اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ ظلم ، ناانصافی اور غلامی کے خلاف کھڑا کرتا ہے جماعت اسلامی ہند پونے کی جانب سے دس روزہ دعوتی مہم کے لانچنگ پروگرام کا انعقاد

ممبئی : جماعت اسلامی مہاراشٹر کی جانب سے 12 تا 21 جنوری 2018 دس روزہ مہم بنام “اسلام برائے امن ترقی اورنجات “کا انعقاد کیا گیا ہے اسی سلسلے میں جماعت اسلامی ہند پونہ شہر کی جانب سے اس دس روزہ مہم کے لانچنگ پروگرام کا انعقاد ویلکم ہال کونڈوا میں کیا گیا۔سب سے پہلے افتتاحی کلمات جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے ریاستی سکریٹری اسلم غازی نے پیش کیا اور بتایا کہ اس مہم میں ہمارا ٹارگٹ پوری ریاست مہاراشٹر کے چار کروڑ افراد تک اس مہم کے پیغام کو پہنچانا ہے ۔اس مہم میں” اسلام برائے امن ،ترقی اورنجات”کے عنوان کے تحت 15 لاکھ دعوتی فولڈرس مراٹھی ،ہندی ،اردو اور انگلش زبانوں میں تقسیم کیے جائیں گے اس کے علاوہ ریاست میں مختلف علاقوں کے دورے کیے جائیں گے۔اس لانچنگ پروگرام کا کلیدی خطاب ڈاکٹر محی الدین غازی نے پیش کیا ۔انہوں نےدین کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ دین صرف اور صرف دعوت سے پھیلا ہے ۔یہ دین تلوار سے نہیں پھیلا ہے قوت اور دبدبہ سے نہیں پھیلا ہے اور جس نے اسے قبول کیا وہ ہر قسم کی قربانی اس دین کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے تیار ہو گیا ۔یہ دین انسان کے ذریعہ انسانوں تک دلیل کے ذریعہ اور دلوں کو تبدیل کرکے پھیلا ہے۔امت مسلمہ اپنے کردار کے لحاظ سے خیر امت ہے،اس کا کردار خیر کاکردار ہے اور اس کی دعوت خیر کی دعوت ہے۔انسانی گروہ میں یہی گروہ کامیاب ہونے والاہے۔دوران تقریر ایک بڑی حقیقت واشگاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مقابلہ اس دنیا میں کسی مذہب کے ماننے والے انسانوں سے نہیں ہے ۔ہمارا اصل مقابلہ شیطانوں سے ہے۔اور یہ شیطان جنوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں بھی اور یہ شیطان ہر وقت ہرلمحہ شر کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب کے سب گمراہ کرنے اور شر پھیلانے میں اس کام کو کرنے میں مصروف میں ہیں۔جب شیطان شر پھیلانے کی چھٹی نہیں لیتا تو ہم کیسے حق کی دعوت کے لئے چھٹی لے سکتے ہیں۔ اسی لئے اہل ایمان کو بھی حق کو پھیلانے میں بہت مصروف ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں آپ تمام میدانوں میں ہار جائیں لیکن اسلامی کی نظریاتی قوت کی وجہ سے اور دعوت کے ذریعہ آپ دنیا میں غالب رہیں گے ۔ہمیں اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ دعوت ہماری طاقت کا میدان ہے۔ اور اسلام کے ذریعہ ہی دنیا کو حقیقی امن اور حقیقی ترقی نصیب ہوگی۔آج کی نام نہاد مہذب دنیا امن ترقی کے نعرے لگارہی ہے اس کے مقابلے میں ایک داعی کو حق کی دعوت پیش کرنے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
ہماری دعوت کی تین خصوصیات ہونی چاہیےناصح یعنی خیرخواہ ،امین یعنی امانت دار،محسن یعنی احسان کرنے والا اچھے کام کرنے والا۔اہل ایمان کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ انسانوں کے درمیان رہتے ہوں۔ لوگوں سے الگ تھلگ ہوکر اپنا کردار بلند نہیں کیا جاسکتا ہے۔دین کی دعوت کا ایک مزاج ہے یہ لالچ اور خوف کے ساتھ نہیں چلتی یہ دل اور دماغ کے اطمینا ن کے ساتھ چلتی ہے۔دعوت انسانوں سے محبت کی نشانی ہے۔اس دین کی دعوت کا مزاج یہ نہیں ہے کہ انسانون کو انسانوں کے خلاف کھڑا کیا جائے بلکہ اس دین کا مزاج یہ ہے کہ یہ دین ظلم اور نا انصافی اور غلامی کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔اس ملک میں ہماری پوزیشن ہمیشہ یہ ہونی چاہئے کہ ہم اس ملک میں امن چاہتے ہیں ۔
ڈاکٹر محی الدین غازی کےکلیدی خطاب کے بعد پوناشہر کونڈواکے کارپوریٹرحاجی عبدلغفور پٹھان نے مختصر اظہار خیا ل کیا اور اس دعوتی مہم کی تا ئید کی اور دعوت کی اہمیت کو سمجھا اور کہا کہ آج اسلام کے داعی کارپوریٹر کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کی دعوت کا عملی نمونہ لوگ دیکھ سکیں ۔اس کے بعد شہر کے معزز عالم دین مولانا رزین اشرف ندوی نے مختصر اظہار خیال کیا ۔آخر میں صدارتی اور اختتامی خطاب ڈاکٹر رفیق پارنیرکر نے پیش کیا۔یہ خطاب انہوں نے مراٹھی زبان میں پیش کیا ۔انہوں نےدعوت کے لیےبرادر قوم کی زبان یعنی مراٹھی کے سیکھنے پر زور دیا۔مختلف زندہ مثالوں کے ذریعہ انہوں نے دعوت کی اہمیت کو واضح کیا ۔انہوں بتایاکہ اسلام ہی دنیا میں امن ترقی اورآخرت میں نجات کا ضا من ہے۔آخر میں ڈاکٹر محی الدین غازی کی دعا پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔