اپنی زندگی کو سیرت کے سانچے میں ڈھالنا ہی ماہ ربیع الاول کا تقاضا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

       

   مضمون نگار    محمد ارشد فیضی قاسمی

            رابطہ :      9708285349

                    ……………………………………

             ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے ،عام طور پر یہ مہینہ ہمارے ملک میں سیرت النبی کی محفلوں ،جلسوں اور کانفرنسوں کی ایک عجیب وغریب بہار لیکر آتا ہے ، اس مبارک مہینے کی آمد پر ملک کی مسلم اکثریت والی شاید ہی کوئی ایسی بستی اور شہری حلقے کا شاید ہی کوئی محلہ ایسا ہو جہاں سیرت طیبہ کے مبارک تذکرے کے لئے کوئی نہ کوئی محفل منعقد نہ ہوتی ہو ،اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس ماہ کے آتے ہی ہر طرف نہ صرف سیرت کے تذکروں اور سیرت کی محفلوں کا ایک دور چل پڑتا ہے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوسوں کی غیر معمولی ہما ہمی شروع ہو جاتی ہے، عمارتوں کو چراغاں کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ تقریبات کے ایسے سلسلے چل پڑتے ہیں جس پر تبصرے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ،ان سب کے علاوہ اخبارات ورسائل میں اس موقع پر خصوصی نمبر کی اشاعت کو باعث برکت سمجھ کر اپنے اخبارات کی وقعت بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے غرض یہ کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں آج کی نسل انسانی کا ایک بڑا طبقہ سیرت کے نام پر وہ سب کچھ کر تا دکھائی پڑتا ہے جن کو شاید کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا ،بلاشبہ آپ کی سیرت طیبہ کا ذکر دنیا وآخرت دونوں کی سعادت کا ذریعہ ہے اور آپ کے ذکر سے دلوں کی کایا پلٹ جاتی ہے ،اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آپ کی سیرت ایک ایسا سدا بہار موضوع ہے جس کے پرانا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں اور نہ ہی یہ ایسا عنوان ہے  جس کے کمزور پڑنے کا کوئی امکان ہو سکتا ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کی فلاح وکامیابی کا اگر کوئی راستہ ہو سکتا ہے تو وہ اسی سیرت طیبہ کی اتباع وپیروی میں مضمر ہے ،اس لئے اپنے آقا سے عشق اور آپ کی سیرت مبارکہ تو ہر مسلمان کا وظیفہ حیات ہونا ہی چاہئے لیکن اگر موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اسی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال یہ بھی توجہ کا طالب ہے کہ جب ہم صحابہ و تابعین کی زندگی میں جھانکتے اور قرون اولی کے مسلمانوں کی حالات زندگی میں دیکھتے ہیں تو وہاں سیرت کی محفلوں اور مجلسوںکے انعقاد کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ صحابہ ،تابعین یا تبع تابعین نے اس حوالے سے کسی جلسے جلوس کی تحریک کو عملی شکل دی ہو حالانکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں یہ دن دو مرتبہ آیا ،حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں یہ دن دس مرتبہ آیا ،خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ کے دور میں پندرہ بار اور حضرت علیؓ کے دور خلافت میں پانچ مرتبہ آیا۔اسی طرح حضرت حسن بصریؓ کے دور میں ایک بار اور حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں یہ دن انیس بار آیا ،یہی دن حضرت امام اعظمؒ کے زمانے میں 47 بار امام مالکؒ کےزمانے میں 68 بار امام شافعیؒ کے زمانے میں 55 بار اور امام احمد بن حنبلؒ کے دور میں 36 مرتبہ آیا ، حتی کہ یہ تاریخ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے دور میں 65 بار، بابا فرید الدین شکر گنجؒ کے زمانے میں 70 بار، خواجہ اجمیریؒ کے دور میں 53 بار اور قطب الدین بختیار کاکیؒ کے دور میں 55 بار آیا مگر نہ کہیں کوئی ہنگامہ ہوا نہ کوئی جلوس نکلا اور نہ نعرے بازی ہوئی ، بلکہ اس کے بر خلاف وہاں حالت یہ نظر آتی ہے کہ ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا ،اس کی بارہ تاریخ بھی آتی مگر دوسرے مہینے کی طرح یہ دن بھی سادگی اور معمول سے آتااور رخصت ہو جاتا ،نہ سیرت النبیﷺ کے عنوان کا کوئی جلسہ ہوتا نہ اس طرح کی کوئی تقریب منعقد ہوتی ،لیکن اس کے باوجود جب ہم اس دور کے مسلمانوں کے مجموعی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی زندگی مکمل طور پر سیرت وسنت اور اعلی اخلاق وکردار کے ڈھانچے میں ڈھلی ہوئی دکھائی پڑتی ہے ،اور ان کی ہر ہر ادا سے سیرت کی خوشبو پھوٹنے کے ساتھ ان کے عمل کے ہر شعبے میں سنت رسول کا وہ حسن وجمال نظر آتا ہے جسے دیکھ کر نہ صرف انسانوں کے قافلے اسلام کی صف میں داخل ہوتے چلے گئے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا بلند پرچم مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے جنوب تک میں پوری شان سے لہرانے لگا ،لیکن آج حالات بڑے بدلے بدلے سے ہیں اس وقت حالت تو یہ ہے کہ آئے دن سیرت کے عنوان پر لمبی لمبی تقریریں سننے اور طویل مقالے پڑھنے کے باوجود نہ تو ہمارے دل کی دنیا بدلتی ہے اور نہ ہی ہمارے اندر کوئی سوز وگداز پیدا  ہوتا ہے اور ہماری زندگی کے طرز وانداز میں بھی کو ئی ایسی قابل ذکر تبدیلی نہیں آتی جسے ہم اپنے شاندار دینی مستقبل کی علامت قرار دے سکیں ۔یہاں رک کر شاید آپ بھی سوچنے کے لئے مجبور ہو جائیں کہ آخر یہ صورت حال کیوں ہے اور وہ کون سی ہماری کمزوری ہے جس نے ہماری زندگی سے سیرت کو نکال کر ہمیں بے چینی و بے قراری کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے ،لیکن نہیں اگر ہم پوری ایمانداری و حق پسندی کے ساتھ اس سوال کے جواب پر غور کرتے ہوئے قرون اولیٰ سے آج کے حالات کا موازنہ کریں تو اس نتیجے تک پہونچنے تک دیر نہیں لگے گی کہ آج ہمارے اور ان کے درمیان وہی فرق ہے جو کسی شی کی ظاہری نمائش اور اور اس کی حقیقت میں ہوتا ہے ،در اصل آج کے اس بدلتے وبگڑتے ماحول میں ہماری ساری کوششیں اور ساری توانائیاں چند ایسے رسمی مظاہروں کی ادائگی تک محدود ہیں جو اندر سے کھوکھلے بے جان اور روح سے خالی ہیں اور ان کے ذریعہ ہم اپنے آپ کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کر تے ہیں کہ ہم نے سیرت کا حق ادا کر دیا ،جبکہ سچائی یہ ہے کہ سیرت طیبہ کی حقیقت اور اس کی روح سے ہمارا فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ،اور اصل بات یہ ہے کہ قرون اولیٰ کے لوگ ان ظاہری رسموں سے کوسوں دور تھے ،چونکہ سیرت طیبہ ان کے رگ وریشہ میں سرایت کی ہوئی تھی اس لئے انہیں سیرت طیبہ کے ذکر کے لئے کوئی محفل منعقد کرنے یا عشق رسولﷺ کے اظہار کے لئے جلوس وچراغاں کی ضرورت نہیں تھی ،بلکہ ان کے دل کے نہاں خانے میں ہر لمحہ عشق ومحبت کے وہ خوبصورت چراغ روشن تھے جن کے آگے بازاروں اور عمارتوں پر جھلملاتے ہوئے چراغوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی ،اس کے علاوہ ان کی اداؤں سے ہر ہر لمحہ سیرت وسنت کا جو مظاہرہ ہوتا تھا وہ جلسوں اور کانفرنسوں سے بالکل بے نیاز تھا ،سیرت طیبہ ان کے لئے کوئی ایسا قصہ پارینہ بھی  نہیں تھا جس کی یاد منا کر اسے زندہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ،بلکہ ان حضرات کے لئے یہ ایسی جیتی جاگتی حقیقت تھی جس کے نور سے انہوں نے سیاست ومعیشت اور تہذیب ومعاشرت سے لےکر ممبر ومحراب تک کی زندگی کے ہر شعبے کو منور کر رکھا  تھا ،مگر یہ تو نفس انسانی کی پرانی عادت وخصلت رہی ہے کہ جب کسی شی کی حقیقت کو تھامے رکھنا اس کے آرام طلب مزاج پر بار ہو جاتا ہے تو وہ چند رسمی مظاہروں میں پناہ لے کر ضمیر کو تھپکیاں دینے کی ناکام کوشش کر تا ہے ،اور عام ذہن ودماغ کو یہ تاثر دیا چاہتا ہے کہ ہم جوکچھ کر رہے ہیں وہی سچ اور عین سیرت وسنت کی پیروی ہے ،غور کریں تو آج ہمارے معاشرے میں سیرت کے حوالے سے جوکچھ بھی ہو رہا ہے وہ در اصل اسی کی واضح دلیل وتصویر ہے ،آج ہم نے یہ محسوس کر لیا کہ سیرت وسنت کی حقیقت کو اپنانے اور دعوت کی خوار زار راہوں پر چلنے کی بجائے داد وتوصیف کے نعروں میں کچھ بک لینا زیادہ آسان ہے ،ہم نے جان لیا کہ اپنی زندگی کے طرز انداز کو بدل کر سیرت وسنت کے ڈھانچے میں ڈھالنےکی بجائے کسی جلسے میں بیٹھ کر سیرت کے واقعات پر سبحان اللہ اور الحمد للہ کا شور بر پا کر لینا ،یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ میں کوئی نعت پڑھ لینا بہت ہی آسان اور سہل ہے اس لئے ہمارے دلوں نے اسی کو ذریعہ نجات سمجھ لیا اور ہم نعروں میں ڈوبی تقریروں  کے سہارے اپنے دل کو یہ تسلی دینے کی کوشش کرنے لگے کہ سیرت وسنت اور دعوت دین کا حق ہم سے ادا ہو رہا ہے ،غرض یہ کہ جدھر دیکھئے ہم رسوم وظواہر کے پردے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ورنہ جہاں تک سیرت طیبہ کی حقیقی روح کا تعلق ہے اس سے نہ صرف یہ کہ ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں ،بلکہ ہم مسلسل سنت سے رو گردانی اور اسکی مخالفت پر تلے ہیں ،ان سب کے علاوہ سیرت کی محفلوں میں  مرد وزن کا اختلاط نعت پڑھنے کے لئے ساز وسرور کا سہارا لیا جانا یہ وہ حالات ہیں جنہوں نے ہمارے دلوں کو اور ہی زیادہ گندااور بے حس بنا کر رکھا ہوا ہے ،سیرت کی محفلوں کا منعقد ہونا کوئی غلط نہیں مگر اس وقت جو صورت حال ہے وہ یقینا مایوس کن ہے ،جس کی وجہ سے آئے دن ہماری زندگی میں خرابی آتی جارہی ہے ،واقعہ یہ ہے کہ اگر ہم ہدایت کی سچی تڑپ اور اصلاح حال کا یقینی جذبہ لے کر سیرت طیبہ کامذاکرہ کریں تو ممکن نہیں کہ ہماری عملی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے ،اور اگر ہم آج کی تاریخ میں منعقد ہونے والی مجلسوں سے اٹھنے کے بعد اپنی زندگی کو سیرت رسول کے مطابق گزارنے کا فیصلہ کرلیں تو ایک تھوڑے سے عرصے میں ہماری زندگی کے اندر صالح انقلاب آسکتا ہے ،کہنے والے کے دل میی اگر دعوت اصلاح کا سوز ہو اور سننے والا اصلاح حال کی  تشنگی کوبجھانے کا جذبہ رکھتے ہوں تو چند لمحوں میں ساری برائیوں کاسد باب ہو سکتا ہے ،لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کے موضوع کو سنجیدگی سے لیں اور بدعات و خرافات کے راستے کو چھوڑ کر ایسا طریقہ اختیار کریں جن سے ہماری زندگی سیرت کے راستے پر آسکتی ہو ،بقول حضرت مولانا رابع حسنی ندوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کے لئے دو شرطیں ہیں ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفادارانہ و محبتانہ تعلق ہو اور وہ ایسا ہو جو اس عظیم ذات پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہو ،صرف زبان سے محبت کا اظہار نہ ہو بلکہ وہ حقیقت ہو اور اس میں اخلاص ہو اور یہ سچ ہے کہ اخلاص اپنے اندر کسی رسمی مظاہرے کو جگہ نہیں دیتا آج اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے کو سیرت کے رنگ میں رنگنے کا عہد کر لیں تو نہ صرف معاشرہ کی بہت سی بیماریوں کا سد باب ہو سکتا ہے بلکہ سیرت کے نام پر برپا ہونے والے رسمی ہنگاموں کا سلسلہ بھی تھم سکتا ہے ،بس اس کے لئے اخلاص شرط ہے ۔

            (مضمون نگار پیام انسانیت ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے صدر اور بصیرت میڈیا گروپ کے جوائنٹ ایڈیٹر ہیں )