دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی نشست مجوزہ بل شریعت ،آئین ،سپریم کورٹ اورخودخواتین کے خلاف،پارلیمنٹ میں پیش نہ کیاجائے سپریم کورٹ نے تین طلاق کوکالعدم ماناہے،توکالعدم چیزجرم کیوں کرہوگی ؟جب طلاق ہوئی ہی نہیں توسزاکیوں؟

بل پیش کرناہی ہوتوسرکارملی جماعتوں اورخواتین کی صحیح نمائندہ تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرے

ہرسطح پرسدباب کی کوشش کریں گے،مسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ کی ہنگامی میٹنگ کااعلامیہ

لکھنو

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے آج ندوۃ العلماء لکھنومیں ہنگامی میٹنگ بلائی ،صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقدمیٹنگ میں جس میں طلاق ثلاثہ سے متعلق حکومت کے مجوزہ بل کاجائزہ لے کربورڈنے سیدھاسیدھامرکزی حکومت کوخبردارکیااوربل کوخودخواتین اورسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف قراردے کرپارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔میٹنگ میں صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی،جنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی،سکریٹری ایڈووکیٹ ظفریاب جیلانی،مولاناخالدسیف رحمانی،مولانافضل الرحیم مجددی،مولاناعمرین محفوظ،ایڈووکیٹ ایم آرشمشاد،ترجمان مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی،مولاناسلمان حسینی ندوی،مولاناعتیق الرحمان بستوی،بیرسٹراسدالدین اویسی،مفتی احمددیولہ،ایڈووکیٹ طاہرحکیم ،ای ابوبکرکیرالہ،ڈاکٹراسماء زہرااورممدوحہ ماجداوردیگراراکین عاملہ موجودتھے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ نے دوٹوک اندازمیں بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اس بل کوپارلیمنٹ میں نہ پیش کرے۔یہ بل شریعت میں مداخلت کے ساتھ ساتھ آئین ہندکے خلاف بھی ہے اورسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف بھی ہے ۔نیزخواتین کوتحفظ دینے والانہیں بلکہ ان کے حقوق کومتاثرکرنے والاہے ۔بورڈنے مطالبہ کیاہے کہ حکومت اس مجوزہ بل کوپارلیمنٹ میں پیش نہ کرے اورضرورت ہوتوآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈاورمسلم خواتین کی صحیح نمائندگی کرنے والی تنظیموں اوراداروں سے مشورہ کے بعدایسابل تیارکرے جوخواتین کاتحفظ کرنے والا،شریعت اسلامی اورآئین ہندسے مطابقت رکھنے والاہو۔بورڈنے خبردارکیاکہ چونکہ یہ بل شریعت اسلامی اورآئین ہنددونوں کے خلاف ہے،نیزخواتین کے حقوق کومتاثرکرنے والاہے ۔اس لیے مسلم پرسنل لاء بورڈاس کی مخالفت کرتاہے،اس کے سدباب کی کوششیں شروع کرچکاہے اورآنے والے دنوں میں بھی ہرسطح پربھرپورکوشش کرے گا۔مسلمانان ہندکے ان احساسات سے صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی،وزیراعظم ہندکوباخبرکریں گے۔بورڈ نے اپنے پریس اعلامیہ میں کہاہے کہ حکومت ہندکاپیش کردہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بل مسلمانان ہندکے لیے بالکل قابل قبول نہیں ہے۔یہ بل خودمسلم خواتین کے خلاف ہے،اورانہیں الجھنوں اورپریشانیوں میں مبتلاکرنے والاہے،اسی طرح یہ شریعت اسلامی میں کھلی مداخلت ہے۔ساتھ ہی آئین ہندمیں دی گئی مذہبی آزادی کی بنیادی دفعات اورسپریم کورٹ کے تین طلاق کے سلسلے میں دیئے گئے حالیہ فیصلے کے خلاف بھی ہے۔یہ بات بھی متضادہے کہ اس بل کے مشمولات متضادہیں۔جہاں ایک طرف اس بل میں تین طلاق کے بے اثرہونے کی بات کہی گئی ہے یعنی ایک طلاق بھی نہیں ہوگی۔وہیں تین طلاق کوجرم قراردے کرتین سال کی سزااورجرمانہ کی بات کہی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب طلاق ہوگی ہی نہیں تواس پرسزاکیوں کردی جاسکتی ہے۔بورڈنے کہاہے کہ اس بل کی دفعا ت چار،پانچ ،چھ اورسات ملک میں پہلے سے موجودقوانین سے ٹکراتی ہیں اوردستورہندکی دفعہ چودہ اورپندرہ کے خلاف ہیں کیوں کہ اس بل میں ان مسلمان عورتوں کوجن کوبیک وقت تین طلاق دی گئی ہواوردیگرمسلم خواتین میں بغیرکسی جوازکے تفریق کی گئی ہے اورشوہرکومجرم قراردیے جانے کے سلسلے میں خوداس کی منکوحہ کی مرضی اورمنشاکوبھی نظراندازکیاگیاہے۔حدتویہ ہے کہ بچوں کی فلاح وبہبودکے معاملے پرسرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی ہے۔اس نے یہ بھی کہاہے کہ یہ حیران کن ہے کہ جس کمیونٹی کے بارے میں یہ بل پیش کیاگیاہے،نہ اس کے ذمہ داران اورقائدین سے مشورہ لیاگیااورنہ کسی مسلم تنظیم اورادارے سے رابطہ کیاگیااورنہ خواتین کے معتمداداروں سے رائے لی گئی۔