بلدیاتی چناؤکاآخری مرحلہ چھبیس اضلاع کے مسلم ووٹر پھر پچھڑگئے!

سہارنپور ( احمدرضا) چھبیس اضلاع کی مسلم اکثریتی علاقوں میں سست رفتار سے ہونیوالی پولنگ نے آخر یہ ثابت کرہی دیاکہ مسلم قوم خد پرستی میں بہکر کٹر ہندو تنظیموں کی ووٹ تقسیم کرو سازش کا بہ آسانی ہوجاتی ہے یہ قوم ستر سالوں سے جلد بازی اور جوش میں اندھی ہوکر دوڑ لگانا پسند کرتی ہے اسلئے ہر مورچہ پر لگاتار پچحر تی جارہی ہے اتناہی نہی بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ قوم مسلمان کو ووٹ نہ دیکر غیر مسلم کو ووٹ دیکر اپنے ووٹ کا وزن جان بوجھ کر گھٹانے پر بضد ہیں یہی وجہ ہے وزیر اعظم تو دور ہم تیس کروڑ کی بھیڑ والے طبقہ کے ووٹر اپنے ووٹ سے ایک ممنر لوک سبھا اور ممبر اسمبلی یا اپنا میئر بھی چننے کے لائق نہی رہگئے ہیں؟ دیگر اقوام کی بدلتی تصویر اور رہن سہن سے آج بھی ہم نے سبق نہی سیکھا یہی ہماری تیس کروڑ کی بھیڑ والی قوم کی پستی کا سبب ہے! کل ہونیوالے چھبیس ضلعوں کے پولنگ نے یہ ثابت کردکھایاہے کہ مسلم قوم اپنا برا بھلا سوچنے کے لائق ہی نہی رہگئی ہے مفاد پرستی نے اہماری قوم کو مسلک اور ذات برادری پر مبنی خد غرضی کے دل دل میں پھنسادیاہے اس ملک میں ہمیشہ ہی سیاسی جماعتیں ہمکو جوش دلاکر ہمارے ووٹ کو ضائع کرانے میں کامیاب رہتی ہیں ۲۰۱۴ لوک سبھا چناؤ اور ۲۰۱۷ اسمبلی چناؤ کی ہی طرز پر اس بار بلدیاتی چناؤ میں بھی موقع پرست ہندو تنظیمیں اور انکی ہم پلہ نام نہاد مسلم تنظیمیں آج کے بلدیاتی چناؤ میں بھی مسلم ووٹ کو بہ آسانی تقسیم کرانے میں پچاس فیصد کامیاب رہی ہیں!
سبھی چھبیس اضلاع بلخصوص سہارنپور، باغپت، بلند شہر اور مرادآباد تک مسلم اکثریتی علاقوں میں سبھی سیٹوں پر مسلم ووٹ کے بکھراؤ سے بھاجپا کے امیدوار اہم سیٹوں پر مقابلہ میں پہلے پائیدان پر ہیں ہمارے دیوبند کی اہم چیئر مین سیٹ پر بھی حالت یہی دیکھنے کو ملی ہے یہاں مسلم ووٹ کی تقسیم نے سیکولر ووٹ کو زبردست نقصان پہنچادیاہے ہمارے غورطلب ہے کہ ہمارے ان چھبیس اضلاع میں دلت ووٹ ۲۱ فیصد جبکہ مسلم ووٹ کہیں ۳۰ تو کہیں ۲۰ فیصد کے قریب ہیں یہاں قریب بلدیاتی چناؤ میں چیئر مین کی دوسو سیٹوں پر مسلم اور دلت ہی بھاجپاکا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ہماریسیکڑوں نگر پالیکاؤں اور ٹاؤن ایریا کمیٹیوں کے چیئر مین اور چھہ کے قریب میئر کی اہم سیٹ پر ہونے والی مسلم طبقہ کی کم پولنگ نے یہ ثابت کر دیاہے کہ یہاں زیادہ پولنگ بھاجپائی طبقہ نے ہی کی ہے صاف ظاہر ہے کہ یہاں مسلم دلت اتحاد نے صرف اور صرف مسلمامیدواروں کے خسارہ کو روکنے کاہی کام انجام دیاہے بھاجپائیوں کو روکنے میں سبھی ناکام رہے ہیں! اہم بات ہیکہ مگر قوم کی جلد بازی نے کمزور کانگریسی اور سماجوادی کے امید واروں کو بھی اپنا ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کمشنری کے ساتھ ساتھ آس پاس کے درجن بھر اضلاع میں بھی بھاجپاکے منصوبوں کو کامیاب بنادیاہے سرکاری ذرائع کے مطابق ہمارے ضلع میں پانچ بجے تک۶۱ فیصد پولنگ آج اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہپاں بھاجپا ہی زبردست مقابلہ میں موجود ہے قابل ذکر ہے کہ بھاجپا ہمیشہ پندرہ سالوں سے اس ضلع میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش میں سرگرم رہی مگر مسلم اتحاد نے ہمیشہ بھاجپاکو ہر موقع پر مات ہی دی مگر اس بار مسلم طبقہ کی جلد بازی اور نا سمجھی نے یہاں بھاجپاکو پاؤں جمانے کا موقع فراہم کر ہی دیاجو مستقبل کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے ؟ رپورٹ کے مطابق سبھی چھبیس ضلعوں میں کم از کم تیس فیصد سے زائد مسلم ووٹ تین جماعتوں کے امید واروں کے درمیان بانٹ دیاگیاہے جسکا سیدھا فائدہ بھاجپاکو ملا ہے ضلع بھر میں دیر شام تکجہاں۶۱ فیصد پولنگ ریکارڈ ہواہے وہیں مسلم علاقوں میں پولنگ کی شرح سہارنپور، باغپت، بلند شہر اور مراد آباد تک کم ہی ریکارڈ کیگئی ہے جو سیکولر امیدواروں کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے ابھی بھی کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، بھاجپا اور سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں مسلم ووٹرس تقسیم ہورہاہے جو ایک حیرت کردینیوالی سچائی ہے پولنگ سبھی جگہ پر امن رہی مگر مقامی پولیس نے مسلم ووٹرس کے ساتھجو سختی دکھائی اسکی بھی مذمت کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک بھی نہی کی ہے جگہ جگہ آدھار کارڈ مانگ کر پولیس عملہ کے ذریعہ مسلمانوں کو ووٹ دینے سے روکا گیا ہے پولیس اور پی اے سی کے ساتھ ساتھ دیگر فورسیز نے بھی جانبوجھ کر مسلم ووٹرس کو پولنگ کیلئے جانے سے روکا جہاں مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹ کیلئے آدھار کارڈ کو لازمی کر کے مسلم ووٹرس کو ووٹ دینے سے روکا گیا وہیں بھاجپائی علاقوں میں اس بار کافی نرمی دکھائی گئی؟