حج کے موقع پر دی جانے والی سبسڈی رواں برس سے ختم,حج سبسڈی ختم کرنے سے پہلے ائیرلائنز کی منمانی ختم کرے مودی سرکار: مسلم تنظیموں کا مطالبہ,حج سفر پر جانے کے لئے ایئر لائنز کی بندش حکومت کی یہ ایک طرح کی منمانی ہے۔

                                                 حج کے موقع پر دی جانے والی سبسڈی رواں برس سے ختم
نئی دہلی،16؍جنوری سالانہ حج سفر پر ملنے والی سبسڈی اب مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے۔ ایسی صورت میں اس سال عازمین حج سبسڈی کے بغیرحج پر جائیں گے۔اقلیتی معاملات کے وزیر مختار عباس نقوی نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ کہ ہر سال سرکار کی طرف سے حج سبسڈی کی شکل میں 700کروڑ روپئے دئیے جاتے تھے۔نقوی نے اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال جہاں سوا لاکھ مسلمان حج پر گئے تھے وہیں، اس بار1.75لاکھ عازمین حج کے لیے مکہ جائیں گے۔ آزادہندوستان کی تاریخ میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔مختار عباس نقوی نے یہ بھی کہا کہ حج سبسڈی سے بچنے والی رقم صرف اور صرف مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو سال 2012 میں حج سبسڈی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ حکومت کو اسے 2022 تک پوری طرح ختم کر دینا چاہئے۔ اقلیتی امو ر کے وزیر مختار عباس نقوی نے آج یہاں اخباری کانفرنس میں کہا کہ عازمین حج کو 2018 سے حج سبسڈی نہیں ملے گی۔ حکومت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلہ کے پیش نظر کیا ہے جس میں حج سبسڈی 2022 تک رفتہ رفتہ ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
حج سبسڈی ختم کرنے سے پہلے ائیرلائنز کی منمانی ختم کرے مودی سرکار: مسلم تنظیموں کا مطالبہ
مرکزی حکومت نے حج سبسڈی مکمل طور پر ختم کردی ہے۔ حالانکہ، سپریم کورٹ نے اسے 2022 تک مرحلہ وار انداز میں ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ مسلمانوں سمیت کئی مسلم تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی ہے، لیکن یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مرکزی حکومت حج سفر کے معاملے میں ایئر لائنز کی منمانی کو بھی ختم کرے۔ مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی کہتے ہیں کہ حج سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ ایک طویل عرصہ سے کیا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی دو ہزار بائیس تک مرحلہ وار انداز میں اسے ختم کرنے کا حکم دیا تھا ، لہذا اس مدت تک اسے ختم کیا جانا تھا۔ اسے اسی سال ختم نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا تھا کہ حج سفر پر جانے کے لئے جو ایئر لائنز کی بندش حکومت نے لگا رکھی ہے کہ عازمین حج صرف سعودی ائیرلائنس اور ائیر انڈیا ہی کی معرفت سے آئیں گے جائیں گے تو یہ ایک طرح کی منمانی ہے۔انہوں نے کہا کہ عام دنوں میں ایئر انڈیا سعودی عرب آنے جانے کے لئے 25 ہزار روپئے لیتی ہے، لیکن حج سفر کے دوران تقریباََ48 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں جو کہ سراسر منمانی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارا پیسہ ہی لے کر آپ اسے ہمیں سبسڈی کی شکل میں لوٹا دیتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا گھپلہ ہے۔وہیں، مسلم ریسرچ اسکالر مقصود الحسن قاسمی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو پہلا کام تو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کو خود انہیں کے اوپر چھوڑ دے۔وہ بلا وجہ مداخلت نہ کرے۔ جس طرح سے گرودوارہ پربندھک کمیٹی گرودواروں کی دیکھ ریکھ کر رہی ہے اسی طرح سے مسلمانوں کو بھی یہ حق دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ عدالت عظمیٰ جب یہ کہہ چکی ہے کہ دو ہزار بائیس تک مرحلہ وار انداز میں سبسڈی ختم کی جائے تو پھر سرکار اس قدر عجلت سے کیوں کام لے رہی ہے۔ لیکن یہ اچھی بات ہے کہ سبسڈی ختم کر دی گئی ہے۔آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی قومی صدر شائستہ عنبر کا کہنا ہے کہ حج سبسڈی کو ختم کرنا ایک اچھا قدم ہے۔ اس قدم سے حکومت کا بے مطلب کا احسان ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ ایئر لائنز کے نام پر موٹا کرایہ وصول کر حکومت اسی کو سبسڈی کی شکل میں لوٹا رہی تھی۔ اس کی وجہ سے عازمین حج پر ایک ٹھپہ لگایا جا رہا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فرمان کو درکنار کر کے عجلت میں سبسڈی کو ختم کرنا حکومت پر انگلی اٹھانے کو مجبور کرتا ہے۔