بھاجپا کے قومی وزراء کی زبان پھسلنے لگی اعلیٰ عہدے پر فائز ذمہ دارانکی بد کلامی افسوسناک!

سہارنپور( خاص خبر احمد رضا) اس میں کوئی شبہ والی بات نہی ہے کہ جس طرح سے گجرات چناؤ کے دوران ملک کے مہذب قائدین پر بھاجپائی کیڈر نے حملہ بولا وہ بیہودگی اور ناشائستگی کی بھدی مثال ہے اس طرح کی بد کلامی پر نکیل کسی جانی چاہئے! گزشتہ دنوں ریاستی سطح پر حصہ داری مشن، پچھڑا سماج مہاسبھا اور دستور بچاؤ سوشل گروپ کے سربراہان کی ایک اہم میٹنگ ملک کے موجودہ سیاسی پس منظر میں رونما ہونیوالی شرمناک الزام تراشیو کے مقصد سے ریاستی ہیڈ کواٹر لکھنؤ کے اہم علاقہ میں شیو نارائن کشواہاکی زیر سرپرستی عمل میں آئی جسمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سوشل قائدین نے شرکت کی اس اہم مومقع پر سابق صدر جمہوریہ کے بیان کو بھر پور حمایت دیتے ہوئے گزشتہ چار سالوں سے لگاتار ملک کی آب وہوا کو زہر آلودہ بنائے جانیکی سازشوں کی بھر پور مزمت کی! اس موقع پر سوشل قائد اے ایچ ملک، ایڈوکیٹ محمد شعیب، مسلم اسکالر جمال احمد، نریندر پٹیل ، ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ اور سونیل یادو نے کہا کہ جس طرح ۲۰۰۲ میں اس وقت کے قابل قدر صدر جمہوریہ ہند کے آر نارائن نے گجرات سرکار کے وحشیانہ رویہ پر زبردست رد عمل دیتے ہوئے دکھ کا اظہار کیاتھا اسی انداز میں ممتا بینرجی، قابل قدر سابق صدر جمہوریہ ہند برنو مکھرجی اور گزشتہ روز حامد انصاری نے بھی جس درد کو باہر نکالا وہ سیاسی اسٹنٹ نہی بلکہ حق گوئی اور بیباکی کا شاندار نمونہ ہے ہمیں ان خیالات کی بھر پور تائید کرنی چاہئے!شیونارائن کشواہا اور ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ نے بیباک انداز میں کہاکہ ملک کا مسلمان عدم رواداری کے چلتے آج گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خد کو غیر محفوظ ماننے لگاہے اسکے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا جا رہا ہے ملک میں ہماری مسجدیں ، مدارس اور خانقاحیں محفوظ نہیں ہے جو مراعات اکثریتی فرقہ کو دی جا رہی ہے اسکا دس فیصد حصہ بھی آج تک مسلمانوں کو نہیں ملا ہے ہمارے اکابرین اور علماء نے اس ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے آج اسی ملک میں ہمارے ساتھ حق تلفی کی جا رہی ۱۵گست پر جبریہ طریقہ سے وندنا کرنے اور تقریبات کی ویڈیو گرافی کرانیکی ہدایات جاری ہورہیہیں یہی تو عدم رواداری کی مثال ہے جو باعث شرم عمل ہے بیشتر سماجی اور سیاسی معاملات میں مقمی پولیس اور انتظامیہ کا مسلم طبقہ کے افراد کے ساتھ اکثر برتاؤ سخت اور بیہودہ طریقہ کا رہتاہے مسلمانوں کو زیادہ تر معاملات میں فرضی پھنسایا جاتاہے اور خوف دلایا جاتاہے تھانہ بہٹ کے گاؤں سنسار پور میں کل مقامی پولیس ہلاکو خاں کی ایک لاکھ سے زائد کی قیمتی حاملہ گائے کو اس شک میں اٹھاکر لیگئی کہ اسے گائے کاٹنے کی اطلاع ملی جبکہ گائے دودھ کیلئے ہی مقامی باشندے راجپال سینی سے سات ماہ قبل خریدی گئی تھی کافی سمجھانیپر بھی پولیس نہی مانی اور قیمتی گائے کو تھانہ لیکر چلی گئی اسی طرح کے درجنوں معاملات سہارنپور اور میرٹھ کمشنری کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں اور قصبوں میں عام ہیں اکثر مسلم طبقہ پر ایک خوف ساقائم کیا جانا عام بات ہوکر رہگیاہے نیز سبھی سیاست داں اور افسران خاموش رہتے ہیں گجرات چناؤ میں جس طرح نریندر مودی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے تقاریر کی اور جس طرح ڈاکٹر حامد انصاری، منموہن سنگھ اور احمد پٹیل کو بیہودہ القاب سے پکارہ اور جس طرح کے الزامات ان سبھی پر عائد کئے وہ قابل مذمت ہیں ! قابل تعظیم ماہر تعلیم سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری نے جو کچھ بھی بار بار مختلف قومی سطح کے سمیناروں کے دوران اپنے بیان میں واضع کیا وہ قطعی سچ اور قابل قبول ہے پورا عالم مسلم قوم کی تباہ حالی سے وا قف ہے گزشتہ مئی ۲۰۱۴ سے ملک میں مسلم مخالف ماحول بنانے کیلئے کے لئے ہم صرف بھگواجماعتوں، بھاجپا اور آر ایس ایس کو ہی ذمہ دار نہی ٹھراسکتے کیونکہ گزشتہ عرصہ ۲۰۱۴ مئی سے قبل ملک میں دس سال تک مرکزی تخت پر منموہن سنگھ کی سرکار قابض رہی تب بھی مسلم اقوام کے ساتھ بڑے پیمانہ پر سوتیلا برتاؤ کیاگیا ملکی خفیہ یونٹ نے بیقصور اور مظلوم مسلمانوں پردہشت گردی کے بے تحاشہ فرضی الزامات لگائے اور انکو جیلوں میں ٹھونسا عدالتی کاروائی میں لمبے عرصہ بعد ججوں کے سامنے سچ آیاکہ جبریہ طور پر کسی اہم سازش کے تحت ہی بیقصور مسلم افراد کو جیل میں ٹھو نساگیاہے تو معزز عدالتوں نے اپنے لمبے چوڑے فیصلوں میں پولیس کے خلاف بیڈ ریمارکس دیتے ہوئے اسحرکت کی مذمت کی اور اب چودہ سال، دس سال، نو سال اور چھ سال کے لمبے عرصہ بعد عدالتی کاروائی مکمل ہو جانیکے بعد ملک کی معزز عدالتیں ان مسلم افراد کو باعزت بری کر رہی ہیں گزشتہ روز ہی حیدرآباد کے دس مسلمانوں کو دس سال جیل کی مشکلات اور جبر برداشت کرلیکے بعد قابل عدالت نے باعزت بری قرار دیا سہی معنوں میں بلاوجہ مسلمانوں کو آدھی زندگی جیل میں ٹھونسنے والوں کے خلاف مجرمانہ دفعات میں کرمنل معاملہ درج کئے جاناآئینی طور پر جائز ہیں! ملک میں قابل رحم اور قابل غور حالات پر اپنے اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل قائد اے ایچ ملک، ایڈوکیٹ محمد شعیب، مسلم اسکالر جمال احمد، نریندر پٹیل ، ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ اور سونیل یادو نے کہا کہ مگراس وقت اور آج کی موجودہ سرکار اس سچ سے نظریں چرائے ہو ئے ہیں وہ صرف اسلئے کہ یہ مسلم طبقہ کا معالہ ہے اور مسلمانوں کا درد ہے اسی لئے سبھی خاموش ہیں؟ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب رہبرقوم ایچ ملک، ایڈوکیٹ محمد شعیب، مسلم اسکالر جمال احمد، نریندر پٹیل ، ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ اور سونیل یادو جیسے حق پسند اور دلت مسلم اتحاد کیلئے لمبے عرصہ سے کوشاں ذمہ داران نے کہا کہ جس طرح حامد انصاری ، پرنب مکھجرجی اور ممتا بینرجی جیسے لوگ اکثر بیس سال قبل سے اور آج بھی مسلمانوں کی حمایت میں کھلے طور پر سہی اور حق پر مبنی بیان دے رہے ہیں یہ ذمہ دار قائد جہاں مسلم اقوام کی حالت میں سدھار کی بات کرتے ہیں وہیں بیروزگار مسلم نوجوانوں کو باروزگار بنانیکی زبردست وکالت کرنے کیساتھ ساتھ ا ردو کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں!