کاس گنج فسادمسلمانوں کے خلاف منظم سازش 2019کے عام انتخاب کی تیاری کررہی ہے بی جے پی :ڈاکٹر محمد منظو رعالم 

نئی دہلی ۔28جنوری
اتر پردیش میں بی جے پی سرکار آنے کے بعد لا ءاینڈ آڈر کا مسئلہ مسلسل بڑھتا جارہاہے اور فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں،جب سے یوگی سرکار وجود میں آئی ہے مسلمانوں کے خلاف حملہ میں اضافہ ہوگیاہے اور بجرنگ دل ،وشو ہندو پریشد اور ہندویوواوا ہنی سمیت متعدد ہندو تنظیموں کا مسلمانوں کے خلاف حملہ تیز ہوگیاہے ،وکاس گنج میں گذشتہ 26 اور 27 جنوری کو جو کچھ ہواہے وہ گذشتہ واقعات سے بڑھ کر ہے جہاں بجرنگ دل کے لوگوں نے یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کررہے مسلم نوجوانوں پر حملہ کیا،ترنگا اتار کر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی اور148ہندو ہندو ہندوستان ،مسلمان بھاگو پاکستان ،ہندوستان میں رہناہے تو وندے ماتر کہنا ہوگا 147جیسے اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ایم پی دیویندر سنگھ راجپوت سمیت متعدد لیڈروں نے فساد پر قابو پانے کے بجائے بھڑکانے اور ہندومسلم کے نام پرلڑائی کرانے کا کام کیا، پولس کی موجودگی میں مسلمانو ں کے گھروں پتھراﺅ کیا گیا ،دکانیں نذر آتش کی گئیںاور مسلمانوں کا ماراگیا۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے سوال پوچھتے ہوئے کہاکہ کیا اس طرح فساد بھڑکاکر ،مسلمانوں میں خوف پیدا کرکے اور دہشت کا ماحول بناکر بی جے پی 2019 کیلئے راہ ہموار تیا کررہی ہے ؟کیا نریندر مودی اور امت شاہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے حملے کرواکر اپنے بھکتوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں ۔ کیا دیویندر سنگھ اور دیگر بی جے پی لیڈروں کے خلاف مقدمہ دائر نہیں ہونا چاہیئے جنہوں نے فساد کو بھڑکانے اور شرپسندوں کو مزید حملہ کرنے کیلئے اکسانے کا کام کیاہے ۔
ڈاکٹر محمد عالم نے ملک کی عدلیہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی سوال کیا کہ اقلیتی طبقہ پر مسلسل حملہ ہورہاہے ،کبھی گائے کے نام پر ،کبھی لو جہاد کے نام پر ،کبھی حب الوطنی اور ترنگا کے نام فساد بھڑکایا جارہاہے ،ملک کا ماحول خراب کیا جارہاہے ،خوف ودہشت کی فضاءقائم کی جارہی ہے ایسے میں کیا سپریم کورٹ کا فرض نہیں بنتاہے کہ وہ حکومت وقت سے جواب طلب کرے ،انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے اور ہند ومسلم کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کی مذمت کرتے ہوئے ایسے لیڈرں کے خلاف سخت احکامات جاری کرے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل ہورہے حملہ اور اس طر ح کی فسادات کی بنیادی وجوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ یوپی کی یوگی حکومت فسادات کے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے مقدمات واپس لے رہی ہے، مظفر نگر فسادت میں ملوث بی جے پی لیڈروں سے بھی مقدمہ واپس لے لیاگیاہے جس کی بنا پر انتہاءپسند عناصر اور شرپسندوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ڈاکٹر عالم نے کہا کہ بی جے پی کا یہ طرز عمل ملک کیلئے انتہائی مہلک اور خطرناک ہے ،اس سے ہندوستان کی ترقی میں مزید گرواٹ آجائےگی ،عالمی سطح پر وقار او رکم ہوجائے گا ،آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوگا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا ۔