دینی تعلیم اور تربیت ہم سبھی کے لئے بیحد ضروری!

سہارنپور (احمد رضا) سرگرم سوشل قائد اور بہوجن سماج پارٹی کے مقبول عام رہنما حاجی فضل الرحمان نے آج مقامی مدرسہ مفتاح العلوم کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے بیباک لہجہ میں کہاکہ ہمارے ملک عزیز میں عصری تعلیمی مراکز، اسکول ،کالج، اعلیٰ تربیتی سینٹر اور دینی مدارس ہمارے ہم سب کے لئے اہمیت کے حامل ہیں بلخصوص اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کے لئے ان درسگاہوں کی کافی اہمیت ہے نئی نسلوں کو بہتر اصلاح کیلئے ان اداروں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے جن کے ذریعہ قوم کو تعلیم اور بلند اخلاق و تہذیب کے ساتھ ساتھ اصلاحی تربیت وتزکیہ بھی بہ آسانی حاصل ہوجاتاہے ہمارے ملک میں یہ عصری، جدید اورٹیکنکل سینٹروں اور مدارس ہی کی برکت ہے کہ ملک بھر میں ہر گوشہ میں ترقی اور قومی خوشحالی کے ساتھ ہی ہماری لاکھوں مساجد میں، دینی درسگاہیں اور تبلیغ دین کے اہم مرکز بڑی آب وتاب کے ساتھ جاری اور طاری ہیں اور سبھی ادارے ہر اہم موقع پر مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے ساتھ خوشگوار مراسم بنائے رکھتے ہیں، مدرسہ مفتاح العلوم کے طلبہ، استازدہ اور معونین کی بھر پور ستائش کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کے مقبول عام رہنما حاجی فضل الرحمان نے کہاکہ ہمارے پیارے ملک میں مختلف زبانیں، مختلف مذاہب اور مختلف برادریاں موجود ہیں پھر بھی ہم سب ایک ساتھ مل جل کر صدیوں سے رہتے آئے ہیں اور رہتے رہیں گے بس یہی ہماری تہذیب اور باوقار جمہوریہ ہندوستان کی اپنی سچی وراثت ہے ہم سبکو اسی وراثت کی حفاظت کرنی ہے! ہمارے یہ دینی مراکز ملک اور عالم انسایت کی بہتری اور اصلاح کے لئے وقت وقت پر لاکھوں کی تعداد میں عالم، مفتی اور مبلغین تیار کررہے ہیں ۔قوم مسلم کا مدارس سے ایمانی رشتہ ہے ان کے خلاف کسی بھی ناپاک کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں کھیلنے والے لوگوں کی ناپاک کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ہرطرف سے مدارس ، علماء ،طلباء ،ائمہ کے تحفظ کے لئے بورڈ جدوجہد کرے گا ہم اس کے پابند ہیں۔ مسلمانوں سے صبر وتحمل اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہیں اس موقع پر ناظم مدرسہ قاری شہاب الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہر انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے اسی لئے ہر شخص سچائی ،انصاف دیانت داری، مروت اور شرم وحیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ، ظلم ،خیانت، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتاہے، یہاں تک کہ ایسابھی ہوتاہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتاہے لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹاکہہ دے تو اس سے اس کوتکلیف پہنچتی ہے اور بعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے، جامعہ مظاہر العلوم وقف کے استاد مولانا محمود الحسن نے فرمایاکہ دنیا میں انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتاہے لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتاہے ،یہ دراصل فطرت کی آواز ہے اسی لئے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہربچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیداہوتاہے یعنی خداکی فرمانبرداری کے مزاج پر پیداکیا جاتاہے لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں مولانا محمود الحسن نے کہاکہ خارجی حالات کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتاہے اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتاہے ظلم وناانصافی ، بے حیائی وبے شرمی ،کبروغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ہے بلکہ خارجی عوامل کی وجہ سے پیداہونے والاانحراف ہے، مدرسہ کے سرپرست قاری عبد الرحمان نے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ماحول کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن وحدیث میں اس کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے کہ انسان اچھے ماحول میں رہے اور خراب ماحول سے اپنے آپ کو بچائے آپنے کہاکہ مدارس سے تعلیم لیکر نکلنیوالا نوجوان ملک اور ملت کی خد مت اور ترقی میں پہلی صف میں رہتاہے اسلئے دینی تعلیم اور تربیت ہم سبھی کے لئے بیحد ضروری ہے