اسدالدین اویسی پر حملہ کرنے والے کو گرفتار کرنے میں پولیس ناکام ,کئی دن گزر جانے کے باوجود ملزم کا کوئی سراغ نہیں ، مجلس ورکروں میں ناراضگی

ممبئی۔ ۲۷؍جنوری: (آمنا سامنا میڈیا نمائندہ خصوصی بصیرت آن لائن کے تعاون سے )ممبئی کے ناگپاڑہ میں اسدالدین اویسی پر حملہ کئی شبہات کو ضرور جنم دے رہا ہے لیکن پولیس حملہ آور کو گرفتار کرنے میں ہنوز ناکام ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سر براہ اسدالدین اویسی پر جوتاپھینک کر فرار ہونے والے حملہ آور کی شناخت تو ہوگئی ہے لیکن پولیس نے اب تک اسے گرفتار نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے سی سی ٹی وی کیمرے میں حملہ آور کی تصویر صاف ہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر نے کیلئے پولیس جدوجہد بھی کر رہی ہے جبکہ حملہ آور کی گرفتاری اب تک عمل میں نہیں لائی گئی ہے اسدالدین اویسی نے اسٹیج پر سے ہی قیام امن کیلئے جو کوشش کی تھی وہ قابل ستائش بھی ہے حملہ آور پولیس اسٹیشن کے پاس سے ہی فرار ہوگیا تھا اس وقت اگر پولیس یا عوام حملہ آور کو پکڑ لیتے تو شاید وہ تشدد کا شکار ہو جاتا اور پولیس کو اسے بچانا بھی مشکل ہوجاتا لیکن چار روز گزرنے کے باوجود ابھی تک پولیس حملہ آور کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے ۔ ایم آئی ایم کے ورکروں میں اس کے خلاف ناراضگی بھی پائی جارہی ہے حملہ آور سے متعلق پولیس نے مکمل تفصیلات بھی جمع کر لی ہے اور ایم آئی ایم کے ورکروں کے بھی اقبالیہ بیان ریکارڈ کئے گئے ہیں مجمع میں جوتا جس مقام سے آیا تھا وہاں کے لوگوں سے بھی پولیس نے باز پرس کی ہے ایم آئی ایم کے ورکروں سے پولیس نے یہ بھی پوچھا ہے کہ آیا یہ جوتا پھینکنے والا کون ہوسکتا ہے اور اس کے پس پشت اس کا مقصد کیا ہوسکتا ہے جبکہ پولیس اب تک کوئی نتیجہ پر نہیں پہنچی ہے کہ جوتا پھینکنے والا حملہ آور کا مقصد کیا تھا اور کیا وہ جوتا پھینک کر فرقہ وارانہ تشدد برپا کر نے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنا رہا تھا ۔ ناگپاڑہ جنکشن پر اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا جہاں کسی مسلم لیڈر پر جوتا پھینکا گیا تھا اس لئے پولیس بھی انتہائی سنجیدگی سے اس معاملے پر غور و خوص کر رہی ہے ۔ علماء کرام نے بھی پولیس کے اعلی افسران سے ملاقات کر کے ملزم کو گرفتار کرنے کا پر زور مطالبہ بھی کیا ہے ۔