اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ستائیسواں بین الاقوامی سہ روزہ سیمینار ممبئ میں دوسرے دن جاری موضوع عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل اور مکانات کی خرید و فروخت سے متعلق نئے مسائل رہے.

ممبئی،26؍نومبر:اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے سہ روزہ سیمینارکے دوسرے دن پہلی نشست کاآغازآج صبح نوبجے حاجی صابوصدیق مسافرخانہ کے کانفرنس ہال میں جامعہ دارالسلام عمرآبادکے مہتمم جناب کاکاسعیدعمری کی صدارت میں منعقدہوا۔اس اہم نشست کاآغازقاری لقمان کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔آج کی پہلی نشست میں زیربحث اہم عنوان عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی احکام کے مرکزی عنوان کے تحت محققین اورارباب فقہ وفتاویٰ کے مقالات کاخلاصہ پیش کیاگیا۔جسے عرض مسئلہ کے طورپرمفتی محمدعثمان بستوی،مفتی اقبال احمدقاسمی اورمفتی راشدحسین ندوی نے پیش کیا۔عرض مسئلہ کے بعدمحققین علما اورمفتیان کرام اس اہم ترین مسئلہ کے مختلف نکات پربحث ومناقشہ کے ذریعہ نتیجہ تک پہونچنے کی کوشش کی۔اس سلسلہ میں ایک تجویزکمیٹی کی تشکیل عمل میں آگئی ہے جومتفقہ تجویزمرتب کرنے کی کوشش کرے گی جس کی روشنی میں مسلمان اپنی زندگی کے علمی مسائل حل کرسکتے ہیں۔امیدکی جاتی ہے کہ اس تجویزمیں عصری تعلیمی اداروں سے متعلق تمام ترمسائل کااحاطہ ہوگا۔تجاویزکل آخری نشست میں پیش کردی جائے گی جس کی اطلاع ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دی جائے گی۔آج کی دوسری نشست ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوئی جس کی صدارت مفتی احمددیولہ نے کی۔اس نشست میں مکانات کی خریدوفروخت سے متعلق نئے مسائل پرمحققین علماء اورمفتیان کرام کے مقالات کاخلاصہ جسے اکیڈمی عرض مسئلہ کے نام سے متعارف کراتی ہے ڈاکٹرمحمدشاہ جہاں ندوی نے پیش کیااس موضوع پرعلماء اورمفتیان کرام کے کل چوبیس مقالات اکیڈمی کودستیاب ہوئے تھے،عرض مسئلہ کے بعدمکانات کی خریدوفروخت ،جھگی جھونپڑی کی شرعی اورقانونی حیثیت ،تعمیرسے پہلے بلڈرکے ذریعہ فلیٹس کابیچنااورخریدنے جیسے اہم نکات پرمفتیان کرام اورمحققین نے اپنی آراء پیش کی اوراس پرسیرحاصل گفتگوکی گئی ۔مختلف سوال اٹھائے گئے جس کاجواب عام طورپراکیڈمی کے روح رواں اوراس کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے دیئے۔مولانارحمانی نے بعض مجوزہ صورتوں کی طرف مفتیان کرام کی توجہ مبذول کرائی اوراس سلسلہ میں اہم اوربنیادی نکات کی جانب اشارے کئے۔اس موقع پرپہلی نشست میں دارالعلوم دیوبندکے استاذاوررابطہ مدارس عربیہ کے ناظم عمومی مولاناشوکت علی قاسمی بستوی نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی پوری دنیاکے مسلمانوں کے لئے اوربطورخاص برصغیرکے مسلمانوں کے لئے ایک خدائی عطیہ ہے اوراللہ کی ایسی محنت ہے جس پرہرمسلمان کوشکربجالاناچاہئے انہوں نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی علمی تحقیقی اوربطورخاص جدیدمسائل کے حل میں اس کی کوششوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی نے مسائل کواجتماعی طورپرحل کرنے کی جوکوشش کی ہے وہ بجاطورپراجتماعی اجتہادکاوہی طریقہ قراردیاجاسکتاہے جوعہدفاروقی اورحضرت امام ابوحنیفہ کے دورمیں رائج تھا،انہوں نے عصری درسگاہوں کے قیام کی ضرورت پرزروردیتے ہوئے کہاکہ اسلام کی حفاظت کاایک ذریعہ جہاں ہمارے یہ مدارس ہیں وہیں نئی نسل کوفکری ارتدادسے بچانے کے لئے عصری درسگاہوں کاقیام اسلامی ماحول میں ازحدضروری ہے،لیکن یہ بات ملحوظ رکھنی ہوگی کہ وہ کالج ،اسکول محض اسکول وکالج نہ ہوبلکہ اسلامی افکارواقدارکاسرچشمہ ہو اوراس کاہرطالب علم عصری ضرورتوں سے لیس دین حنیف کاسپاہی ہو۔اپنے صدارتی خطاب میں جناب کاکاسعیدعمری نے اکیڈمی کے قیام کوتاریخی کارنامہ قراردیتے ہوئے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ اکیڈمی کے بانی فقیہ ملت حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی قبرکوانوارسے بھردے جنہوں نے فکری ضلالت وگمراہی کے اس دورمیں علم وفقہ کاچراغ روشن کیا۔انہوں نے اکیڈمی اورحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نیزان کے رفقائے کارحضرت مولاناعبیداللہ اسعدی،مولاناعتیق احمدبستوی اوراستقبالیہ کے اراکین کاشکریہ اداکرتے ہوئے فرمایاکہ آج کی اس اہم علمی وفقہی مجلس میں آپ نے ہمیں گفتگوکاموقع دیااس کے لئے ہم آپ کے شکرگذارہیں ،انہوں نے مزیدکہاکہ عصری درسگاہیں آج کے دورمیں قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں،اگراس کی اصلاح اوراپنے طورپراسلامی ماحول میں اسکولوں وکالجوں کے قیام کی کوشش نہیں کی گئی توآج کی نئی نسل فکری الحادوارتدادکاشکارہوکراپنامتاع ایمان ضائع کردے گی۔علماء اورارباب دانش کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی دستگیری کریں اورانہیں شیطان کے ہاتھوں میں بے یارومددگارنہ چھوڑیں۔واضح رہے کہ پہلی نشست کی نظامت مولاناعبیداللہ اسعدی اورمفتی عتیق احمدبستوی قاسمی نے کی جب کہ دوسری نشست کی نظامت بذات خوداکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کی ۔مفتی احمددیولہ کی دعاپرنشست کااختتام ہوا