بنگلور میں فروغِ انسانی وسائل کی نئی تعلیمی پالیسی کی میٹنگ دارالعلوم دیوبند کی نمائندگی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی کرئے گے.

مالیگاؤں: مرکزی حکومت کی وزارتِ فروغ انسانی وسائل نے حال ہی میں نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے ڈرافٹ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں معروف سائنس داں پدما بھوشن، ڈاکٹر کستوری رانگن کی زیر صدارت اس کمیٹی میں دس اراکین شامل ہیں. یہ کمیٹی 31 مارچ 2018ء تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی. ملک کے موجودہ حالات میں دینی مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا جا رہا ہے عصری اور دینی تعلیم کیلئے اس کمیٹی کی سفارشات کیلئے مدارس کے ذمہ داران کی نمائندگی اہمیت کی حامل ہے اس طرح کا اظہار رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی محمّد اسمٰعیل صاحب قاسمی نے کیا اور بتایا کہ کمیٹی 19/ جنوری بروز جمعہ صبح 10:30 بجے بنگلور میں نیشنل لاء اسکول میں مذاکرات، مشورے اور قیمتی آراء سے متعلق گفت شنید کی جائے گی. ازہر ایشیاء دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس کمیٹی میں نمائندگی کیلئے حضرت مولانا مفتی محمّد اسمٰعیل صاحب قاسمی کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے. فروغِ انسانی وسائل کی جانب سے یہ کمیٹی کا ایجنڈا اور دارالعلوم دیوبند کا مکتوب مفتی صاحب کو موصول ہوچکا ہے. موصوف نے بتایا کہ وہ جمعرات کو بنگلور کیلئے روانہ ہوں گے. حال ہی میں اتر پردیش کے وزیر برائے وقف بورڈ وسیم رضوی نے مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا تھا جس کی چو طرفہ مذمت ہو رہی ہے. ایسے میں نئی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں اس میٹنگ میں موصوف دینی مدارس کے متعلق تفصیلی صورتحال ڈرافٹ کی شکل میں پیش کریں گے.