حکومت ہند کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی نمائندگی

نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے لئے حکومت ہند کی ڈرافٹنگ کمیٹی کا اجلاس بنگلور کے نیشنل لاء کالج میں منعقد ہوا اس اجلاس کیلئے حکومت نے 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کے ساتھ پورے ملک سے ماہرین تعلیم کو مدعو کیا گیا تھا جن میں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب، ڈاکٹر ظہیر الاسلام قاضی، پی اے انعامدار، و دیگر عمائدین کے ساتھ دار العلوم دیوبند و مہاراشٹر کی نمائندگی کرنے کیلئے حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب دامت برکاتہم کو مدعو کیا گیا تھا صبح 10:30 بجے سے شام 5 بجے تک چلنے والی طویل اجلاس کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، صبح کے وقت حکومت کے نمائندوں نے اپنی باتیں اور کمیٹی کے مقاصد و تعارف پیش کیا، اس کے بعد وقفہ نماز و طعام کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا جس میں پورے ملک سے خصوصی طور پر مدعو افراد کو اپنی باتیں پیش کرنے کا موقع دیا گیا، اس موقع پر دار العلوم دیوبند و مسلمانوں کے موقف کی نمائندگی کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے تعلیم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے سب سے پہلے اس بات کو پیش کیا کہ تعلیم کو سیکولر اور غیر مذہبی رہنے دیا جائے، تعلیم کا بھگوا کرن کرنا ملک کے لئے نقصان دہ ہے، ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا، تعلیم کو جو بھگوا رنگ میں رنگنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے اسے روکا جائے، اسی طرح حکومت اور کچھ ریاستوں کی جانب سے یوگا کو لازمی قرار دیا گیا ہے، موصوف نے اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یوگا مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہے، اس لئے مسلمان اس عمل کو انجام نہیں دے سکتا، حکومت اسے لازمی کرنے کے بجائے اختیاری قرار دے، جن قوموں کے نزدیک یہ ورزش پے وہ شوق سے کریں، ہمارے یہاں یہ عمل درست نہیں ہے، موصوف نے اپنی بات کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں عصری تعلیمی نظام میں لاگو R.T.E کی شق کو اسی حالت میں برقرار رکھا جائے، اپنی مخاطبت میں مفتی موصوف نے دارالعلوم و اہل مدارس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کی تعلیم کو عصری درس گاہوں کی طرح “تعلیم” تسلیم کیا جائے اور مدارس کے فارغین کو بھی تعلیم یافتہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں مساویانہ حقوق دیئے جائیں، نیز مدرسے سے عالمیت کی سند حاصل کرنے والوں کو B.A کے مماثل قبول کرتے ہوئے انہیں ضرورت کے مطابق آگے یونیورسٹی میں داخلہ دیا جائے، جیسے مسلم علی گڑھ یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، مولانا آزاد اوپن یونیورسٹی اور جے این یو میں عالمیت کی سند کو گریجویشن کے متماثل مانا جاتا ہے، نظام تعلیم اور مسلمانوں کی ترویج کے لئے ایسے ادارے جہاں مسلمانوں کی تعداد قابلِ ذکر ہے وہاں اردو کی تدریس لازمی قرار دی جائے اور اردو و عربی کے اساتذہ کو منتخب کیا جائے، دیگر لسانیات جیسے سنسکرت وغیرہ کو بلا وجہ مسلم طلباء پر تھوپا نہ جائے، ڈرافٹ کمیٹی کے سامنے آپ نے فرمایا کہ ملک کو یکساں قومی نصاب کی ضرورت نہیں ہے، ملک میں مختلف مذاہب، مختلف اقوام اور مختلف زبان بولنے والے، مختلف تہذیب و ثقافت اختیار کرنے والے بستے ہیں، ان سب کو ان کی ضرورت اور سہولت کے لحاظ سے تعلیم کا نظم رکھا جائے، یکساں نصاب کی ملک میں کوئی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح ایجوکیشن کے تعلق سے حکومت جو بھی کمیٹی یا کمیشن تشکیل دے اس میں اقلیتی نمائندے خصوصًا مسلم نمائندہ ضرور رکھا جائے کیونکہ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، آپ نے کہا کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتے ہو تو اقلیتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے، انہیں بھر پور مواقع دیئے جائیں، عصری درسگاہوں کے متعلق بھی مفتی صاحب نے کافی کار آمد باتیں کمیٹی کے سامنے پیش کی، آپ کی تجاویز اور مشوروں کو کمیٹی کے افراد نے بغور سنا اور عمل در آمد کا یقین دلایا، واضح رہے کہ اس کمیٹی کو قومی تعلیمی پالیسی پر مارچ تک اپنی رپورٹ پیش کرنا ہے اس سلسلے آج کی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا تھا، آگے کیلئے کمیٹی ضرورت کے پیش نظر مدعو کرتی رہے گی ایسی یقین دہانی بھی کرائی گئی.