اہل اللہ سے تعلق انسانی زندگی کا رخ تبدیل کر دیتی ہے ۔۔۔۔مولانا سید محمد ولی رحمانی آل متھلانچل مسابقہ القران الکریم کا دوروزہ اجلاس عام اختتام پذیر ۔۔۔۔

مدھو بنی ۔20 – نومبر ( آمنا سامنا میڈیا ۔۔۔۔ ارشد فیضی )

                اس وقت پوری دنیا میں مسابقوں کا دور جاری ہے جس میں دنیا کی مختلف قوموں کے افراد حصہ لے کر اپنی حیثیت واہمیت کا احساس دلا رہے لیکن اس وقت آپ جس مسابقے کے پروگرام میں ہیں اس کا رشتہ قرآن سے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس تحریک یا پروگرام کا رشتہ اللہ کے کلام سے ہو اس میں اللہ کی نصرت کو خاص دخل ہوتا ہے میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ مسابقوں کے پروگرام سے نہ صرف طلبہ کی اندوری صلاحیت پوری طرح ابھر کر سامنے آتی ہے بلکہ قرآن کی نسبت سے کسی بھی پروگرام کا انعقاد دینی خدمت اور دینی خدمات انجام دینے والے افراد کی ہمت افزائی کا بھی ذریعہ ہیں اس لئے میں ململ کی اس علمی وتاریخی سرزمین پر آل متھلانچل مسابقہ القران الکریم کے انعقاد کے لئے مولانا وصی احمد صدیقی مولانا فاتح اقبال ندوی مولانا غفران ساجد قاسمی اور ان کے رفقائے کار کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس پروگرام سے مدارس دینیہ کو قرآن سے جڑنے کا موقع ملے گا یہ باتیں امیر شریعت سابع و جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم بورڈ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم نے آل متھلانچل مسابقہ القران الکریم کے اجلاس عام میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ تصوف کو دینی فکر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ یہ عین شریعت ہے لیکن اس کو سمجھنے کےلئے ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی وراہنمائی میں  اس عمل وفکر کی باریکی کو سمجھنا اور کسی سنجیدہ نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی ہوگی قابل ذکر ہے کہ علم وادب کی بستی ململ کی تاریخی سرزمین پر مدرسہ چشمہ فیض ململ کے زیر اہتمام منعقد دوروزہ عظیم الشان مسابقہ القران الکریم شاندار کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہونچا اجلاس عام کی کارروائی ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوئی جس کی صدارت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم اور سرپرستی قاضی القضات مولانا قاسم مظفر پوری نے کی اور شکریہ کے کلمات میر کارواں مولانا وصی احمد صدیقی نے پیش کئے جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے۔کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد اور علاقہ کی ممبر اسمبلی بھاونا جھا مولانا مکین احمد قاسمی مولانا امتیاز احمد رحمانی پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا ارشد فیضی قاسمی مولانا مظفر احسن رحمانی مولانا مفتی عامر مظہری مولانا مفتی مجتبی حسن قاسمی مولانا خان افسر قاسمی جناب شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز جناب راشد عظیم ایڈیٹر آمنا سامنا نیٹ ورک ممبئی مولانا مفتی احمد قاسمی ممبئی قاری وثیق احمد استاد مدرسہ چشمہ فیض ململ شریک اجلاس رہے  اور ململ ویلفئر سوسائٹی کے ارکان نے اجلاس کی کامیابی میں ہر ممکن تعاون پیش کیا ۔اجلاس کی کارروائی قاری نظام استاد جامعہ رحمانی مونگیر الدین  کی تلاوت اور قاری جابر حسین دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ گجرات کے نعتیہ کلام سے شروع ہوئی خطبہ استقبالیہ مولانا فاتح اقبال ندوی نے پیش کیا جبکہ اس خوبصورت موقع پر مسابقہ کے ناظم اور بصیرت میڈیا گروپ کے چئر میں مولانا غفران ساجد قاسمی کی چند اہم تصانیف کی رسم اجرا کا عمل مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد اور موقر علماء کے ہاتھوں انجام پایا مدرسہ چشمہ فیض ململ اور آل متھلانچل مسابقہ القران الکریم کے میر کارواں وروح رواں مولانا وصی احمد صدیقی دامت بر کاتہم نے تعارفی تقریر کے ذریعہ اس مسابقہ کے انعقاد پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ان تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا جو اس مسابقہ کو کامیاب بنانے میں ان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے میں پیش پیش رہے اس اجلاس عام سے جن دیگر شخصیات نے خطاب فرمایا ان میں قاضی شریعت مولانا قاسم مظفر پوری مولانا عبد الخالق ندوی ممبر پارلیمنٹ اور موقر عالم دین مولانا اسرار الحق قاسمی مولانا مفتی عمر عابدین مدنی استاد المعہد العالی الاسلامی مولانا رضوان الدین معروفی شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کنواں اور مولانا نجیب الحسن ندوی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں اپنے اپنے خطاب میں علماء نے جہاں مولانا وصی احمد صدیقی مولانا فاتح اقبال ندوی اور بصیرت کے چئرمین مولانا غفران ساجد قاسمی کی جد وجہد اور کوششوں کو سراہا وہیں انہیں اس عظیم اجلاس کے انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جس جذبے اور حوصلے کے ساتھ ان شخصیتوں نے آل متھلانچل مسبقہ القران الکریم کو عملی شکل دی اس کی میں قدر کرتا ہوں اجلاس عام کے موقع پر حضرت امیر شریعت کی خدمت میں منظور سپاسنامہ بھی پیش کیا گیا اس اجلاس کی سب سے اہم کڑی مدرسہ چشمہ فیض ململ کی جانب سے اہم اداروں کے درمیان ایوارڈ اور مسابقے میں اعزازی نمبرات سے کامیاب ہونے والے طلبہ کے درمیان انعامات کی تقسیم تھی چنانچہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کنواں کو ان کی اہم قرآنی خدمات میں حکیم الاسلام ایوارڈ جامعہ رحمانی مونگیر کو جدید اعلی ٹکنیکی تعلیم کی خدمات کے اعتراف میں مولانا ابوالحسن علی ندوی ایوارڈ۔ امارت شرعیہ کو مولانا سجاد ایوارڈ ۔اسلامک فقہ اکیڈمی کو مولانا منت اللہ رحمانی ایوارڈ۔ المعہد العالمی الاسلامی حیدر آباد کو ان کی اہم علمی خدمات کی وجہ سے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایوارڈ اور ململ ویلفئر سوسائٹی کو عبد الباری ایوارڈ سے نوازا گیا۔جبکہ مسابقے میں شریک کل 247 طلبہ میں سے 20 طلبہ کو چاروں فرع کے مسابقے میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر پانچ پانچ طلبہ اسناد کے علاوہ بالترتیب سات ہزار چھ ہزار پانچ ہزار چار ہزار اور تین ہزار کے قیمتی انعامات سے نوازے گئے اجلاس عام سے خطاب فرماتے ہوئے مولانا اسرالحق قاسمی ممبر پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو قرآن سے جڑنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ قرآن سے خود کو جوڑ کر اس کے پیغام کو پوری دنیا میں عام کرنا بحیثیت امت داعی ہمارا فرض ہے اسی کے ساتھ آپ کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ آپ گاوں گاوں اور محلہ محلہ مکاتب کے قیام کو یقینی بنا کر اپنی نئی نسل کے رشتے کو ان اداروں سے جوڑنے کی کوشش کریں ورنہ آپ یاد رکھیں اگر آپ نے اس سمت میں توجہ نہ کی آپ کی آنے والی نسلوں کا دین پر باقی رہنا مشکل ہو جائے گا ۔   نے کہا کہ ملک کے چپے چلے پھیلے مدارس اس ملک کی آبرو اور مسلمانوں کے وجود وتشخص کی علامت ہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو یہ ملک کبھی آزاد نہیں ہو پاتا اس لئے میں آپ سے کہونگا کہ اگر آپ اپنے  تشخص پر قائم  رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو اپنی نسلوں کے تحفظ کی خود فکر کرنی ہوگی اور انہیں مغربی طرز فکر سے بچا کر انہیں دینی نظام سے جوڑنے کا عمل انجام دینا ہوگ قاضی شریعت مولانا قاسم مظفر پوری نے امت کو ان کی اصل ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ نبی آخر الزماں نے قرآن کے پیغام کو پوری انسانیت تک پہونچانے کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے جس سے آپ اس وقت تک دست بردار نہیں ہو سکتے جب تک قرآن کا پیغام اس روئے زمین پر بسنے والی پوری انسانیت تک نہ پہنچ جائے ۔انہوں نے کہا میں آپ کو احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی بات نہیں کہ سکتا مگر میں کھلے لفظوں آپ سے کہونگا کہ باہر کی کوئی بھی طاقت آپ کو برباد نہیں کر سکتی بلکہ یہ امت جب کبھی برباد ہوگی وہ اپنے اعمال وکردار اور اخلاقی کمزوری کی وجہ سے ہوگی اس لئے اپنی نسلوں کے اخلاق وکردار کی حفاظت کا فرض آپ کو پوری ذمہ داری سے نبھانی ہوگی کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے نوجوان فاضل مولانا مفتی عمر عابدین مدنی نے کہا کہ اس وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ قومیں مسلمانوں کے شرعی احکامات کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں جن کے پاس زندگی کی رہنمائی کے لئے ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے قوانین کا انسانوں کے بنائے ہوئے قانون سے کوئی مقابلہ نہیں انسانی قانون جھوٹ پر مبنی جبکہ اسلامی قانون کے سارے نکتے حقیقت پسندی پر مبنی ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام نے پوری دنیا کو امن وانسانیت کا پیغام دیا اور انہیں زندگی کی راہوں میں خود اعتمادی کے ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے یاد رکھئے اگر دنیا قدرت کے نظام کو آج بھی تسلیم کر لے اور انسانوں کے بنانے ہوئے قانون پر سے ان کا اعتماد ٹوٹ جائے تو دنیا میں ایک صالح انقلاب آجائے گا اس لئے میں آپ سے کہونگا کہ آپ کسی بھی طرح کی احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی بجائے ایک باشعور امت کی حیثیت سے قدرت کے اس قانون کا مطالعہ کیجئے جس میں عزت ورفعت اور کامیابی کے سارے امکانات آپ کو کھلے نظر آئیں گے انہوں نے کہا کہ دنیا بھلے ہی آپ کو اور آپ کے دین کو تعصب وتشدد کا نشانہ بنا کر اس کے وقار کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہو مگر میں آپ سے کہونگا کہ اگر آپ نے قرآنی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کا سفر طے کرنے کا تہیہ کر لیا اور آپ عملی طور پر پوری امت کو اسلام کے ابدی قانون سے جوڑنے کے لئے تیار ہو گئے تو مجھے چڑھتے سورج کی طرح یقین ہے کہ دنیا آپ کے قدموں میں ہوگی ۔مشہور عالم دین مولانا خالد صدیقی نیپال مولانا نجیب الحسن  اور مولانا رضوان اللہ معروفی نے کہا کہ قرآن اللہ کی وہ کتاب ہے جس میں انسانیت کی کامیابی کی تمام راہیں موجود ہیں اس لئے پورے انسانیت کو اس سے جوڑنے کا عمل انجام دینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اجلاس عام کا اختتام مولانا قاسم مظفر پوری کی پر سوز دعا پر ہوا