مسلم امت امریکی صہیونی اتحاد کے خلاف متحد ہو: فلسطینی علماء کی اپیل

غزہ 7دسمبر :فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی اعلان پر فلسطینی علماء نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا اقدام ارض فلسطین اور ارض مقدس پر اولاد صہیون کے ناجائز قبضے کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔علماء کی اس مشترکہ جماعت نے یہ بھی کہا کہ نہ کہ صرف مسلم امت ؛ بلکہ تمام امن پسند ممالک کو امریکہ کے اس احمقانہ فیصلہ کے خلاف سینہ سپر ہوجانا چاہیے ؛ کیونکہ اس سے عالم میں بدامنی پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی سپریم علماء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے پاگل پن پر مبنی اقدام سے نہ تو دنیا ختم ہوگی اور نہ ہی یہ اقدام ارض مقدس پرصہیونیوں کا قبضہ مضبوط کرسکے گا۔ یہ اقدام خود صہیونیوں اور ان کی ذریت و حواریوں کے انجام بد کا پیش خیمہ ہوگا۔ فلسطینی علماء نے فلسطینی قوم اور پوری مسلم ا مت سے اپیل کی کہ وہ امریکا کے سیاہ اقدام کے خلاف علم بغاوت بلند کردیں، وہ وقت گذر گیا جب ’’امن امن ‘‘کا نعرہ بلند کیا کرتے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا القدس کے بارے میں اقدام شیطانی ، ابلیسی او ردجالی طاقتوں کی سازشوں کا تسلسل ہے اور اس کا مقابلہ مسلم امہ کے اتحاد سے ممکن ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے احمقانہ اقدام سے فلسطینی ریاست کے وجود کے اور حال کی نفی کی ہے مگرحقیقی معنوں میں انہوں نے غاصب صہیونی ریاست کی تباہی کا پروانہ جاری کردیا ہے۔واضح ہو کہ امریکہ کے اس پاگل پن فیصلہ کے خلاف اقوام عالم میں شدید مزاحمت ہو رہی ہے ۔ پاکستان و بھارت اور دیگر ممالک میں امریکہ اس احمقانہ فیصلے کی شدید مذمت کی جارہی ہے ۔ مشہور بھارتی عالم مولانا محمود مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ خطہ میں نقض امن کی ایک شیطانی کوشش ہے ؛ لہذا بھارتی حکام کو چاہیے کہ امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کرے اور امریکی سفیر بلاکر اپنا احتجاج درج کرائے ۔