ظلم و نا انصافی کی کوکھ سے آتنک واد پیدا ہوتا ہے۔ویکاس نہیں پیدا ہوتا صاحب ۔ ۔۔  شنبھولال ریگرجیسے آدم خور انسانی درندے بی جے پی کی فیکٹری سے نکلے ویکاس ہیں

( راشد عظیم ،کی اس تحریر پر بنایا گیا ویڈیو �آمنا سامنا میڈیا نیٹ ورک کے چینل سے یو ٹیوب نے ریمو کردیا صرف چالیس منٹ میں )
آمنا سامنا میڈیا ۔ سو شل میڈیا پر وائیرل درد ناک قتل کا و یڈیوساری دنیا نے دیکھا امن پسند فبھار تیوں کاسر شرم سے جھک گیا راجستھان کے اودے پور کے نزدیک شنبھولال ریگرایک پچاس سالہ مسلمان مزدور افروز اسلام کو مزدوی دلانے کے بہانے اپنی بائیک سے سنسان علاقے میں لے جاتاہے پھر لائیو ویڈیوبناکر شنبھولال ریگرآدم خور انسانی بھیڑیا لوجہاد اور اسلامی فوبیا کا خوف دیکھا کر چند قدم چلنے کے بعدافروز اسلام پرپیچھے سے حملہ کرتا ہے بھٹٹا شیخ زمین پر گر جاتا ہے ا س سے پہلے کے وہ سنبھل پاتا شنبھولال حیوانیت کی ساری حدیں پار کرتے ہوے تابڑ توڑ کلہاڑی سے دسیوں بار حملہ کرکے ہاتھ پیر سب الگ کردیتا ہے اس بیچ افروز اسلام چیخ چیخ کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتا ہے پر اس سفاک قاتل کی نفرت اور بڑھتی چلی جاتی ہے پھراپنی گاڑی سے ایک اور دھار دار ہتھیار نکال ظالم شنبھولال ریگرنہتے مظلوم مزدور کے گلے پر حملہ کر تاہے اتنے حملوں کے بعد بھی افروز اسلام کی سانسیں چل رہی تھی وہ سسک رہاتھااس کے باوجود اس شیطان کا ننگا ناچ ختم نہیں ہوا گاڑی سے کیروسین نکال کر تڑپتے ہوئے انسان افروز اسلام پر چھڑک کے جلا دیتا ہے انسانیت تڑپ گئی پر اس قاتل کو رحم نہیں آیا۔۔۔۔حد تو یہ ہیکہ اپنے اس ناپاک جرم کو ہندوتوا سے جوڑ کر ایک ویڈیو اور بنا کر اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف لڑائی قرار دیتے ہوئے جائز ٹھیرا تا ہے اور اپنے سماج کے لوگوں کو بھی بھڑکاتا ہے۔۔۔۔۔ اب یہاں بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔۔ شنبھولال میں یہ حیوانیت آئی کہا ں سے بھارت میں آئے دن شنبھولال جیسے شیطان کون پیدا کررہا ہے ۔۔۔ ان قاتلوں کو کس کی سرپرستی حاصل ہے۔۔۔ ان کے حوصلے اتنے بلند کیوں ہیں ۔۔۔۔ان کو قانون کا خوف کیوں نہیں ۔۔۔۔کیا ملک میں انصاف آخری سانسیں گن رہا ہے۔۔۔مسلما نوں،دلتوں او ر دبے کچلے بے گناہ مظلوم شہریوں کے خلاف ان کے مذہبی جذبات کو کون بھڑکا رہا ہے۔۔۔۔۔ ان کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک کر مجرم بنانے کا قصور وار کون ہے ۔۔۔۔کیا فرقہ پرستی کی آگ لگانے اور ملک کی امن پسند فضاوں میں تعصب اور نفرت کا زہر پھیلانے میں وی ایچ پی کے پروین تو گڑیا، بی جے پی کے ممبر  سنگیت سوم اور اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی ادتیہ ناتھ جیسے ہندوتوا وادی عام بھولے بھالے ہندوں کو مانسک روگی اور قاتل بنانے کے مجرم نہیں ہے ۔۔۔۔ جنہوں نے مختلف فرقوں ، قوموں اور دھرموں کے خلاف اپنے زہریلے بھاشنوں سے ہندوتوا کے نام پر ہندووں کے ایک خاص طبقے کو مجرم ، قاتل اور آتنکوادی بنایا۔۔۔۔

ملک میں پھر سے قانون کی بالا دستی قائم کرنے، ملک کو فرقہ پرستی اور تشددکی آگ سے بچانے کے لیے بھارت کے انصاف وامن پسند شہریوں کوآواز بلند کرنا ہوگا۔۔۔۔ دنیا میں اپنی شناخت رکھنے والے ہمارے طاقت ور جمہوری نظام پارلیمنٹ کے سیکولر امن پسند،محب وطن ممبران کو متحد ہوکر پارلیمنٹ میں ایسے سخت قانون کو بنانے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرنا ہوگا جس سے کسی بھی سیاسی جماعت،فرقے ،ذات ،اور مذہبی لیڈران کی زہریلی تقریر کرنے والے ملک وسماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں آسکے جن کی جگہ جیل کی سلاخیں اور پھا نسی کا پھندہ ہو ۔۔۔۔نہ کے پارلیمنٹ یا اسمبلیوں کے ایوان۔۔۔۔۔ ہم مودی سرکار سے اپیل کرتے ہیں اگر آپ میں ذرا سی بھی انسانیت باقی ہے اور ملک کے وزیرا عظم نریندر مودی جی آپ کے ماتا پیتا نے انسانیت کا سبق پڑھایا ہے تو راجستھان کے مسلم مزدورافروز اسلام کے درندہ صفت قاتل حیوان شمبھو لال ریگر کو پھانسی کی سزا کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے ۔۔۔
وزیراعظم نریندر بھائی مودی صاحب ظلم اور ناانصافی کی کوکھ سے آتنک واد پیدا ہوتا ہے۔۔۔ویکاس نہیں پیدا ہوتا۔۔۔۔۔

شنبھولال ریگرجیسے آدم خور انسانی درندے بی جے پی کی فیکٹری سے نکلے ویکاس ہیں
اگر سرکار مجرمانہ خاموشی اختیار کرتی ہے تو عدالت عالیہ سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہو ایسے مجرمین اور اپنی زہریلی تقریروں سے ایسے آتنک وادی تیار کرنے والوں کے خلاف جن کے یہ فالور ہیں سخت کارروائی کرے۔۔