسی لیڈران اور تین افسران کے کردار کوبھی مشکوک ماناگیاہے لیکن کسی کو بھی ابھی گرفتار نہی کیا گیا کیونکہ زیاتی کرنیوالے خد بھاجپائی ہی اس مکمل تنازعہ کے ذمہ دار ہیں مگر اوپر کے دباؤ کے باعث ان پر کچھ بھی ایکشن نہی لیا جاسکاہے صرف دلتوں کوہی نشانہ بنایا جارہاہے بہوجن سماج پارٹی اور بھیم آرمی اسی تنازعہ کے سبب بار بار چندر شیکھر کی رہائی کی مانگ اور اعلیٰ ذات کے ہندؤں پر کاروائی کی اپنی آٹھ ماہ پرانی مانگ پر آج بھی ڈٹی کھڑی ہے مگر سرکار کے کہنے اور کرنے میں فرق نظر آتا دیکھ رہاہے سرکار انصاف ہی نہی کرنا چاہتی ہے اسی لئے مخالف جماعتیں اب کھل کر سرکاری کاروائی کی مخالفت پر آمادہ ہیں یاد رہے کہ ریاست کے موجودہ حالات کے پیش نظر اور مخالفین سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگاتار یوگی سرکار کی سخت مخالفت کو دیکھتے ہوئے ڈی جی پی اوپی سنگھ اور چیف سیکریٹری راجیو کمار نے تمام اضلاع کے سینئر حکام کو چوکننا رہکر کام کرنیکو کہا ہے گزشتہ دس ماہ سے یہاں دلت فرقہ پر جو زیادتیاں کی گئی ہیں دلت سماج ان زیادتیوں کو برداشت نہی کر پارہاہے بھیم آرمی چیف چندر شیکھر اور دو دیگر افراد پر نیشل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا جانا دلتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی مانا جارہاہے این ایس سے ہٹانیکے لئے سہارنپور سے لکھنؤ، دہلی ، احمد آباد اور حیدرآباد تک احتجاجات ہونے لگے ہیں مگر یوگی سرکار ایس ایس پی لوکمار کے ساتھ ساتھ مسلم افراد پر حملہ کرنیوالے بھاجپائیوں کو کلین چٹ دیکر صرف اور صرف دلت و مسلم فرقہ کو ہی نشانہ پر لے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب کمشنری کا دلت اس ظلم وبربریت کے خلاف بڑے احتجاج کی تیاری میں مصروف ہے دوسری جانب آج روی داس جینتی کے موقع پر ضلع میں بھاری فورسیز تعینات کی گئی ہی جگہ جگہ پولیس گشت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران بھی جانچ پڑتال میں مشغول دکھائی دے رہے ہیں؟ دلت فرقہ اور بھاجپائی اپنی اپنی زور آزمائش میں سرگرم ہیں دلت بھاجپا ایم پی راگھو لکھن پال شرما اور انکے بھائی کی گرفتاری چاہتے ہیں جبکہ بھاجپائی اپنے سیاسی دشمنوں کوسبق سکھا نا چاہتے ہیں اور ضلع گزشتہ نوماہ سے اسی سیاسی رسہ کشی کا شکار ہے ایماندار انتظامیہ اور پولیس چاہتے ہوئے بھی سخت ایکشن نہی لے پارہی ہے سرکاری دباؤ قابل کمشنر ، ڈی آئی جی، کلکٹر اور ایمانداری کیلئے مشہور ایس ایس پی ببلو کمار کو منصفانہ ایکشن سے روکے ہوئے ہے اسی لئے دلت فرقہ ذہنی تناؤ میں آکر سرکار کے خلاف سخت احتجاج کے موڈ میں نظر آرہاہے !
یہ بھی سچ ہے کہ شبیر پور دودھلی فساد کے معاملے میں بھاجپا اور بی ایس پی ایک دوسرے کو پست کرنیکے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں بسپا کے کارکنا ن جگہ جگہ آجبھی مظاہرہ کے دوران یہ مانگ اٹھا رہے ہیں کہ انتظامیہ ملزم بھاجپا لیڈران اور انکے ایم پی کو گرفتار کرنے سے کترا رہی ہے جبکہ دلتوں اور مسلمانوں کو ظلم وستم کا شکار بنایا جارہاہے کانگریسی قائد عمران مسعود، نومان مسعود ، ششی والیا، جاوید صابری بسپاکے سینئر قائد حاجی فضل الرحمان، شاذان مسعود اور جگپال سنگھ کا سیدھا کہناہے کہ لکھنؤ اور دہلی کے اشارے پر دلتوں اور مسلمانوں کا استحصال کیا جارہاہے جبکہ اصل ملزم بھاجپا ئی اور انکے حمایتی افراد ہیں انکو چھوٹ دے رکھی ہے نسلی فساد کے آج۰ ۲۷دن بیت چکے ہیں مگر ضلع میں ابھی بھی نظم ونسق اور امن کے قیام کیلئے سینئر افسران کو سخت الجھنوں کا سامناہ کر نا پڑ رہا ہے جبکہ حالات کی نزاکت کے مد نظر ہمارے ریاستی وزیر اعلیٰ نے حالات کے مدنظر ہی اے ڈی جی نظم ونسق اے ڈی جی این سی آر آنند کمار کو ضلع کی نگرانی پر مامور کر رکھاہے!