گجرات سے ملنے والی خبروںسے خوش ہونے کی ضرورت نہیں از:صادق رضامصباحی،ممبئی/موبائل نمبر:09619034199

گجرات سے جوخبریں موصول ہورہی ہیں وہ صرف ملک کے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے بظاہر خوش آئندمعلوم ہوتی ہیں،اب یہ الیکشن کے نتائج کے بعدہی کہاجاسکے گاکہ ان خبروں میں کتنی صداقت ہے۔ خداکرے کہ یہ خبریں اپنی اصل میں بھی خوش آئندہوں ۔کہاجارہاہے کہ گجرات کی سرزمین بی جےپی کے ہاتھوں سے کھسکنے لگی ہے اورجلدہی الیکشن نتائج کے بعدیہ حقیقت جگ ظاہرہوجائے گی ۔اللہ کرے ایساہی ہوجائے مگربہت سارے خدشات بھی ہیں جنہیں نظرانداز کرنا نری حماقت ہوگی ۔یہ شایدملک کی تاریخ میں پہلاواقعہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کسی بھی ریاست کے انتخابی نتائج کے لیے اتنی مغزماری کررہاہے اوربی جے پی کوفتح دلانے کے لیے گجرات میں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں ۔گجرات کے ساتھ ہماچل پردیش میں بھی ریاستی الیکشن ہورہاہے مگربی جےپی شایدہماچل پردیش کے الیکشن کواتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے جتناکہ گجرات کو۔کیوں؟راقم الحروف بارباران صفحات میں لکھتارہاہے کہ گجرات ہمارے وزیراعظم نریندرمودی کے لیے ’’ناک ‘‘کی حیثیت رکھتاہے کیوں کہ گجرات آرایس ایس کی ’’تجربہ گاہ‘‘ رہا ہے اورگجرات کی اس ’’تجربہ گاہ ‘‘سے ملک کے دیگر مقامات پرایسی کئی ’’تجربہ گاہیں ‘‘کھولنے کےمواقع پیداہوسکتے ہیں ۔

یہ سمجھنابالکل غلط ہے کہ بی جے پی سے صرف مسلمان ہی خائف ہیں ،مسلمانوں کے علاوہ دیگراقلیتی طبقے خصوصاًعیسائی اوردلت بھی سخت تشویش اوراضطراب میں مبتلا ہیں اوراپنے طورپرگجرات کے اقتدارسے بی جے پی کودوررکھنے کے لیے پیش بندی بھی کررہے ہیں ۔آرایس ایس مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں اورعیسائیوں کے لیے بھی مسائل کھڑی کرتی ر ہی  ہے ،یہ الگ بات ہے کہ سب سے زیادہ شورمسلمان مچاتے ہیں ۔مسلمانوں کے بے شعور،ضمیرفروش اورمفادپرست لیڈراسے اچھال کراپنی لیڈری چمکانےکی چمکانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ عیسائیوں کے سرکردہ حضرات اپنی مردانگی کاثبوت دیتے ہوئے اپنے مسائل حل کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس لیے وہ میڈیامیں زیادہ اجاگرنہیں ہوپاتے۔بی جے پی کی پالیسیوں کی عیسائیوں کی تشویش کاثبوت وہ واقعہ جوایک ہفتے قبل گجرات کے شہراحمدآبادمیں رونماہواہے ۔ احمدآبادکے آرک بشپ مسٹرتھومس ماکوان نے اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ملک کی جمہوریت کوبچانے کے لیے اقتدارکوفرقہ پرستوں سے دوررکھنے کی ضرورت ہے ۔ فرقہ پرستوں سے ان کی مرادظاہرہے کہ بی جے پی ہی ہے ۔ان کی یہ اپیل مقامی میڈیاکی زینت بنی اوراس اپیل کی بنیادپرالیکشن کمیشن نے انہیں نوٹس جاری کردیا ہےاوران سے جواب طلب کرلیاہے۔عیسائیوں کواگرتشویش نہ ہوتی تومسٹرتھومس ماکوان اپنی کمیونٹی کوبی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کیوں کرتے؟

کانگریس کے نائب صدراہل گاندھی جن کابی جے پی اکثرمذاق اڑاتی رہی ہے ،مزے لینے والے انہیں ’’پپو‘‘کہہ کر مخاطب کرتے رہے ہیں ۔ان کی ناتجربہ کاری اورکم فہمی کے قصے اکثرمزے لے لے کربیان کیے جاتے رہے ہیں ،آج انہی راہل گاندھی کے بارے میں کہاجارہاہے کہ گجرات کا محاذ سرکرلینے کے لیے انہوں نے اپنے بازوئوں کی ساری قوت سمیٹ لی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک طبقے کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہاہے کہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ہلکے میں لیے جانے والے راہل گاندھی اس باربی جےپی پر بہت بھاری پڑسکتے ہیں اورکانگریس کی ڈوبتی نائو کو ساحل سے لگانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ راہل گاندھی گجرات کے امتحان میں ناکام ہوجائیں مگریہ سچ ہے کہ ا س باربلکہ شایداپنی سیاسی تاریخ میں پہلی بارراہل گاندھی بڑی دانش مندی اورتجربہ کاری کامظاہرہ کررہے ہیں ۔نتائج کانگریس کے حق میں پوری طرح اگرچہ نہ آسکیں مگرراہل گاندھی کی دانش مندی،تجربہ کاری اور منصوبہ بندی کے کچھ نہ کچھ نتائج توضرورنکلیں گے۔اسی منصوبہ بندی کااثرہےکہ پاٹے داروں کی پارٹی سے کانگریس نے معاہدہ کرلیاہے چنانچہ کئی ماہ سے بی جے پی کے خلاف آسمان سرپراٹھالینے والے  پاٹے داروں کے لیڈرہاردک پٹیل بی جے پی کوشکست کامزہ چکھانے کے لیے کانگریس سے مل گئے ہیں۔ 

ان سارے حقائق کابی جے پی کی مرکزی قیادت کواچھی طرح اندازہ ہےاس لیے گجرات کے لیے اس کی منصوبہ بندی بلکہ شاطرانہ چالیں اورعیارانہ پالیسیاں گجرات کو ’’بچانے‘‘ کے لیے بروئے کارلائی جارہی ہیں اور ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کیےجارہے ہیں ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کانگریس کا’’پپو‘‘گجرات کے اس امتحان میں’’پاس ‘‘ہوتاہے یابی جےپی کی عیارپالیسیاں اسے ’’ناکام ‘‘بنادیتی ہیںاس لیے ابھی سے زیادہ خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیںہے ۔