القدس اسرائیل کادارالحکومت بناکرامریکہ نے امت مسلمہ کوللکارا

عبدالرافع رسول

بالآخراسرائیل نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرارے دیا اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کاآڈرجاری کردیا۔اس موقع پرنیتن یاہو کاکہناتھا کہ یہودی ریاست کا متحدہ ریاست ہائے امریکہ جیسا کوئی اور دوست نہیں۔ 6 دسمبر 2017بدھ کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم اور عرب دنیا ، عالمی لیڈروں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔امریکی صدر نے مسلم اور عالمی لیڈروں کی اس حوالے سے کڑی تنقید کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔عالمی لیڈروں نے ان کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن وسلامتی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی سنگین مضمرات ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اپنی نشری تقریر میں کہاکہ’’ میں اس کے لیے پرعزم تھا کہ اب یروشیلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے اور یہ ایک درست اقدام ہے اور یہ تبدیلی امریکا کے مفاد میں ہے‘‘۔واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع شہر قرار دیتے ہیں۔البتہ بعض ممالک کے قونصل خانے بیت المقدس میں قائم ہیں۔ان میں امریکا کا قونصل خانہ بھی شامل ہے۔
دیکھاجائے تویہ امریکاکاایک دیرینہ شرمناک منصوبہ تھا ریکارڈگھنگالا جائے توپتاچلتاہے کہ امریکا کے 1995 میں منظور کردہ ایک قانون میں یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا جائے گا لیکن ماضی میں امریکی صدور اس قانون پر عمل درآمد کو ہر چھے ماہ کے بعد موخر کرتے چلے آرہے تھے مگر اب ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارت خانہ منتقل کرنے کے حکم پر دستخط کر دیے ہیں اور اس ضمن میں محکمہ خارجہ کو ضروری انتظامات کی بھی ہدایت کردی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی جبکہ اب ٹرمپ نے اپنے اس انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا ہے اورمسلمانوں کے قبلہ اول کو اسرائیل کادارلحکومت تسلیم کردیا ۔ امریکی صدارتی عہدہ سھبالنے کے بعد جب ٹرمپ نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے اسرائیل کوچناتو11نومبر 2016 کوبرطانوی اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جا رہے ہیں، جو اسرائیلی حکومت کی دیرینہ خواہش ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاکہ اسرائیلی حکومت موقع غنیمت جانتے ہوئے امریکہ سے رہی سہی فلسطینی ریاست کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے ۔یادرہے اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کومسلمانوں کاقبلہ اول اورمسلمانوں کے بین تاریخی حوالوں سے مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں،یہودیوں اورمسلمانوں کے درمیان تنازع کی اصل جڑ ہے۔ امریکہ کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنااسرائیل کے 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے اور اس عمل سے وہ یہ کہناچاہتاہے کہ بیت المقدس کوئی متنازعہ مقام نہیں اورنہ یہ مسلمانوں کانہیں بلکہ یہودیوں کاہے۔ امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا مطلب اسرائیل کوبیت المقدس پراورالقدس کے اس سارے علاقے کا جائز حاکم تسلیم کرنا ہے۔
امریکہ نے روزاول سے ہی اسرائیل کی سرپرستی کی ہے جہاں اس نے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر کے’’ ریڈ انڈین‘‘ کا تجربہ دہرانے اور یہودیوں کو وہاں آباد کر کے انہیں ناقابل شکست طاقت کی حیثیت دینے کا برطانوی منصوبہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اور آج اسرائیل صرف اور صرف امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے تمام تر اخلاقی، سیاسی، اور قانونی تقاضوں کو رد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے وطن پر قابض ہے۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ کریہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اسرائیل فلسطین تنازع کو ہوا دینے اور اسے موجودہ نہج تک پہنچانے میں سب سے منفی کردار امریکہ نے ادا کیا۔ اس کی جانب دارانہ پالیسیوں کا رخ ہمیشہ اسرائیل کے حق میں رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف پیش کردہ قراردادوں کو سب سے زیادہ امریکہ نے ہی ہمیشہ ویٹو کیا اور اس طرح فلسطین پر اس کے قبضے کو دوام بخشا بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ یہ امریکہ ہی ہے جس کی شہہ پر اسرائیل نے فلسطین میں اپنے پائوں پھیلائے اور یہودی بستیاں قائم کیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ وسعت اختیار کرتی جا رہی ہیں اور اب یہی امریکہ بیت المقدس میں سفارت خانہ قائم کرکے اس تنازع کو ایک نئے اور پیچیدہ موڑپرپہنچادیا۔
سوال یہ ہے کہ امریکا کی بھرپور حمایت اور معاونت کے بغیر اسرائیل کتنی دور جاسکتا ہے، کتنی دیر زندہ یا توانا رہ سکتا ہے؟ یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ ساٹھ کے عشرے تک امریکا اور اسرائیل کے تعلقات معمول کے تھے۔ سترکے عشرے میں امریکا نے اسے سرپرست کی حیثیت سے قبول کیا اور اسی کے عشرے کے بعد سے دونوں میں تعلقات کی نوعیت بدل گئی۔ امریکا نے اسٹریٹجک معاملات میں اسرائیل کے شراکت دار کی حیثیت اختیار کرلی، اور تب سے اب تک تعلقات کا تنوع بڑھتا ہی گیا ہے۔اسرائیل اس قدر چھوٹا ملک ہے کہ اپنے طور پر اس کے لیے کچھ زیادہ کرنا ممکن نہیں۔ بالخصوص سلامتی کے معاملات میں۔ اگر امریکا بھرپور معاونت نہ کرتا تو اسرائیل کے لیے خطے میں یوں بقا سے ہمکنار رہنا ممکن نہ ہوتا۔ اسرائیل چاہے تو مدد کے لیے دیگر ممالک کی طرف بھی دیکھ سکتا ہے مگر اس کی بھرپور معاونت کے حوالے سے جو کردار امریکا ادا کرسکتا ہے وہ کوئی اور ملک ادا نہیں کرسکتا۔ یہی سبب ہے کہ اسرائیلی قیادت روس یا کسی اور ملک کی طرف دیکھنے سے اب تک گریز ہی کرتی آئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا بہت غیر تحریری نوعیت کے اتفاق رائے پر پہنچ گئے تھے، جس کے تحت امریکا اب تک ہر معاملے میں اسرائیل کی بھرپور مدد کرتا آیا ہے۔ امریکا نے اسرائیل کو سیاسی، سفارتی، عسکری اور اسٹریٹجک حمایت و مدد کے حوالے سے مایوس نہیں کیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ہر معاملے میں امریکا سے مشاورت کو لازم جانا ہے۔ وہ کوئی بھی عسکری یا سفارتی قدم اٹھانے سے پہلے امریکا سے پوچھنا اور اس کے مفادات کے حوالے سے احتیاط برتنا لازم گردانتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دونوں کے تعلقات میں گرم جوشی برقرار رہی ہے اور امریکا محسوس کرتا رہا ہے کہ اسرائیل عام طور پر اس کی مرضی سے ہٹ کر چلنا گوارا نہیں کرتا۔ ہر معاملے میں وہ امریکی پالیسی اور امریکی مفادات کو مقدم رکھنے کے حوالے سے تساہل سے کام نہیں لیتا ۔ اسرائیل نے کسی بھی بڑے فیصلے میں اب تک امریکا کو نظر انداز نہیں کیا۔ 1968میں عرب دنیا سے جنگ شروع کرنے سے قبل اسرائیل نے امریکی قیادت سے مشاورت کی تھی۔ تب دونوں ممالک کے تعلقات بہت زیادہ گرم جوشی پر مبنی نہیں تھے، تاہم اسرائیل نے امریکا کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر لنڈن جی جانسن نے اسرائیل پر واضح کردیا تھا کہ وہ آبنائے طیران کو کھلوانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مصر نے اس آبنائے کو اسرائیلی تجارتی جہازوں کے لیے بند کردیا تھا۔ 1973میں ایک مرحلے پر اسرائیل نے مصر اور شام پر حفظ ما تقدم کے اصول کے تحت حملے کی ٹھان لی تھی مگر پھر آخری لمحات میں یہ فیصلہ بدلنا پڑا کہ امریکا نے گرین سگنل نہیں دیا تھا۔ اسرائیل نے 1982میں لبنان پر حملے سے قبل بھی امریکا سے مشاورت کی اور کم و بیش ایک سال تک امریکا کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ معاملہ چھوٹے پیمانے کے آپریشن تک محدود رہے گا، مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔ 1991میں عراق کی طرف سے میزائل حملوں کے باوجود اسرائیلی فوج کوئی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں تھی کہ امریکا نے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا۔ 2006میں امریکا نے اسرائیل کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائی کے دوران سویلین انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے باز رہے گا۔
یہ بین حقیقت ہے کہ برظانوی سامراج نے اسرائیل کی ناجائزریاست کاقیام عمل میں لایاجبکہ امریکہ نے اس کی مکمل پرورش کی ۔اب دونوںامریکہ اوراسرائیل اٹوٹ بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔یہ بات امریکی صدورکے وردزبان رہی کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا رابطہ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر، خاندان کے مراسم کی طرح ہے، چونکہ ہم اس یہودی ریاست کو اپنا سب سے اہم ترین اتحادی تسلیم کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ وسیع تر فوجی تعاون اورعسکری امدادجاری رکھاکہ’’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ بات یقینی بنائیں کہ اسرائیل کو پوری صلاحیت میسر ہو جو اسرائیلی عوام کو محفوظ بنانے کے لیے درکار ہے‘‘۔اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے امریکا کے کردار اور اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کو جب بھی خطرناک چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے تب امریکا ہی اس کے لیے سب سے پہلا ملک ہوتا ہے جس کی طرف وہ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے دیکھتا ہے۔ ہر مشکل گھڑی میں اسرائیل نے امریکا ہی کو آواز دی ہے اور امریکا ہی نے اس کی بھرپور مدد بھی کی ہے۔ اسرائیل کی پرورش کابیڑااٹھارکھنے اوراسکی سلامتی یقینی بنانے سے متعلق ہر طرح کے مباحثے اور کسی بھی فورم کے مذاکرات کے حوالے سے امریکا ہی مرکزی کردار ادا کرتا آیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کا خصوصی تعلق کم و بیش چار عشروں پر مشتمل ہے۔ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے عوض امریکا نے اسرائیل سے جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ بھی کچھ کم نہیں اور خاص طور پر اسرائیل کی خودمختاری میں رونما ہونے والی کمی کے حوالے سے اس قیمت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ امریکا پر اسرائیل کا انحصار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب ذہنوں میں اس سوال کا ابھرنا لازم ہے کہ امریکا کی مدد کے بغیر اسرائیل برقرار بھی رہ سکے گا یا نہیں۔
امریکا نے اسرائیل کو 1949میں اس کے قیام کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر عسکری اور اقتصادی امداد کی مد میں125 ارب ڈالر دیئے ہیں۔ امریکا نے اسرائیل کو دس سالہ معاہدے کے تحت تک مزید امداد دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس معاہدے کے اختتام پر اسرائیل کے لیے امریکا کی مجموعی امداد کم و بیش180 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے زمانے میں امریکا سے سب سے زیادہ امداد وصول کرنے والا اسرائیل ہی ہے۔ اسرائیل کے لیے اسلحے کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ صرف امریکا ہے۔ اسلحہ تیار کرنے اور بیچنے والے دیگر ممالک فرانس، برطانیہ، روس اور چین میں سے کوئی بھی امریکا کی جگہ نہیں لے سکتا۔چند برسوں کے دوران امریکی امداد اسرائیل کے بجٹ کا تین فیصد اور قومی آمدن کا ایک فیصد رہی ہے۔ان اعدادوشمارکے پیش نظرکوئی دوسراملک فنڈنگ اور اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے اسرائیل کے لیے وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو امریکا کو حاصل ہے۔
امریکا ریاستی عہد کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کو ہرحال میں یقینی بنائے اور اسرائیل کے لیے ایسے ہتھیاروں کا بندوبست کرے جوبقول امریکہ کے اسے تمام دشمنوں، ان کے اتحاد یا غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کو ناکارہ بنانے کے لیے انتہائی کافی ہو اور اسلحے کے معیار کے حوالے سے اسرائیل کی برتری برقرار رہے تاکہ اس کا اپنا جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو۔سلامتی کی آڑمیںاسرائیل کی ہرممکن امدادکی ذمہ داری مکمل طور پر امریکا نے اپنے سر لے رکھی ہے۔ اگر مستقبل میں کبھی خطے کے ممالک کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ سر اٹھاتا ہے تب اسرائیل کے وجود کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نمودار ہوگا۔ اسرائیل کو امریکی حمایت پربھرپوراعتمادہے اوروہ امریکی سرپرستی کے باعث شانت ہے۔
امریکہ نے اسرائیل کو جدید ترین اور اپنی نوعیت کے سب سے منفرد میزائل دیئے اور ساتھ ہی ساتھ امریکا نے اسرائیل کو سائبر آپریشنز میں بہترین اشتراکِ عمل کی مشق بھی کرائی۔امریکا نے اسرائیل کو گلوبل سیٹلائٹ میزائل لانچ سرویلنس سسٹم کا لنک بھی دے رکھا ہے، جس کی مدد سے اسرائیل کو کسی بھی بڑے میزائل حملے کا کئی منٹ پہلے علم ہوسکتا ہے اور یوں وہ شہریوں کو الرٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کو لڑنے کی بہترین پوزیشن میں لاسکتا ہے۔امریکا نے اسرائیل کو مشترکہ جنگی مشقوں کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ کئی بار ایسی مشقیں بھی کرنے کو ملی ہیں، جن میں امریکا سمیت کئی ممالک کی مسلح افواج شریک تھیں۔ یوں اسرائیل کو دفاع کے جدید ترین طریقے سیکھنے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کی افواج سے تعلقات بہتر بنانے اور اشتراکِ عمل کا دائرہ وسیع تر کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے۔امریکا نے اسرائیل میں بہت بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولا بارود بھی ذخیرہ کر رکھا ہے۔ اس ذخیرے کے محض ایک حصے تک اسرائیل کو رسائی حاصل ہے۔ دونوں ِ اسلحہ سے متعلق سرگرمیوں میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہتے ہیں۔ اسٹریٹجک معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی تعلق وربط ہے۔ماضی قریب میں لیبیا، عراق، شام اور دیگر ممالک میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کو ناکام بنانا اسی ربط وارتباط کاشاخسانہ ہے ۔
اسرائیل کاسفارتی امور میں امریکا پر اس کا انحصار انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس نے اسرائیل کو عالمی اور علاقائی تنظیموں میں قبولیت دلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یورپ میں تعاون کی تنظیم اور دیگر ورکنگ گروپس میں اسرائیل کے لیے قبولیت پیدا کرنے میں امریکا کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔سفارتی سطح پر بھی جوکردار اسرائیل کے لیے امریکا ادا کرتا آیا ہے، وہ ایک بھیانک داستان ہے۔ ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کو امریکا کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ امریکا نے بہت سے بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کو امن عمل، عسکری اور سفارتی اقدامات اور جوہری پروگرام کے حوالے سے قراردادوں اور اقدامات سے بچانے میں شیطانی کردار ادا کیا ہے۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کو’’ویٹو پاور ‘‘کے ذریعے مختلف قراردادوں اور پابندیوں سے جس قدر بچایا ہے اتنا کسی بھی بڑی طاقت نے کسی اور ملک کو نہیں بچایا ہوگا۔ امریکا نے کبھی کبھی اسرائیل کو ایسی پالیسیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں سے بچایا ہے، جن سے خود اسے بھی اتفاق نہیں تھا۔ 1952سے 2011تک امریکا نے اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی 20قراردادوں کو ویٹو کیا۔
مشرق وسطیٰ میں امن کے معاملے میں اسرائیل کو اس کی مرضی کی صورتحال پیدا کرکے دینے کے حوالے سے جو کردار امریکا نے اسرائیل کے لیے ادا کیا ہے وہ ایک سیاہ تاریخ ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی مرضی کے مطابق امن معاہدے قبول کریں۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے تو یہودیوں کی ریاست کے طور پر قبول کرلیا جائے مگر وہ فلسطینیوں کو ریاست کے قیام کا حق نہیں دینا چاہتا۔ اور اس معاملے میں امریکا اب تک اس کا کھل کر ساتھ دیتا آیا ہے۔ امریکا نے اسرائیل کی خواہش کے مطابق اس بات کا بھی اہتمام کیا ہے کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر واپسی کے حق سے بھی محروم رہیں۔امریکا اصولی طور پر تو اس بات کا حامی ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں ان تمام عرب علاقوں اور عرب زمینوں پر اسرائیل نے یہودیوں کی جو بستیاں بسائی ہیں، وہ اسرائیل کا حصہ ہوجائیں۔
علاقائی سطح پر اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے میں بھی امریکا پیش پیش رہا ہے۔ اس نے اردن اور مصر سے سفارتی اور دیگر روابط کے قیام میں اسرائیل کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ خلیجی ممالک اور شمالی افریقا کے خطے میں بھی اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرنے میں امریکی قیادت پیچھے نہیں رہی۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنایا جائے اور اس کے حوالے سے پائی جانے والی مخاصمت کا گراف نیچے لایا جائے۔ اسی حوالے سے امریکا نے مصر اور اردن میں کوالیفائنگ انڈسٹریل زون کے قیام کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے لیے ان دونوں ممالک سے بہتر معاشی روابط قائم رکھنا ممکن ہوسکا۔اسرائیل کی معیشت کومستحکم بنانے میں امریکا آج بھی اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس پس منظرمیںتقریبا تمام ہی معاملات میں امریکا کی طرف دیکھنا اسرائیل کی مجبوری رہا ہے۔