ہوش ہی فتح کی کنجی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرانا بھاجپا کی گہری سازش؟ مسلم ووٹرس کو فریب دینے والے ہی قوم کے اصل دشمن !فضل الرحمان

 سہارنپو۲۸نومبر,آمنا سامنا میڈیا( احمد رضا) ضلع کی اہم سٹی میئر سیٹ پر سماجوادی پارٹی ک

ے امیدوار ساجد چودھری اور کانگریس کے امید وار ششی والیا اپنے اپنے تمام سیاسی داؤں پیچ استعمال کر لئے ہیں ہیں مگر سبھی کے پاس آج ہندو ووٹ کی زبردست کمی دکھائی دے رہی ہے دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے قائدین آج صرف مسلم ووٹ کی امید پر چناؤ میدان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اب آخری روز سپا اور کانگریس کے سیکڑوں کارکن صبح اپنے دفتروں کو چھوڑ کر دیرر شام کے بعد تک مقامی بہوجن سماج پارٹی ؂ دفتروں میں نظر آتے ہیں سیاسی کارکنان اور سیاسی رہبروں کے روز بروز بدلتے نظریہ سے یہ ظاہر ہونے لگاہے کہ انتیس نومبر کو یہاںآج ہونیوالے میئر چناؤ میں سیدھا مقابلہ اب صرف اور صرف بھاجپاکے سنجیو والیاء اوربہوجن سماج پارٹی کے بھاری بھرکم امیدوار حاجی فضل الرحمان کے درمیان ہی رہ گیا ہے کل شہر میں وزیر اعلیٰ یوگی کی ریلی بھی بھاجپائی کارکنان میں بڑھتے اختلافات کو کم نہی کر پائی جس کہ نتیجہ میں بھاجپا کا ایک بڑا طبقہ حاجی فضل الرحمان کے ساتھ آکھڑا ہواہے اس سیاسی رسہ کشی کے کھیل نے جہاں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو میدان سے باہر کردیاہے وہیں اب یہ مقابلہ اور بھی دل چسپ ہوگیاہے شہر میں ہر دن بہوجن سماج پارٹی کے قائدین درجن بھر ریلیاں کر نے میں مصروف رہے ہیں وہیں ہفتہ بھر سے کانگریس اور سماجوادی پارٹی صر ف تین میٹنگ ہی کر سکی ہے ان پارٹیوں کے سبھی کارکنا ن کابہوجن سماج پارٹی کے پروگراموں میں نظر آنا بحث کا موضوع بناہے!علاوہ ازیں شہرکے بہت علاقوں میں کل دیر رات تک بہوجن سماج پارٹی کی پبلک میٹنگ میں بسپا کے درجن بھر قائدین نے زور دیکر کہاکہ آج یہاں ہندو مسلم اور دلتوں کی بھاری بھیڑ بسپاکی بڑھتی طاقت کی ضامن ہے میئر سیٹ کے دعوے دار حاجی فضل الرحمانکے حق میں قائدین نے بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے بڑی بیباکی کے ساتھ کہ رہے ہیں کہ ہم سبھی لوگ ضلع میں مل جل کر رہتے ہیں مگر موقع پرست اور ووٹ کے سوداگر ہمیں آپس میں لڑاکر ووٹ لینا چاہتے ہیں جو اب نہی ہوگا ہم سبھی مل جل کر ایک جگہ قائم رہکر ضلع کی بہتری کیلئے ہی اپنے ووٹ کا سہی استعمال کریں گے ! علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجوئیٹ سوشل رہبر اور نامور تاجر حاجی فضل الرحمان کا سیدھا کہناہیکہ یہاں ہمیشہ سے دنگے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہی رونما ہوتے رہے ہیں دنگے اچانک نہی ہوتے دنگے کرائے جاتے ہیں عام رائے یہ بھی ہیکہ ہندو مسلم لڑتے نہی بلکہ سیاست داں انکو اپنے مفاد کیلئے لڑاتے ہیں!بہوجن سماج پارٹی قائدنے بیباک انداز میں کہاکہ آج تو شروعات ہے ۲۰۱۹ میں آپکے ووٹ کی طاقت سے بہوجن سماج کی سرکار آجانیکے بعد مسلم طبقہ کو آبادی کے لحاظ سے سرکاری اداروں میں حصہ داری دینے کا وعدہ ہر صورت پوراکیا جائیگا !

قابل غور بات ہیکہ کل ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ووٹرس کی بھیڑ میں آج بھاجپائی اپنے تین لاکھ ووٹ کو یکجا کرنے کیلئے زبردست تشہیر چلائے ہوئے ہیں تیس سے زائد بڑے سیکڑوں کے سیکڑوں علاقوں میں بھاجپائی آج بھی سبھی جماعتوں کو پچھاڑ کر سب سے آگے کھڑے ہیں جبکہ کانگریس اور سماجوادی صرف اور صرف مسلم ووٹ کیلئے آپس ہی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف رہے ہیں ضلع کی اہم شہری میئر سیٹ پر امسال ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ووٹ ہیں اور یہاں سیدھا مقابلہ بھاجپاکے سنجیو والیا کے ساتھ ہونا طے ہے سیاسی داؤں بینچ صرف مسل ووٹ کیلئے ہی کھیلے جارہے ہیں ہندو ووٹ اکثریت کے ساتھ بھاجپا امیدوار کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے اس ووٹ کو تقسیم کیا جانا کافی مشکل ہوگا یہاں الیکشن کا بخار روز بروز تیزی کی جانب بڑھتا جارہاہے! سہی جائزہ کے مطابق اگر مسلم ووٹ اسی فیصد اور غیر مسلم ووٹ ساٹھ فیصد پول ہوا تو سیٹ بہوجن سماج پارٹی کو ہی مل کر رہیگی اگر مسلم ووٹ کم پول ہوا اور دیگر ووٹ کے پولنگ نے بڑھت حاصل کرلی تو پھر سیٹ گئی سیدھے بھا جپا کے کھاتہ میں؟صل مخالف بھاجپاکو کوئی برا نہی کہ رہاہے دونوں جماعتیں مسلم ووٹ کیلئے حاجی فضل الرحمان ہی کی مخالفت میں زیادہ سرگرم ہیں وہیں بسپاکے کارکن بڑی سنجیدگی سے کسی کی برائی کئے بغیر ہر سیکٹر میں بھاجپائی تشہیر کا زبر دست انداز میں مقابل کر تے نظر آرہے ہیں؟ سٹی پیلیس کی ایک ووٹر بیداری تقریب کے دوران سول کورٹ کے سینئر وکیل سجاد حسیننے کہاکہ کچھ قائد بھاجپاسے پیسہ وصول کر مسلم ووٹ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم امیدوار کویہاں کا میئر بننے سے روکا جا سکے عارف قریشی اور مون بھائی نے بیباک لہجہ میں کہاکہ ہندو مخالف بیاندیکر ہندو ووٹ کو متحد کرنیکا کام چند مسلم سیاست داں کر رہیہیں ہمیں ان شاطروں سے بچکر اپنے ووٹ کا سہی استعمال کرناہے دونوں بسپا نمائندوں نے کہاکہ بسپاہی میئر سیٹ پر آپکے ووٹ کی سہی حقدار ہے! سینئر وکیل سجاد حسیننے کہاہیکہ بسپا قائد حاجی فضل الرحمان پچھلے چالیس سالوں سے ہر مہم اور تحریک کے موقع پر قومی خدمات انجام دیتے آئے ہیں ہمیں انہی کو ووٹ دیکر ضلع کا نام روشن کرناہے! سینئر وکیل سجاد حسیننے کہاکہ ہندو مسلم ایکتا اور قوم کے بے لوث ہمدرد نے ہمیشہ اس ضلع کے عوام کو راحت پہنچانیکا عملی کام انجام دیاہے ضلع کے ہزاروں لوگ اس سچائی کے گواہ ہیں کمشنری کے چند مفاد پرستوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہاں ووٹ لینے کے بعد بھاجپاکو فیض پہنچانیوالے مسلم قائدین کی بہتات ہے آج موقع ہاتھ میں ہے ہمیں حق دلانیوالے ہاتھوں کو ہی تقویت دینی ہے تاکہ قوم کا بھلا ہوسکے مسلم رہبر پاشا قریشی نے کہاکہ حاجی فضل الرحمان قوم کے سچے ہمدرد ہیں ہمیں ایسے ہے بیباک قائدین کی ضرورت ہے ہمارا مکمل تعاون حاجی فضل الرحمان کیلئے ہی ہونا چاہئے تاکہ میئر چنے جانیکے بعد جہاں نگر نگم بھاجپاکے ہاتھوں بچا رہیگا وہیں مسلم بستیوں کا بھی سدھار ممکن ہوگا!ایڈوکیٹ عاقل فاروق نیکہاکہ مسلمان کے ذریعہ اپنے وطن کی خاطرکافی قر بانیاں دینے کے بعد بھی اپنے اس ملک میں مٹھی بھر فرقہ پرست اور موقع پرست آج ہمیں اور ہماری نئی نسل کو شک کے دائرہ میں لاکر تنگ و پریشان کر نے پر بضد ہیں اور چند مفاد پرستوں نے ہما ووٹ لیکر اقتدار تو پالیا مگر ہمیں سازش کے تحت سرکاری مراعات سے محروم ہی کئے رکھاہے بڑی برادریوں نسے وابسطہ افراد ہمیشہ ہم پچاسی فیصد عوام کوآج بھی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبورکر رہے ہیں ہمیں ان مفاد پرست طاقتوں سے ہوشیار رہکر اپنے ووٹ کا سہی استعمال کرناہے اور بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ہی کو جتاناہے!