یوپی سرکار میں سینئرو سنجیدہ قائدین کے مقابلے اشتعال دلانیوالوں کی پشت پناہی! ۳۰ سالہ سادھوی دیوا کی زہر افشانی دو ہفتہ بعد ہونیوالے بلدیاتی چناؤ کے دوران ویسٹ یوپی میں ماحول بگاڑنے کی کوشش

سہارنپور ( خاص رپورٹ احمد رضا) جب سے یوگی جی ریاست کے مکھیا بنے ہیں تب سے بھاجپاکے سینئر اور سب سے پرانے رہبروں اور کارکنان کی پوچھ کافی کم ہوگئی ہے یوگی جی کے ساتھ اکثر اسٹیج پر سنجیوبالیان ، سریش رانا، سنگیت سوم ، ٹھاکر برجیش سنگھ، وکرم سینی اور نریندر بالیان جیسے جوشیلے اور مجمع کو بات بات پر اشتعال دلانے والے لیڈران ہی بہتات کے ساتھ نظر آتے ہیں اکثر ہندو یوا واہنی سے جڑے کارکنان پہلی قطار میں یوگی جی کے خیالات کا پرچار کرتے ہوئے انکی ہدایت کیلئےآر ایس ایس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جبکہ پرانا کوئی بھی سینئر اور با اثر بھاجپا لیڈوزیر اعلیٰ کے وفد یا گروپ کے آس پاس تک نہی رہتا ہیہمیشہ بھاجپاکے ممبر لوک سبھا راگھو لکھن پال شرما کے چاروں جانب بھی پولیس یاپھر ہندو واہنی کے کارکناہی گھومتے نظر آتے ہیں صرف اسلئے کہ یہاں مسلم طبقہ اپنے کام کیلئے نہ پہنچ سکے کیونکہ راگھو لکھن پال شرما ممبر لوک سبھا ہیں اور کافی حد تک سبھی مذب کا احترام کرتے ہیں مگر ہندو کٹر طبقہ ایسے قائدین کیخالاف ہے ابتو حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہریانہ کی ایک ۳۰ سالہ سادھوی دیوا بھی یہاں آکر مسلم قائدین کیخلاف ریلی نکال کر انکی گرفتاری کی پرزور مانک کرتی ہے کل ملاکر گزشتہ تین سالوں سے آپسی بھائی چارے کے پر رونق ماحول کو بگاڑا جارہاہے دو ہفتہ بعد ہونیوالے بلدیاتی چناؤ کے دوران ویسٹ یوپی میں اس طرح کا ماحول بنانیکی تیاریاں بڑے پیمانہ کیجارہی ہیں تاکہ ہندو مسلم کو بھڑا کر الیکشن سے فائدہ اٹھایا جاسکے ہمیں خاص طور سے مسلم طبقہ کو اس سازش سے ہوشیار رہکر پر امن ووٹنگ کرنی ہوگی تبھی یہاں امن قائم رہیگا اور فرقہ پرستی کا ،منھ بھی کالاہوگائیگا؟گزشتہ چارسالوں سے ہندو یو واہنی کے سیکڑوں کارکنان نے گؤ رکشکوں کی حیثیت سے، نوئیڈا ، دادری ، دیوبند ، سہارنپور میرٹھ، باغپت، کاندھلہ، غاری آباد، شاہجہانپور، کھتولی ، علیگڑھ ، مراد آباد ، نور پور ، نجیب آباد ، بلند شہر ، کھرجہ ، ہاپوڑ، مظفر نگر اور شاملی میں مسلم مرد اور خواتین کے خلاف جو شرمناک برتاؤ انجام دیا مسلم فرقہ اس نازیبا کارکردگی اور مار پیٹ کو چاہ کربھی بھلا نہی پارہاہے سیکڑوں افراد کو پیٹا گیا اور درجن بھر نوجوانوں کو ہلاک کردیاگیاہے یہ پورا ملک جانتاہے اور آج وہی تنظیمیں ہمارے وزیر اعلیٰ کے شانہ بشانہ رہتی ہیں اسی لمحہ کو پرکھ کر آج ملک کا اقلیتی فرقہ خوزدہ ہے گزشتہ چار سال کی مدت میں ملک بھر میں انجام دئے گئے مار پیٹ اور آگزنی کے اس قابل مذمت اقدام کی ہر شخص نے کھلے دل سے مذمت کی ہے اس طرح کی حرکات سے مسلمان مشتعل اور جوش میں کبھی نہی آیا بس یہی ہم سبکیلئے کافی بہتر رہاہے اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ ہے ! آپکو بتادیں کہ شیوسینا، بجرنگ دل، رام سینا ، ہندو مہاسبھااوردرگاواہنی نامی چند تنظیمیں یوپی میں گزشتہ تیس سالوں سے ہندویوا واہنی(یوگی گروپ) کے مد مقابل بہت مظبوط تھیں مگر آج ملک بھر میں ہندو یوا واہنی اور ہندو جاگرن منچ کاہی بول بالاہے باقی پرانے بھاجپائیوں کی سرپرستی والی تنظیمیں غائب ہوکر رہگئی ہیں یوپی میں بھی آر ایس ایس کا کام ہندو یوا واہنی ہی انجام دے رہی ہے!

 
قابل ذکر ہیکہ ملک میں خوف حراس پھیلاکر اقلیتی فرقہ کو نشانہ پر رکھنے کی ۷۰ سال پرانی سازش کو آج پوری طرح سے لاگو کیا جارہاہے لکھنؤ اسمبلی سے لیکر ملک کے ہر گوشہ خاص طور سے ویسٹ یوپی ، پنجاب اورہریانہ میکے کچھ علاقوں میں آج بھی پالتو اور کھیتی کے کام میں آ نیوالے مویشیوں کا کاروبار کرنیوالے مسلم تاجروں پر طرح طرح سے حملہ کئے جاری ہے ہیں پچھلے آٹھ ماہ کے درمیان ان حملوں میں جہاں دہلی اور یوپی کے مویشی تاجروں کو کروڑوں کا بھاری نقصان ہواہے وہیں درجنوں افراد بری طرح سے پیٹے گئے اور کافی مارے بھی گئے سیکڑوں افراد آج بھی گؤ کشی کے الزام میں ہماچل، پنجاب ، ہریانہ اور یوپی کی جیلوں میں بیقصور ہونیکے باوجود سزا بھگت رہیہیں سرکاری وکلاء اور پولیس ضمانت کے عوض موٹی رقم طلب کر رہی ہے رقم نہی ادا کرنے پر وہ لوگ جیلوں میں قیدی کی زندگی گزارنیکو مجبور ہیں؟یوگی سرکار میں اکثر بھاجپائی اور بھاجپائی ممبران اسمبلی از خد مسلمانوں کیخلاف طرح طرح کی افواہیں اڑاکر اشتعال پیدا کر رہے ہیں مگر ان افواہوں کی حقیقت جان لینے کی بعد بھی سرکار تماشائی بنی ہے! گزشتہ چار سال کی مدت میں دیوبند ، سہارنپور، کیرانہ ، شاملی اور مظفر نگر کے علاقوں سے آئی ایس آئی کے رابطہ میں مقامی پولیس اور خفیہ یونٹ کے ذریعہ گرفتار مسلم نوجوانوں کو قابل عدالتوں نے بیقصور قرار دیکر یوپی سرکار ، پولیس اور انتظامیہ کی پول کھول کر رکھہ دی ہے اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہے کہ ملک میں جو کچھ رونماہو رہاہے وہ غلط سوچ اور بیہودہ تصورات کا برا نتیجہ ہے یہاں یہ ثابت ہوتاہے کہ اس یونٹ کا کام صرف مسلم طبقہ کوہی نشانہ پر رکھ کر دنیاکے سامنے ذلیل وخوار کرناہے اور خد کو ملک کا وفادار اور دیش بھگت ثابت کرناہے جبکہ اس آر ایس ایس کی کارکردگی اور سوچ سے پورا ملک خوب واقف ہے؟ ریاست میں مسلم فرقہ پر مسلسل آفتیں جاری ہیں اور سبھی ظلم بھی اسی کمزور اور پچھڑے ہوئے فرقہ پر کئے جارہے ہیں بلدیاتی الیکشن کے مد نظر اب سنجیدگی کیساتھ وزارت داخلہ یوپی نے اے ڈیجی پولیس آنند کمار اور اسپیشل آئی جی میرٹھ کو ہر لمحہ الرٹ رہنے کو کہاہے اندنوں جگہ جگہ جدید اسلحہ سے لیس فورسیز کا مارچ اور گشت لگاتار جاری ہے سڑکیں اور محلہ اندنوں پولیس کے جوانوں کے بوٹوں کی آوازوں سے گونج رہی ہیں عام آدمی کا شکوہہ اور شکایت کرنا اب بیحد مشکل ہوگیاہے ! مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر مغربی یوپی میں الیکشن( بلدیاتی چناؤ) پر مکمل تحفظ کیلئے بہتر بندوبست کئے جارہے ہیں مگر شاید اسبار امن شانتی کے نام پر کچھ زیادہ ہی جوش ظاہر کیاجارہاہے جو عام آدمی کیلئے باعث تشویش قدم ہے آپکو معلوم ہونا ضروری ہیکہ گزشتہ تیس سال سے یہاں کے مغربی اضلاع شاملی، باغپت، بڑوت ، مظفر نگر اور میرٹھ پیٹھ میں آنے والے بڑے بڑے مویشی تاجر فروخت کیلئے یہاں اپنے مویشی لاتے رہے ہیں مگر کہیں کوئی دقعت یا الجھن مقامی عوام کو نہی تھی عوام کے بیچ سے ہزاروں مویشی ہر ماہ آتے جاتے تھے آپکو یہ بھی بتادیں کہ ہریانہ ، پنجاب ، ہماچل اور اتراکھنڈ سے مغربی یوپی میں داخلہ کے درمیان قریب قریب ایک سو دس کلومیٹر کے آنے جانے کے راستہ مسلم اکثریتی علاقوں سے گھرے ہوئے ہیں مگر خدا کا کرم ہیکہ گزشتہ تیس سالوں سے اس لمبے راستہ پر کوئی اڑچن ہندو مسلم تیوہاروں پر آج تک بھی لاکھ تفرقہ بازی کے بعد بھی پیدا نہی ہوسکی ہریانہ کے ضلع جمنانگر سے اترا کھنڈ کے اہم ضلع ہردوار کے جوالاپور تک سیکڑوں مسلم اکثریتی علاقہ موجود ہیں اور لگاتار تیس سالوں سے دونوں فرقہ کی یاترائیں اور جلوس اسی راستہ سے گزرتے آرہے ہیں آن ریکارڈ کہیں کچھ نہی ہوا مگر پچھلے چار سالوں سے ان راستوں اور علاقوں کوبھی بھگوا بنا دیاگیاہے مساجد اور مدارس کے سامنے فجر سے لیکر عشاء کی نمازوں کے درمیان یاترائیں دو تین دن کے وقفہ کے بعد زبردست شور شرابہ اور ڈے جے کے ساتھ گزرنے لگی ہیں اندنوں رونماہونیوالی یہ تمام بیہودہ حرکات نظر انداز کی جاتی ہیں جبکہ انحرکات سے زیادہ الجھن کا شکار بنتاہے اقلیتی فرقہ جبکہ اس بیہودگی اور بد نظمی کیلئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے مقامی پولیس اور انتظامیہ کیونکہ یہ سب کچھ دھرم کرم کیلئے نہی بلکہ داداگری ثابت کرنیکی غرض سے زور وشور سے انجام دیا جاتاہے کبھی یہ تعداد دو چار یاتراؤں تک محدود تھی مگر چند سال سے یہ تعداد اچانک سیکڑوں یاتراؤں اور جاگرن و پوجا کیرتنوں تک پہنچ گئی اور اس پر تعجب یہ کہ ان سبھی موقع پر بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنیکے بجائے امن پسند عوام کوہی گھروں اور انکے علاقوں میں محصور کردیاجاتاہے !
وزیر اعلیٰ یوگی کے اقتدار میں جس طرح پرانے اور سینئر بھاجپائی قائدین کنارہ لگادئے گئے ہیں وہیں مغربی یوپی کے اشتعال پیدا کرنیوالے ممبران اسمبلی برجیش ٹھاکر، وکرم سینی، سنگیت سوم، سشیل رانا اور مرکزی وزیر سنجیو بالیان کو ہر طرح کی قیادت کرنیکی مکمل آزادی ملی ہوئی ہے یہی لوگ ہندو فرقہ کی سوچ کو منفرد انداز میں مسلم فرقہ کیخلاف استرمال کرنیکی مہارت رکھتے ہیں پرانے بھاجپائی پڑوس اور شہر میں رہنیوالے لوگوں کا لحاظ رکھتے تھے اور روادی کا ماحول بنائے رکھتے تھے جبکہ پچھلے چار سالوں سے عدم رواداری عام ہے ہندو مسلم ایک منچ پر آنے سے بھی گریز کرنیلگے ہیں پرانے بھاجپائی ساتھ رہتے تھے اور موقع پر تنظزیہ کام بھی کرتے تھے مگر کچھ دن بعد پھر ایک میز پر آجاتے تھے مگر اب وہ دن لد ھئے اب تو فاصلہ بڑھائے جارہیہیں عوام کو عوام سے دور کیا جارہاہے اس میں غور طلب بات یہ بھی لگ رہی ہے کہ شایدملک یا ریاست کے حالات بگاڑنے میں ا س طرح کی حرکات کے پیچھے یوگی سرکار میں کام میں لگائے گئے آر ایس ایس کی دوسو سال پرانی سوچ والے سینئر کٹر بھگوا تنظیموں کے کارکنان شامل ہیں جو ہندو مسلم کو تقسیم کرکے ملک پر ایک طرفہ اقتدار چاہتے ہیں مگر یہ ممکن ہی نہی ہوگا شاید اسی گروپ کے ذریعہ چیف منسٹر کی قیادت کو بدنام کئے جانے کی پلاننگ کے تحت ہی اقلیتوں کے ساتھ بد تمیزی ، مارپیٹ اور چھینٹا کشی کی وارداتیں مسلسل یہاں انجام دیجارہی ہیں یہ باتیں سچ بھی ہوسکتی ہیں کیونکہ یوگی کچھ کہ رہے ہیں اور ہورہا کچھ اور ہی ہے عام چرچہ یہ بھی ہے کہ ہندو یو واہنی ازخد یوگی جی کی پہلی پسند ہے اس لئے یوگی جی کی تقاریر اور بیانات سے اس یونٹ کو ہی آکسیجن مل رہی ہے جبکہ دیگر نامی تنظیموں کو ترجیح ہی نہی دیجارہی ہے مکمل یقین ہے کہ ان بھگوا تنظیموں کی آپسیکڑوی سوچ ہی اقلیتی فرقہ کیلئے خسارہ کا معاملہ ثابت ہورہی ہیں!