ملک میں شرعی قوانین کا تحفظ ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اصل مشن ہے، سیاست بورڈ کے ایجنڈے کا حصہ نہیں اگر اب تک بورڈ کا اتحاد قائم ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بورڈ نے اپنے ایجنڈے کو محدود رکھا ہے ورنہ اگر سیاست کو بھی بورڈ کے ایجنڈے میں شامل کر لیا جائے تو اختلاف وانتشار کی کیفیت پیدا ہوگی ۔۔۔۔۔۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 

                     آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ترجمان بنائے جانے کے بعد عالمی شہرت یافتہ عالم  فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت بر کاتہم جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی نے اپنے بڑے صاحبزادے مولانا مفتی عمر عابدین مدنی کے ہمراہ استاد المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد سرزمین بہار کا پہلا سفر کرتے ہوئے اپنے ابائی وطن جالے میں کئی روز تک قیام فرمایا تھا اس موقع پر پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی ممبئی اردو نیوز کے سب ایڈیٹر مولانا نازش ہما قاسمی مولانا مظفر احسن رحمانی مولانا مفتی نافع عارفی اور مولانا مفتی عامر مظہری پر مشتمل بصیرت میڈیا گروپ کے اہم ارکان نے ان سے خصوصی ملاقات کر ملک کے موجودہ منظر نامے میں کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی اور بصیرت میڈیا گروپ کے جوائنٹ ایڈیٹر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی کے ساتھ ممبئی اردو نیوز کے سب ایڈیٹر مولانا نازش ہما  قاسمی نے کئی حساس عنوانات پر انٹر ویو کے ذریعہ ان کے خیالات کو بھی جاننا چاہا تھا ۔پیش ہے اس انٹر ویو کے چند اہم اقتباسات ۔۔۔

               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

         سوال : آپ نے بصیرت میڈیا گروپ کی ٹیم سے گفتگو کے لئے وقت دیا اس کے لئے شکریہ کے ساتھ عرض یہ ہے کہ آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان بنائے گئے ہیں اس کے لئے بصیرت میڈیا گروپ کی ٹیم آپ کو مبارک باد بھی دیتی ہے اور آپ سے امید بھی  وابستہ کرتی ہے کہ آپ بورڈ کے عملی کردار کو مزید موثر بنانے کی کوشش کریں گے تو کیا بحیثیت ترجمان آپ کے ذہن میں کوئی ایسا خاکہ ہے یا آپ تیار کر رہے ہیں جس کے ذریعہ آپ ملکی سطح پر مسلمانوں کو بورڈ کے کردار سے واقف کرانے کا کام انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

        جواب : مجھے آپ جیسے نوجوان صحافیوں سے مل کر بے حد مسرت ہوئی ہے اور آپ کی ٹیم نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کی میں قدر بھی کرتا ہوں لیکن آپ نے جو سوال کیا ہے اس کے سلسلے میں پہلی وضاحت یہ کردوں کہ بورڈ کی کسی بھی پالیسی کو بنانے کا کام سکریٹری اور اس کے ورکنگ کمیٹی کا ہوتا ہے اور بورڈ کو کن باتوں پر توجہ دینی چاہئے اور کن پر توجہ نہیں دینی چاہئے اس کا طے کرنا بھی ان ہی حضرات کا کام ہوتا ہے ترجمان کا کام بس یہ ہوتا ہے وہ بورڈ کی پالیسی کو مسلمانوں کے سامنے رکھ کر انہیں اپنے مذہبی معاملات کے سلسلے میں بیدار رہنے کا پیغام دے یا کسی مسئلے پر بورڈ کا کوئی رد عمل ہوتو وہ اس کے بارے میں بورڈ کے نقطہ نظر کو پیش کرے اس لئے سر دست میرے ذہن میں کوئی ایسی پالیسی تو نہیں جسے بورڈ کے پلیٹ فارم سے انجام دینے کے  لئے جد وجہد ضروری ہو البتہ اتنا ضرور ہے کہ بورڈ کی انتظامیہ خاص طور پر اس کے صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم نے جس اعتماد کے ساتھ مجھے ترجمان بنایا ہے اس کی  پاسداری کرنے کی سمت میں پیش رفت کی جائے گی اور جب کبھی بورڈ کے کسی موقف کو کھل کر سامنے لانا ضروری ہوگا تو دریغ نہ کیا جائے گا تاکہ بورڈ کی اہمیت اس کی حیثیت اور اس کا عملی کردار ملک کے سامنے آسکے ۔

          سوال  :    جب بورڈ کی پالیسی طے کرنے کا اختیار ورکنگ کمیٹی کو ہے تو پھر بورڈ میں ترجمان کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی جس کے لئے آپ کا انتخاب کیا گیا اس سلسلے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟ 

          جواب   :  در اصل میڈیا والوں کا ایک طریقہ کار یہ ہو گیا ہے کہ وہ مسلم پرسنل لاء کے بارے میں نہایت غیر سنجیدہ طریقہ اپناتے ہیں اور کسی بھی داڑھی ٹوپی والے یا بورڈ کے کسی رکن کو پکڑ کر ان سے بیان لے لیا جاتا ہے حالانکہ کسی بھی تنظیم کا ہر رکن یا اس سے وابستہ افراد اس کے تمام مسائل سے واقف نہیں ہوتے حتی کہ بسا اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی بورڈ کے کسی اجلاس میں آتا ہے تو اس کو بھی بورڈ کا نمائندہ بتا کر اس سے بیان لے لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی دفعہ بیان میں تضاد کی صورت پیدا ہوجاتی ہے اسی صورت حال کی وجہ سے بورڈ میں ترجمان کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ بورڈ کے ترجمان پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کے موقف کو ملک کے سامنے پیش کر سکیں اس مقصد کے لئے دو لوگ منتخب کئے گئے ایک مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی صاحب اور ایک میں حالانکہ جس وقت میرے نام کا اعلان ہوا اس وقت میں حج کے سفر پر تھا اور اس سلسلے میں میری رائے بھی معلوم نہیں کی گئی،جب میں حج سے واپس آیا تو بورڈ کے جنرل سکریٹری مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم نے فون کے ذریعہ اس کی اطلاع دی اور یہ بھی عرض کیا کہ صدر محترم کی خواہش ہے کہ تم اسے قبول فرمالو اس لئے میں نے بھی قبول کر لیا ۔

       سوال : اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک ایسا ذمہ دار ادارہ ہے جو اپنے قیام سے اب تک مکمل خود اعتمادی کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی معاملات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا آرہا ہے لیکن اس کے باوجود آئے دن سماج میں ایسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن کی بنیاد پر مسلم پرسنل لاء کے خلاف مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے ۔تو کیا  اس سلسلے میں بورڈ کا ایسا کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے جو بورڈ نے اس طرح کے حالات پر قابو پانے کے لئے تیار کیا ہو کیونکہ مجموعی طور پر پورے ملک کے مسلمان اپنے عقائد اور مذہبیات کے تعلق سے عجیب وغریب کشمکش کا شکار ہیں اور ان کی کوئی مناسب رہنمائی کرنے والا دور دور تک دکھا ئی بھی نہیں دیتا ۔

      جواب  :  سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیں کہ مسلم پرسنل لاء ایک محدود دائرے میں کام کرتا ہے  اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ان شرعی قوانین کا تحفظ کرے جن پر عمل کرتے رہنے کا حق انہیں آئین ہند کی مختلف دفعات میں دیا گیا ہے بس یہ سمجھ لیجئے کہ شرعی قوانیں کا تحفظ ہی مسلم پرسنل لاء بورڈ کا بنیادی مشن ہے اور ہم اس دائرے سے باہر بھی آنا نہیں چاہتے اس لئے کہ اب تک جو بورڈ کا اتحاد قائم ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے ایجنڈے کو محدود رکھا ہوا ہے اگر ہم اس ایجنڈے کو پھیلا دیں گے تو پھر اس اتحاد کی حفاظت مشکل ہو جائے گی، رہی بات یہ کہ مسلمان اپنے عقائد اور مذہبیات کے تعلق سے کئی طرح کی کشمکش کے شکار ہیں تو میں آپ کو بتا دوں کہ مسلمانوں کو اس صورت حال سے نکالنے کے لئے ہندوستان کی بہت سی تنظیمیں سرگرم ہیں اور وہ اپنے اپنے طور پر کام بھی کر رہی ہیں میں بھی کئی تنظیموں کا ذمہ دار ہوں اور اس طرح کی تحریکات میں حصہ لیتا ہوں مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی بیداری لانے کے لئے سرگرمی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے جس سے شاید آپ بھی اچھی طرح واقف ہوں گے۔

      سوال :  موجودہ منظرنامے میں شرعی قوانین کا تحفظ بلاشبہ ایک ضروری امر ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اسی پر اپنی توجہ کو مرکوز بھی رکھا ہوا ہے مگر عوام میں یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اس سلسلے میں اس وقت بیدار ہوتا ہے جب مسلمانوں کی جہالت اور نادانی کی بنیاد پر  ملک کے کسی کونے سے کوئی مسئلہ جنم لے کر عدالت تک پہنچ جاتا ہے یہی وجہ ہے بورڈ کو دفاعی پوزیشن اپنانے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے اب سوال یہ ہے کہ جب مسلمان مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اپنا نمائند ادارہ سمجھتے ہیں تو بورڈ اپنے طور پر مسلمانوں کے اندر ایسی ٹھوس بیداری لانے کی کوشش کیوں نہیں کرتا کہ مسلمانوں کا ہر طبقہ اپنے عائلی مسائل کی حقیقت کو سمجھ کر اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو گزارنے کے لئے خود کو آمادہ کر لے ؟ 

     جواب   :  ایسی کوئی بات نہیں کہ جب کوئی مسئلہ سامنے آجاتا ہے تب مسلم پرسنل لاء بورڈ بیدار ہوتا ہے بلکہ بورڈ تو 24 گھنٹہ اس طرح کے حالات پر نظر رکھ کر ان سے نمٹنے کے لئے تیار رہتا ہے البتہ جب کوئی حساس مسئلہ سامنے آتا ہے یا حکومت کسی معاملے میں دخل اندازی کی کوشش کرتی ہے تو اس وقت پوری قوت کے ساتھ اس کو ریجیکٹ کر نے کے سلسلے میں بورڈ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور پھر بورڈ کے ذریعہ اس وقت تین طریقے اپنا ئے جاتے ہیں سب سے پہلے ہم اپنا موقف واضح کرتے ہیں پھر حکومت سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر عوام کے شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے کہ مسائل پیدے ہی نہ ہوں تو اس سلسلے میں سمجھنے کی بات یہ ہے اس ملک میں مسلمان کوئی چھوٹی کمیونیٹی نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں 20 کڑور مسلمان بستے ہیں اب اگر آپ یہ توقع رکھیں کہ یہ 20 کڑور مسلمان کسی ایک تنظیم یا کسی ایک مسلم نمائندہ کے حکم ومشورے کے تابع ہوجائیں تو یہ بہت مشکل کام ہے ،سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے بغاوت کر سکتے ہیں تو بورڈ یا اس طرح کی دوسری تنظیمیں کیا چیز ہیں ۔بس بورڈ اپنے طور پر مسلمانوں میں شرعی مسائل کے تعلق سے بیداری لانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے اور اصلاح معاشرہ کے اجلاسوں کے ذریعہ اس کوشش کو تقویت دی جارہی ہے جس کی حقیقت سے آپ بھی واقف ہوں گے اور آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ پچھلے دنوں مسلمانوں کی اکثریت طلاق ثلاثہ کے مسئلے کو لے مسلم پرسنل بورڈ کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی ۔

         سوال :  ابھی آپ نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اصلاح معاشرہ کے اجلاسوں کے ذریعہ مسلمانوں میں بیداری لانے کی کوشش کر رہا ہے تو کیا آپ بتائیں گے کہ بورڈ اس طرح کے اجلاس کے لئے کن کن علاقوں کا انتخاب کرتا ہے اگر اس حوالے سے بورڈ کی توجہ کا مرکز شہری علاقے ہیں تو سوال یہ باقی رہے گا کہ کیا دیہی علاقوں کو اس طرح کے پروگراموں کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ہے تو بورڈ اس سمت میں سوچنے کے لئے کس حد تک تیار ہے ؟

       جواب  : دیکھئے بھلے ہی بورڈ کے تحت اجلاس گاوں دیہاتوں میں منعقد نہ ہوتے ہوں مگر دینی اداروں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اصلاح معاشرہ کے اجلاس در اصل اسی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بیداری کا نتیجہ ہیں اور ظاہر ہے ہر کام کوئی ایک آدمی یا ادارہ نہیں کرتا بلکہ بعض کام خود کرتا ہے اور بعض کے لئے دوسروں کو ذہنی طور پر تیار کرتا ہے اور ویسے بھی اس وقت ملکی سطح پر نئی نسل کی بگاڑ کے لئے اتنے اسباب پیدا ہو گئے ہیں کہ ان سب کا حل کسی ایک تنظیم کے ذریعہ نہیں تلاشا جا سکتا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر دینی بیداری لانے کے لئے عوامی فکر کو بیدار کرے اس کے لئے وہ عملی طور پر تیار بھی ہے جس کے لئے بورڈ نے مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کو آواز دے کر انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی ہیں۔

       سوال :  یہ بات درست ہے کہ بورڈ اپنے ابتدائی وقت سے ہی شرعی مسائل کے تحفظ پر توجہ دیتا آرہا ہے لیکن اس وقت ملک میں مسلمانوں کے جو سیاسی حالات ہیں وہ کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں ہیں ملکی سیاست دو نظریوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور سیاست کو مذہب سے اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ موجودہ منظر نامے میں اس کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا تو کیا بورڈ کی ایسی کوئی سیاسی پالیسی بھی ہے کہ وہ آنے والے وقت میں مسلمانوں کی مناسب سیاسی رہنمائی کر سکیں۔   

  جواب :  اس کا جواب میں نے پہلے ہی دیا ہے کہ بورڈ کا اصل مشن مسلمانوں کے شرعی مسائل کا تحفظ کرنا ہے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک ٹھوس ایجنڈا ہے جس میں ملک کی تمام جماعتیں شامل ہیں اور قصدا اس میں سیاست کو شامل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ جب آدمی سیاست کو اپنا ایجنڈا بنا لیتا ہے تو وہ آپس میں حریف ورقیب بن جاتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے کسی ممبر یا بورڈ کے کسی رکن کو سیاست میں حصہ لینے سے کبھی نہیں روکا بلکہ بورڈ کی طرف سے ہر کوئی اس معاملے میں اپنے طور پر آزاد ہے۔

   سوال : چلئے مان لیا کہ بورڈ کے ایجنڈے میں سیاست شامل نہیں ہے مگر چونکہ بورڈ مسلمانوں کا ایک ذمہ دار ادارہ ہے اس لئے انتخابات کے اوقات میں عوام کی نگاہیں ان پر ٹکی ہوتی ہیں اور وہ ان کے مشورے کا انتظار کرتے ہیں تو کیا بورڈ آنے والے انتخابات میں مسلمانوں کو آپسی انتشار سے بچانے کی سمت میں بھی کوئی ایسا قدم اٹھائے گا کہ ملک کی تمام ملی جماعتیں ایک ساتھ مسلمانوں کے حق رائے دہی کے سلسلے میں کوئی فیصلہ لے لر عوام میں بیداری لانے کا کام انجام دے سکیں ؟ 

        جواب :   آپ کے اس سوال سے میرے اس موقف کو تقویت ملی کہ اگر بورڈ سیاست کو اپنا موضوع بنائے گا تو اس میں اختلاف وانتشار کی غیر یقینی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور بورڈ بکھر جائے گا پھر یہ بھی ایک بات ہے کہ مذہب اور سیاست کا مسئلہ الگ الگ ہے مذہب کے نام پر تو مسلمان ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں جس کے مناظر ماضی میں کئی بار دیکھے جا چکے ہیں مگر ان کا سیاست کے معاملے میں کسی ایک موقف پر جمع ہونا تقریبا ناممکن ہے انہی سب بنیادوں پر بورڈ نے سیاست سے اپنے ایجنڈے کو پاک رکھا ہوا ہے رہی بات مسلمانوں کی سیاسی راہنمائی کرنے کی تو اس سلسلے میں جمعیت علماء ہند اور اس طرح کی دیگر تنظیمیں کھل کر کام کر رہی ہیں پھر یہ کیا ضروری ہے کہ ہر کام مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی کرے جس طرح گاوں کے کسی ہاسپیٹل کے ذمہ دار کو مریضوں کے علاج پر توجہ دینے کے ساتھ دیگر رفاہی وملی کاموں کو انجام دینے کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح بورڈ کا بھی ایک خاص دائرہ کار ہے اس لئے اسے دیگر موضوعات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔

           سوال : محترم آپ کے کندھوں پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ ایک بڑی تنظیم اسلامک فقہ اکیڈمی کا بھی بوجھ ہے اور آپ اس کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر پہلے بھی فائز تھے اور اپنے نمایاں کارناموں کی وجہ سے اب بھی اسی عہدے پر برقرار ہیں اکیڈمی کی ورکنگ کمیٹی آپ پر اعتماد بھی کرتی ہے تو آخر اس حوالے سے وہ کون سی چیز ہے جو ہر وقت آپ کے حوصلے کو رواں دواں رکھتی ہے اور آپ اس کے عملی کردار کو موثر کن بنانے کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں ؟ 

     جواب  : آپ ایک اچھے صحافی ہیں اور آپ کا تعلق بصیرت میڈیا گروپ سے ہے اس حوالے سے مجھے یقین ہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے مقاصد اور اس کے مشن سے بھی آپ واقف ہونگے تاہم اس سلسلے میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ہماری شریعت میں قیامت تک کے لوگوں کی راہنمائی کے سامان موجود ہیں جس کا ہم یقین رکھتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کی وجہ سے معاشرے میں آئے دن نئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس صورت حال میں جدید مسائل کے تعلق سے شریعت کا جو نقطہ نظر ہو اس کو سامنے لانے اور اس کا حل تلاشنے کا کام اکیڈمی نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف جنوبی ایشیا کا سب سے موقر اور معتبر ادارہ بن گیا گیا  بلکہ ہمارے ملک اور پڑوسی ملکوں کی عدالتوں نے بھی بہت سے مسائل میں اکیڈمی کے فیصلے کے حوالے سے اپنے بعض فیصلے سنائے ہیں جن سے اس ادارہ کی عظمت کا احساس ہوتا ہے ۔

    سوال :  جیسا کہ میڈیا میں یہ خبر آئی ہوئی ہے کہ اکیڈمی کے زیر اہتمام عروس البلاد ممبئی میں 26/27/28  نومبر کو اکیڈمی کا 27 واں سہ روزہ سیمینار ہونا ہے تو کیا بصیرت میڈیا گروپ کو آپ اس کی تفصیل بتانا چاہیں گے کہ اس سیمینار میں کن کن موضوعات پر گفتگو ہونی ہے اور جن موضوعات پر بحث ہوگی ان کی موجودہ وقت میں کیا اہمیت ومعنویت ہے ؟

          جواب :  جی اطلاع بالکل درست ہے کہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ممبئی میں سیمینار منعقد ہو رہا ہے اس سلسلے میں آپ کو بتادوں کہ اس سیمینار کے لئے بنیادی طور پر چار موضوعات طے کئے گئے ہیں ایک موضوع تو ” طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل “سے متعلق ہے دراصل ہمارے معاشرے میں جہالت اور شریعت سے دوری کی وجہ سے طلاق کے نئے نئے مسائل سامنے آرہے ہیں ۔مثال کے طور پر ایک آدمی تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق بولتا ہے مگر تین کا لفظ استعمال نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میری مراد ایک کی تھی تو اب کیا ہو گا چونکہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان نظریات کا اختلاف ہے اس لئے اس موضوع کے تحت بورڈ نے مختلف فقہاء کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ کسی ایک موقف پر حتمی رائے قائم کی جا سکے ۔

              دوسرا موضوع ” حیوانات کے حقوق سے متعلق ہے یہ موضوع ایک طرح سے ہمارے موجودہ ملکی حالات سے بھی جڑا ہوا ہے خیر اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں جتنی مخلوقات ہیں ان کی تخلیق انسانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے اس لئے وہ سب انسانوں کے معبود نہیں بلکہ ان کے خادم ہیں۔ ان میں سے بعض جانور انسانوں کی سواری اور ان کی دیگر ضروریات کی تکمیل میں کام آتے ہیں اس کے علاوہ کچھ جانور ایسے بھی ہیں جن سےبظاہر انسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن وہ بھی انسانوں کے لئے بہت مفید ہیں کیونکہ ماحولیات کو متوازن رکھنے میں ان جانوروں کا بہت دخل ہوتا ہے لیکن اس وقت ذبیحہ کا جو مسئلہ ہے اس کو لے کر ملک بھر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی اور بار بار اس بات کو دہرایا جا رہا ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ ایک سنگین نظریہ ہے اسی لئے اکیڈمی نے اس عنوان کا انتخاب کیا ہے اور اس ضمن میں کئی طرح کی باتوں کو پوری وضاحت کے ساتھ سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جن میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ اگر کوئی حکومت کسی جانور کو قومی جانور کا درجہ دے دے یا اس کے ذبیحہ پر پابندی لگا ئے تو اس وقت اس جانور کا کیا حکم ہوگا اور اس حوالے سے ہمارا مجموعی رویہ کیا ہونا چاہئے 

       تیسرا موضوع مکانات کی خرید و فروخت سے متعلق ہے چونکہ شہروں کا پھیلاو بڑھتا جا رہا ہے اور زمینیں اتنی نہیں ہیں کہ لوگ الگ الگ مکان بنا سکیں اس لئے لوگ زمین میں پھیلنے کے بجائے آسمان کی طرف اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اونچی اونچی بلڈنگیں بن رہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف بہت سے جدید شرعی مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ یہ اس وقت تمام بڑے شہروں کا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے اسی صورت حال کی وجہ سے اس موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ اس سلسلے کی تمام باریکیوں پر نظر رکھ کر مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی جا سکے ۔

       چوتھا مسئلہ ” عصری تعلیمی اداروں سے متعلق ” ہے کیونکہ 2005 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق مدارس میں مسلمانوں کے جو بچے جاتے ہیں ان کی تعداد 0.8 ہے سچرکمیٹی رپورٹ میں اس کی مجموعی تعداد 4 فیصد بتائی گئی تھی مگر اس رپورٹ میں مدارس کے علاوہ صبح اور شام کے اوقات میں چلنے والے مکاتب کے طلبہ بھی شامل تھے گویا اس وقت ایک فیصد سے بھی کم بچے مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں جبکہ ننانوے فیصد بچوں کا رخ عصری درسگاہوں کی طرف ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو طلبہ عصری درسگاہوں میں جا رہے ہیں وہ اس وقت شدید اخلاقی بحران کے شکار ہیں اس کے علاوہ اس وقت ہمارے ملک کا جو تعلیمی سسٹم ہے اس کے ذریعہ نہ صرف ہماری تاریخ وتہذیب کو مسخ کرنے کی سازش رچی جارہی ہے بلکہ ہمارا عقیدہ توحید بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ ایسی صورت حال میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی نسلوں کے تحفظ کے لئے اپنے طور پر ایسے اسلامک اسکول قائم کریں جن میں سرکاری نصاب کے ساتھ نہ صرف اخلاقی موضوعات کو جگہ دی جائیں بلکہ ان میں سچی تاریخوں کے پڑھانے کا بھی انتظام ہو کیونکہ اس وقت جھوٹی تاریخوں کے پڑھانے کا ایسا دور چل پڑا ہے کہ اس میں سچ کو تلاشنا نہایت مشکل ہے ۔اب ظاہر ہے کہ اگر اس طرف پیش رفت ہوگی تو بہت سے مسائل بھی کھڑے ہوں گے مثلا “کو۔ایجوکیشن” کا مسئلہ ہے ڈونیشن کا مسئلہ اور اس طرح کے دیگر مسائل ہیں اس موضوع کا انتخاب اسی لئے کیا گیا ہے تاکہ حالات کے بدلتے منظر نامے میں علماء و فقہار کے آرا سے اس کا کوئی ٹھوس حل نکالا جا سکے ۔

        سوال  :  اچھا اب ایک سوال یہ ہے کہ کیا اکیڈمی مسلمانوں کو اسلامک اسکول قائم کرنے کے سلسلے میں صرف مشورے دے گی یا اپنے طور پر اس سلسلے میں بنیادی  پیش رفت کرنا بھی اس کی ترجیح کا حصہ ہوگا ۔

      جواب :  اکیڈمی کا کام صرف ایک تھیوری پیش کرنا اور اس سلسلے کی رکاوٹوں کا حل ڈھونڈنا ہے مگر مجھے امید ہے کہ ہماری قوم کے با اثر افراد اکیڈمی کے مشورے کا احترام کرتے ہوئے اس سمت میں آگے آئیں گے ۔

      سوال :  محترم آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے بصیرت میڈیا گروپ کے ارکان کے لئے اپنا قیمتی وقت فارغ کیا ۔تو کیا آپ اس ٹیم کو کوئی پیغام بھی دینا چاہیں گے ۔

     جواب  :   میں بصیرت میڈیا گروپ سے اچھی طرح واقف ہوں اس کی سرگرمیوں سے بھی واقف رہتا ہوں اور یہی نہیں بلکہ آپ کی ٹیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ  اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے عملی کردار کو موثر بنانے اور پھیلانے میں جس طرح ہمارے معاون بن رہی ہے اس کی میں قدر کرتا ہوں اور آپ کی ٹیم کے خوش آئند مستقبل کے لئے دعا گو بھی۔۔