فاروق عبداللہکا مودی حکومت کو چیلنج سری نگر کے لال چوک پر لہراکر دکھائے ترنگا

جموں،27؍نومبر:ایک بار پھر متنازعہ تبصرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے پیر کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر(پی او کے) میں ترنگا لہرانے کی باتیں کرنے سے پہلے سری نگر کے لال چوک پر قومی پرچم لہراکر دکھائے۔فاروق نے پوک کو لے کر کی گئی اپنی پچھلی متنازعہ تبصرہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف سچ سامنے رکھا ہے۔فاروق نے حال ہی میں کہا تھا کہ پی او کسی کے باپ کا نہیں ہے، وہ ہندوستان کا حصہ کبھی نہیں بن سکتا۔ کانگریس لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ جییل ڈوگرا کی 30ویں برسی کے موقع پر انہیں چادر عقیدت پیش کرنے کے فاروق نے کہاکہ وہ (مرکز اور بی جے پی)پی او کے میں پرچم لہرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ پہلے سری نگر کے لال چوک پر جاکر پرچم لہرائیں۔وہ ایسا کر نہیں سکتے اور پی او کی باتیں کرتے ہیں۔اپنے تبصرہ کے دفاع میں نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہاکہ اگر آپ سچ سننا پسند نہیں کرتے تو بھلاوے میں ہی رہیں۔سچ یہ ہے کہ پی او ہمارا حصہ نہیں ہے اور یہ (جموں و کشمیر)پاکستان کاحصہ نہیں ہے۔یہ سچ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی تعزیت کیا ہوتی ہے؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ہندوستانی نہیں ہوں؟ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کن کی بات کر رہے ہیں؟ ان شریروں کے بارے میں جنہیں ہماری تکلیفیں نہیں دکھائی دیتیں؟ جو سرحد پر رہنے والے لوگوں کی تکلیفیں نہیں دیکھتے؟ جب گولے برسنے شروع ہوتے ہیں تو انہیں کیسی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔فاروق نے اس واقعہ کی مذمت کی جس میں کچھ دن پہلے راجوری ضلع میں قومی ترانے کے وقت دو طالب علم کھڑے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے لئے احترام اہم ہے اور قومی ترانہ سب سے زیادہ معزز ہے۔انہوں نے کہا کہ قصورواروں کے معافی مانگنے تک حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے اور انہیں حلف نامہ دینا چاہئے کہ وہ ایسا دوبارہ نہیں کریں گے۔نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ پتھربازوں کے خلاف مقدمے واپس لئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کشمیر میں امن بحالی کے لئے متعلقہ فریقوں سے بات کرنے کے لئے مرکز کی طرف سے مقرر خصوصی نمائندے دنیشور شرما کو نیک خواہشات پیش کیں۔