اردو شاعری خلوص اور یکجہتی کی علمبردار !منتظرصدیق

سہارنپور(احمدرضا)شہر کے مہذب گھرانہ کے چھبیس سالہ تعلیم یافتہ نوجوان شاعر منتظر صدیق گزشتہ دس سالوں سے ملک کے معیاری شعراء کرام کے ساتھ جڑے ہیں سیکڑوں مشاعروں میں اپنا کلام پیش کر چکے ہیں آپکو شعرو شاعری کا شوق یوں تو طالب علمی کے دور سے ہی رہامگر جوانی کی دہلیز لانگھنے کے بعد شاعری اب منتظر صدیق کو مقصد بن چکی ہے عمران پرتاپ گھڑی، انور جلالپوری، وسیم بریلوی ، شبانہ ادیب، لتا حیا ، مہک کیرانوی اور انجم رہبر کی شاعری سے بیحد متاثر نوجوان شاعر منتظر صدیق نیک اور با اخلاص گھرانہ میں پیدا ہوہیں یہی چھاپ آپکی شخصیت اور شاعری میں موجود ہے منتظر صدیق اردو دوست، اخلاص، امن اور بھائی چارے کے حامی ہندی اور اردو کے قیمتی علمی ہنر سے مالاما ل پیشہ سیسینئرفوٹو گرافر اپنی تعلیمی لیاقت کے ساتھ اردو ہندی شاعری کے میدان میں بھی ایک منفرد رتبہ اور شناخت رکھتے ہیں گزشتہ ہفتہ کناڈا سے یہاں تشریف لائے بھائی ذیشان سحر کے مجموعہ کلام کے اجراء کے پر وقار موقع پر منتظر صدیق نے اس تقریب میں ایک غزل سے داد سخن حاصل کرنیکے بعد ہمکوایک مختصر مگر اہم ملاقات میں بتایاکہ انکا کلام سہی معنوں میں انسانی قدروں اور انسانی رشتوں کا علمبردار ہے منتظر صدیق نے کہاکہ سہی معنوں میں اردو شاعری انسانی رشتوں کو جوڑنے کیلئے معاون ہے مجھے اردو شاعری اور اردو کلام لکھنے اور پڑھنے میں کافی لطف محسوس ہوتاہے کیونکہ میری کا مقصد ہی اس پیار اور امن کے پیغام کوکل عالم میں پہنچانا ہے تاکہ وطن ہند کے ولیوں اور رشیوں کا یہ خلوص اور یکجہتی کا رشتہ کل عالم انسان کے درمیان جڑا رہے اس مقصد کو تکمیل تک پہنچانے میں اردو شاعری کا بہت بڑا رول ہے مجھے اردو شاعری پر فخر ہے! منتظر صدیق نے شاعری کے ذریعہ انسانیت، ملنساری، تفکرات، وحدانیت، اخلاص ، احساسات اور رواداری کا جو جذبہ اور موجو دہ تعصب کے سیاسی زہر کی جو مذمت اپنے کلام میں ظاہر کی اسکی جس قدر بھی تعریف کیجائے وہ کم ہی ہے !
نہ ہو اداس مقدر بدل بھی سکتاہے ۔۔ ابھی جو دور ہے گردش کاٹل بھی سکتاہے ملک کے بیشتر حصوں میں بہت سے انعام و اعزازات سے نوازے جاچکے چھبیس سالہ تعلیم یافتہ نوجوان شاعر منتظر صدیق نے عوام کیلئے آپسی میل ملاپ اور اخلاص اور ہندو مسلم یکجہتی کا جو پیغام عام کیاہے وہ بہت کم ہی دیکھنے کو مل تاہے اسمیں کوئی شک نہی کہ شاعر منتظر صدیق ایک سنجیدہ مزاج شاعر کی حیثیت سے جانے پہچانیجاتے ہیں اردو شاعری کے ساتھ ساتھ ہندی کیلئے بھیجو کچھ منتظرنے لکھا اور پڑھا وہ کافی سراہاگیا ہے سنجیدہ قلم انکی شاعرانہ رتبہ کی ضامن ہے اور ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے ،منتظر صدیق کی شاعری فرقہ پرستی ، عدم رواداری، مسلک اور ذات پات کے زہر کو کچلنے کا سبق دیتی ہے