انسدادِدہشت گردی کے دعووں کی پھرہَوانکلی  سالِ نو کی آمد پر جنگجوؤں کی تباہ کن کا روائی،پٹھان کورٹ کے طرزپرحملہ  جموں و کشمیر: سی آر پی ایف کے تربیتی مرکز پر حملہ، ۴/ جوان اور دو جنگجو ہلاک 

سری نگر 31دسمبر انسدادِدہشت گردی کے تئیں مودی سرکارکے لمبے لمبے دعووں کی مستقل ہوانکلتی جارہی ہے۔جنگجوؤں نے سال کے آخری دن جموں و کشمیر کے پلوامہ میں پٹھان کوٹ ائیر بیس کی طرز پر بڑا حملہ کیا ہے۔ سی آر پی ایف کے تربیتی مرکز میں اتوار کی صبح 2 بجے جیش محمد کے جنگجوؤں نے زبردست فائرنگ شروع کر دی۔ جوانوں نے فوری طور پر مورچہ سنبھالااور دونوں طرف سے گولہ باری کا تبادلہ ہونے لگا تاہم انہوں نے اپنی کاروائی میں چار فوجی جوان کو شہید بھی کر دیا نیز سی آر پی ایف کے 3 دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں ، سکیورٹی فورسز نے 2 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاحال تلاش آپریشن جاری ہے۔جیش محمد نے 2016 میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر نئے سال کے جشن کے درمیان ہی حملہ کیا تھا۔ 1 جنوری کی رات ہوئے اس حملے میں 7 فوجی شہید ہو گئے تھے. اس وقت تصادم 80 گھنٹے تک جاری رہاتھا ۔ دہشت گردانہ حملہ پر جموں و کشمیر کے ڈی جی پی ایس پی وید نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، انہوں نے یہ بھی توقع کی کہ ان پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ اے این آئی نے سی آر پی ایف کے حوالے سے بتایا کہ فدائین لیتھ پورہ واقع مرکزی ریزرو پولیس فورس کے 185 بٹالین کیمپ میں تقریبا 2 بجے گھسنے میں کامیاب ہوگئے ، جنگجوؤں نے اولاً دستی بم پھینکے اور اس کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔ دہشت گرد ایک عمارت میں جاکر چھپ گئے اور وہاں سے فائرنگ کرنے لگے جس کے نتیجے میں چار جوان کو اپنی قیمتی جان ہاتھ سے دھونا پڑی ۔ ذرائع نے سی آر پی ایف کے حوالے سے کہا ہے کہ دوسرے کیمپوں پر بھی ایسے ہی حملے کا شدید خدشہ ہے ۔ لیتھ پور ہ حملہ میں سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے سینئر افسر موقع پر پہنچے ہیں۔ زخمی جوانوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔