یوپی کوکا قانون کااستعمال سیاسی دشمنوں اورمخالفین کو سبق سکھانے کیلئے ہی ہوگا !پچھڑا سماج سبھا

سہارنپور ( رپورٹ احمد رضا)ملک کی قابل احترام شخصیت دوارکا پیٹھ کے شنکرا چاریہ سوامی سوروپ آنند کا کہنا سہی ہے کہ مندر بنا ہمارا کام ہے سیاسی جماعتوں کا رام مندر تنازعہ میں دخل کا مطلب ہی کیا نیز شکرا چاریہ نے کہاکہ ملک میں پیدا ہونے یا بچپن سے اس عظیم ملک میں رہنے والا صرف ہندو نہی کہلائیگا بلکہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق ملک کی سرزمین پر زندگی گزارنیوالا ہندو مسلم سکھ اور عیسائی کہلاتاہے جبریہ طور سے سبھی کو ہندو بتلانا اچھی بات نہی ہے؟ سنجیدہ اور سیکولر لیڈران کی آپسی رسہ کشی، مفاد پرستی، لاپرواہی، سیاسی اقتدارپرستی اورریاستی سطح پر ہمارے مہذب دھارمک افراد کی عدم توجہی سے فائدہ اٹھاکر جہاں مٹھی بھر لوگ سیاست کا بھگوا چولہ پہن کر ہمارے امن وسکون میں زہر گھولنے پر ہر وقت آمادہرہتے ہیں وہیں قابل احترام شنکرا چاریہ بہتر بیانات دیکر ملک میں پیار اور یکجہتی کے قیام پر زور دیتے ہیں جو قابل ستائش عمل ہے چند مفاد پرست افراد کی بیہودہ سوچ کی وجہ سے ہی مغربی اتر پردیش کے زیادہ تر اضلاع میں یوپی میں بھاجپائی سرکار بن جانیکے نوماہ بعد بھی تعصب اور نسلی تضاد کم نہی ہوسکا بلکہ اشتعال انگیز بیانات کے باعث جہاں مسلم اور دلت طبقہ میں خوف وحراس لگاتار بڑھتاہی جارہاہے وہیں آپسی رواداری کا جذبہ بھی کم ہونے لگاہے ماحول درجن بھر اضلاع میں بے چینی کا ہی بناہوا ہے!
مندرجہ بالاخیالات کا اظہار کرتے ہوئے پچھڑا سماج کے قومی قائدین احسان الحق ملک اور شیو نارائن کشواہا نے آج لکھنؤ میں چند سینئر اخبار نویسوں کوبیان جارے کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے با اثر قائدین اور زمین سے جڑے مہذب افراد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلم اور دلت افراد کو خائف کرنے کیلئے ریاستی سرکار نے یوپی کوکا کو منظوری دیکر عوام پر اپنی مرضی تھوپنے کے علاوہ اپنے مخالفین اور راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنیکی غرض سے ہی یوپیکوکا کو منظوری دلائی ہے بھاجپا سرکار ملک کی سیاست میں لمبے عرصہ تک مسلط رہنے کے خطرناک پلان پر کام کر رہی ہے جو عوام کیلئے خطرے کا الارم ہے !ور وہیں اس بیہودہ تجویزکی حمایت کرتے ہوئے ہمارے چیف منسٹر نے بھی کل اپنے بیان میں یوپی کوکا کو سہی بتایا جبکہ سچائی یہی ہیکہ بھاجپا قائدین اس قانون کو سیاسی دشمنوں اور اپنے مخالفین کے خلاف ہی استعمال کریں گے اسکے علاوہ اپنی مرضی تھونپتے ہوئے ایک خاص ذہن کے افراد نے پبلک مقامات پر اشتعال انگیز نعرے بازی ، پولیس چوکیوں و تھانوں میں قائم مندروں میں پوجاپاٹھ، مذہبی تقاریب اور جلوس وغیرہ میں بلند آواز سے ڈی جے بجانیکی چھوٹدیکر پر امن ماحول کو زہریلا بنادیاہے دوسری جانب اقلیتی فرقہ کی ایک منٹ کی آذان پر پابندی کے علاوہ ہمارے مدارس کی گھیرا بندی اور مساجد سے اسپیکر اتروانے جیسی غیر مہذب اور غیر آئینی باتوں کو طول دینے والے عناصر اور معمولی سے معمولی تکرار پر( گرو سے کہو ہم ہندوہیں) جیسے اشتعال پیدا کرنیوالے بیانات دینیوالوں کو کھلی حمایت دیکر بھاجپا سرکار نے ریاستکے مسلم اور دلت علاقوں میں خوف کو بڑھادیاہے !
عام چرچہ ہے کہ یوگی اور امت شاہ فرقوہ پرستی کی آگ بھڑکاکر ۲۰۱۹ کا لوک سبھا چناؤ جیت نے کی راہیں کوج رہیہیں تبھی تو چار ماہ بعد ہی یوگی جی اپنے ۳۰ سال پرانی عادت اور فطرت پر اتر آئے ہیں اور مسلم فرقہ کے دلوں کو درد دینے والی ہر زہر آلودہ اور غیر مہذب کارکردگی کی کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں! یوگی مودی اور امت شاہ کامہہ بنے ہیں اور ایک خاص طبقہ کے خلاف قابل مذمت بیانات دینے لگے ہیں جو افسوسناک پہلوہے! احسان الحق ملک اور شیو نارائن کشواہانے کہاکہ مرکزی سرکار کیلئے اس طرح کے بیہودہ اور دل آزاری کرنیوالے بیانات کی جانچ بیحد ضروری ہے ہمارے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کوبھی ایسے بیانات پر نوٹس لینا چاہئے یاد رہے کہ گزشتہ چار سالوں سے لگاتار بھینسو ں سے بھرے چھوٹے موٹے ٹرک یاپک اپ مخبری کئے جانیکے بعد پولیس دبش دیکر مختلف ا ضلاع کے بیشتر علاقوں سے جبریہ طریقہ پر پکڑتی آرہی ہے ! تھانہ چلکانہ تھانہ مرزاپور، کوتوالی بہٹ، تھانہ فتح پور ، تھانہ قطب شیر ، تھانہ نکوڑ، تھانہ رام پور، تھانہ نانوتہ ، تھانہ دیہات اور گنگوہ کوتوالی کے سیکڑوں علاقہ اور گاؤں اسی طرح کے واقعات سے ماحول کو گرما نے میں لگے وہیں ایک ٹرک سے کچھ زندہ اور کچھ مردہ گائیں بھی بر آمد کی گئی ہیں افواہیں پھیلادی گئیں بھاری بھیڑ جمع ہوگئی مگر عوام کی سوجھ بوجھ سے معاملہ تھم گیاہے ا ور ان گائیوں، بیلوں اور بھینسو سے بھرے چھوٹے پک اپ اور ٹرالی کو اکثر ہمارے ہندی اخبارات اور گؤ رکشک سمیتی کے ذمہ دار بلاوجہ کٹان کے لئے لائی جارہی گائیں بتاکر پہلے ڈرائیور کی پٹائی کرتے ہیں پھر بھینسیں ضبط کر لیتیں ہیں اس طرح کی حرکات سے عوام میں جہاں بیچینی پھیلتی ہے وہیں پولیس بھی جانوروں کے پکڑے جانے کی بعد اکثر گؤ کشی کے جھوٹے الزم ہی عائد کرتے ہوئے ڈرائیور، کلینرس، ایجنٹ اور ہیلپر کوہی اصل ملزم بناکر انکے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرلیتی ہے اس ایکشن سے فرقہ پرستوں کو خوشی ملتی ہے دوسری جانب بیقصور افراد بلاوجہ آفت سے گھر جاتے ہیں اس طرح کے معاملات ہماری کمشنری کے مختلف علاقوں میں عام ہیں مگر اعلیٰ افسران چپ ہیں عام چرچہ یہ بھی ہیکہ لوک سبھا چناؤ سے قبل بقرعید کے خاص موقع پر اس طرح کی حرکات بہت ہی خطرناک سازش کا حصہ بتائی جارہی ہیں!
سوشل قائدین احسان ملک اور شیونارائن کشواہا کے علاوہ سینئر وکیل دیوندر سنگھ، پال سماج کے رہبر مہیش پال نے یہ بھی صاف کہاکہ ریاستی چیف منسٹر کے عہدے کا احترام نہ رکھتے ہوئے یوگی جی مودی اور امت شاہ کی پلاننگ کو عملی جامہ پہنانیکی تیاری میں مصروف ہیں تبھی تو آئین کے عین برعکس اور مسلم طبقہ کی دل آزاری والے بیانات دینے لگے ہیں! نے صاف طور سے کہا ہے کہ بھگوا کارکنان اور قائدین کی یہ کارکردگی ریاست کو بد امنی کے راستہ پر لیجارہی ہے ہم سبھی کو ملکر اور ہندومسلم ایکتاکا ثبوت دیکر فرقہ پرستوں اور امن کے دشمنوں کی اس چال کو ناکام کرناہوگا ! ریاستی سطح پر ہر تھانہ میں ہنومان جی اور شیوجی کی مورتیوں کو نہلایا اور پوجا جانا عام ہوگیاہے پبلک مقامات پر اور سرکاری دفاتر کی مین لین پر بھی مورتیوں کا قائم کیاجانا ، پوجا پاٹھ اور مساجد کے سامنے واقع مندروں میں بھی اکثر فجر، عصر اور مغرب کی آزاان کے وقت مائک پر بھجن کیرتن کیا جانا بھی اب کھلے عام روزانہ کا معمول بن گیاہے مگر سرکار اور انتظامیہ خاموش بیٹھی ہے! قائدین کا کہناہے کہ ہم سبھی ہندو مسلم مل جل کر ساتھ ساتھ رہنا چاہتے ہیں مگر دس فیصد لوگ ہمیں لڑانے پر بضد ہیں اسی سازش کو ناکام بنانیکے لئے اب امن ضروری ہے ہمارا آپسی پیار بھرا اتحاد ضروری ہے اسکے ساتھ ساتھ ہم سبھی کیلئے آج صبر بھی ضروری ہوگیاہے امن پسند عوام کاجوش ان سازش کرنیوالوں کو طاقت دیگا جوش کو پیچھے دھکیل کرافوہوں اور بیہودہ بیانات کو نظر انداز کرنا سیکھ لو تبھی نسلی اور فرقہ پرستی کے زہر کو ختم کیا جاسکتاہے! ضلع کے حالات دیکھ کر لگنے لگاہے کہ ایک خاص سیاسی سوچ اور خاص طبقہ کے چند مفاد پرست لوگ اس طرح کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی فراق میں بیٹھے ہوئے ہیں جو امن کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں!قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ۲۷، اگست ۲۰۱۳ مظفر نگر فسادات اور اسکے بعد ۲۰۱۴ سہارنپور کے ۲۶، جولائی کو ہونیوالے فساد کے بعدکمشنری کے آلودہ حالات کو کنٹرول کر نے میں مظفر نگر، شاملی اور سہارنپور کا سخت ترین ضلع انتظامیہ ناکام رہاتھا اور شہرکے امن کو کافی خسارہ پہنچاتھا اور آپسی بھائی چارہ کو بھی کافی چوٹ پہنچی تھی درجنوں جانیں ضائع ہوجانیکے ساتھ ساتھ پچاس کروڑ سے زائد کامالی نقصان بھی ہوا اور ایک لاکھ سے زائد آبادی گھروں سے بے گھر ہوگئی تھی اب ضرورت ہے افواہ پھیلانے والوں کو گرفتار کرنے کی تاکہ ریاست کی فضاء کو آلودہ اور زہریلا ہونے سے بچایا جاسکے !