مسلم مسائل اور انکے حقوق پر سوشل قائد احسان الحق ملک کا بیباک تبصرہ سیاسی بازی گروں نے اقلیتی فرقہ کو ووٹکی خاطرہمیشہ سبز باغ دکھائے!

 سہارنپور ( جائزہ ر پورٹ احمد رضا) گزشتہ سالہا سال سے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتیں الیکشن سے قبل ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے عوام بلخصوص مسلم طبقہ کوسنہرے خواب دکھاتی آرہی ہیں لیکشن کے سخت موقع پر سبھی سیاسی جماعتیں معصوم افراد کو بہتر سے بہتر مراعات دینے کا سچا اور پکاوعدہ کرتی ہیں مگر گزشتہ ۷۰سالوں میں کسی بھی سرکار نے آج تک بھی اپنا چناؤی وعدہ اقلیتی طبقہ کے ساتھ وفا نہیں کیا اب پھر لوک سبھا کا عام چناؤ۹ ۲۰۱ میں ہونے جا رہا ہے تمام پارٹیاں اقلیتی فرقہ کو بیوقوف بنانے کے لئے پھر سے ان کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کر رہی ہے کچھ حکومتیں جو واقعی اقلیتی طبقہ کے ساتھ بہتری کا برتاؤ کرنا چاہتی تھی انھوں نے اپنی سرکاروں میں اقلیتی فرقہ کو رزرویشن دیکر یہ ثابت کر دیا کہ حقیقت میں وہ اقلیتی فرقہ کے ساتھ ہیں اور اقلیتی فرقہ کے درد کو سمجھتی ہیں پچھڑا سماج مہاسبھا کے قومی صدر جناب احسان الحق ملک نے ایک مکتوب کے ذریعہ صدر جمہوریہ ہند ، وزیر اعظم ہند ، سونیا گاندھی اور اقلیتی امور کے وزیر،مختار عباس رضوی کے علاوہ درجنوں ذمہ داروں کوخبر دار کیا ہے اور احسان ملک نے صاف کہاہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات کے مد نظر ملک کا اقلیتی فرقہ آزادی کے ستر سال بعد بھی دلت فرقہ سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبو رہے اسلئے آج ملک کے تیس کروڑ عوام پر مشتمل اقلیتی فرقہ کو طاقت بخشنے کے لئے بہتر اقدا م کئے جانے اشد ضروری ہے جناب احسان الحق ملک نے اپنے مکتوب میں تمام ذمہ داران کو یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ملک میں بننے والے بی پی ایل کارڈوں سے اقلیتی فرقہ کے لوگوں کو ایک سازش کے تحت دور رکھا جا رہا ہے جہاں جہاں ملک میں اقلیتی فرقہ کے لوگ بی پی ایل کارڈ کے حقدار ہیں وہاں وہاں جان بوجھ کر ایسے افسروں کو تعیناتی دی گئی ہے کہ جو بلاوجہ کے اعتراضات لگا کر اقلیتی فرقہ کے لوگوں کے بی پی ایل کارڈ بنانے سے صاف منا کر رہے ہیں جناب احسان الحق ملک نے کہا کہ ملک کا اقلیتی فرقہ بد سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہے پھر بھی سرکار کے حکم بعد کے اسکو بی پی ایل کارڈ سے محرو م رکھا جا رہا ہے جناب احسان الحق ملک نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مانگ کی ہے کہ اقلیتی فرقہ کی اکثریت والے علاقوں میں کیمپ لگا کر ذمہ دارافسروں کی موجودگی میں بی پی ایل کارڈ بنانے کا کام انجام دیا جائے تاکہ جو لوگ بی پی ایل کارڈ کے مستحق ہیں انکے بی پی ایل کارڈ بہ آسانی بن جائے جناب ملک نے کہا کہ ایک خاص فرقہ نہیں چاہتا کہ ملک کا مسلمان خوشحال بنے اسی لئے مسلمانوں کو ہر طرح کی مراعات حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے ملک کا اقلیتی فرقہ تعلیم اور اقتصادی میدان میں پوری طرح سے پچھڑا ہو ا ہے اگر حکومت وعدہ کرنے کے بعد بھی اقلیتیوں کی حالت پر دھیان نہیں دیتی تو اس سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ حکومتیں خود اقلیتی فرقہ کو پچھاڑ دینا چاہتی ہیں اگر حکومتیں ایماندار ہیں تو اقلیتیوں کو ایمانداری کے ساتھ انکا حق فراہم کرائے پورے ملک میں یہ بات عام ہے کہ یہ ہے کہ اقلیتی فرقہ کی حمایتی ہونے کا دم بھرنے والی مرکزی سرکار اور اتر پردیش کی صوبائی سرکار ابھی تک سچر کمیٹی کی سفارشات لاگو کرنے اور کرانے میں بری طرح سے نا کام ہے جس وجہ سے اقلیتی فرقہ میں بیچینی کا ماحول ہے پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک پورے ملک میں یہ بات عام ہے کہ مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت الیکشن سے قبل ووٹ حاصل کرنے کے لئے سنہرے خواب دکھاتے ہیں اور مراعات دینے کا ڈھوس وعدہ کرتی ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ۰ ۷سالوں میں کسی بھی سرکار نے اپنا وعدہ اقلیتیوں کے ساتھ وفا نہیں کیا ملک کا بے باک کہنا ہے کہ مسلمانوں کو جو جماعت رزرویشن دیگی اور جو جماعت انکی مشکلات کودور کرنے کے عملی اقدامات کرے گی اسی کو اقلیتی فرقہ تعاون دیگا قابل ذکر ہے کہ پچھڑا سماج مہا سبھا پورے ملک میں اقلیتی فرقہ کو اسکا حق دلانے کے لئے جدو جہد میں مصروف ہے اقلیتی فرقہ کے تعلیمی اداروں کا سروے بھی مہا سبھا کے ذریعہ کیا جا رہا ہے مہا سبھا چاہتی ہے کہ اقلیتی فرقہ کے بچّے پڑھکر قابل بنے اور اپنے راسطے خود تلاش کریں۔آج افسوس ۷۰سالوں میں دیگر بہت سی سرکار نوںے اپنا وعدہ اقلیتی طبقہ کے ساتھ وفا نہیں کیاسرکاری مراعات، تعلیمی اسکالر شپ، روزگار چلانیکے لئے بنک قرض اور بی پی ایل (سفید) راشن کارڈ بنانے کے نام پر گزشتہ ۱۰ سالوں سے اقلیتی فرقہ کے ساتھ ریاستی سطح پر مسلسل سوتیلا برتاؤ جا ری ہے، اقلیتی فرقہ کے لوگ غریب اور مظلوم ہونے کے بعد بھی سرکاری مراعات، تعلیمی اسکالر شپ، روزگار چلانیکے لئے بنک قرض اور بی پی ایل (سفید) راشن کارڈ سے محرو م رکھا جا رہا ہے ؟ قابل امر ہیکہ ۱۹۴۷ کے بعد سے لگاتار مظفر نگر اور سہارنپور فساد میں مسلمانوں پر ، مسلمانوں کے کاروبار پر اور مساجد پر بہت ہی منظم ظریقہ سے حملہ کئے گئے ہماری مساجد آج بھی ان حملوں کی گواہ ہیں مظفر نگر اور سہارنپور فساد کے بعد سے کافی مسجدیں آج بھی رونقوں سے محروم ہیں ان مساجد میں مسلمان نماز ادا کر تے ہو ئے اب ڈرنے لگے ہیں مگر تمام حالات سے واقف ہونے کے بعد بھی مسلمانوں سے ہمدرد ی کا ناٹک کر نے والے قائدین ان نازک اور حساس معاملات پر چپ کیوں ہیں بیباک طور سے بتائیں کہ سہارنپور فساد میں مسلمانوں کے ساتھ کون سا انصاف ہوا ہے مساجد کو لوٹنے اور شہید کرنے والوں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہیاور مسلمانوں کو معزور کرنے والے مقامی پولیس اور فورس کے جوانوں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے ۔ فساد میں مسلمانوں پر ، مسلمانوں کے کاروبار پر اور مساجد پر بہت ہی منظم ظریقہ سے حملہ کئے گئے ہماری مساجد آج بھی ان حملوں کی گواہ ہیں مظفر نگر اور سہارنپور فساد کے بعد سے کافی مسجدیں آج بھی رونقوں سے محروم ہیں ان مساجد میں مسلمان نماز ادا کر تے ہو ئے اب ڈرنے لگے ہیں مگر تمام حالات سے واقف ہونے کے بعد بھی مسلمانوں سے ہمدرد ی کا ناٹک کر نے والے قائدین ان نازک اور حساس معاملات پر چپ کیوں ہیں ؟
مسلم طبقہ کے ساتھ ہو نیوالی چھیڑ چھاڑملکی سالمیت کے لئے خطرہ
پچھلے تیس سالوں سے آرٹیکل ۳۴۱ کو لیکر لگاتار دلت مسلموں اور عیسائیوں کے حق کی خاطر جدوجہد کر تے آ رہے سینئر سوشل قائد جناب اے ایچ ملک نے گزشتہچار سال سے مسلسل ملک کے مختلف علاقوں میں بھاجپا سیمنسلک تنظیموں کے ذمہ دارانکے ذریعہ مسلم طبقہ کے ساتھ کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کو ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بتاتے ہوئے ا ن سبھی قائدین سے ایسی شرمناک حرکتوں سے باز آنے کی اپیل کی ہے پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے کہا کہ پیارے نبیﷺ کی شان میں توہیں آمیز باتیں، لوجہاد مدارس اسلامیہ اور دہشت گردی کے بیہودہ الزامات سے مسلمانوں کے ایک گہری سازش کے تحت لگاتار اکسایا اورگھیرا جارہاہے مگر مودی جی سب کچھ جانتے اور ددیکھتے ہوئے بھی خاموش بیٹھے ہیں ! یاد رہے کہ مودی جی اب سنگھی برادریکے نہی بلکہ ایک عظیم سیکولر ملک کے وزیر اعظم ہیں اسلئے اس طرح کی بیان بازی کرنیوالوں کی نکیل کسی جانی ملک کے مفاد میں بیحد ضروری ہے!پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے کہاہے کہ ملک میں مذہبی جنوں کو آر ایس ایس،بھاجپا، وشوہندو پریشداور بجرنگ دل اور انکے قائدین کی جانب سے لگاتار ہوا دیکر بڑھا یا جا رہاہے فرقہ وارانہ وارداتومیں اور فرقہ واریت پر مبنی بیان بازی میں بھی بے تحاشہ اظافہ ہوتا جا رہاہے فرقہ پرستی کو ساکشی مہاراج، وکرم سینی ، سنگیت سوم اور سشیل رانا،سادھوی پراچی،پروین توگڑیا اور ونے کٹیار جیسے بھگوا نیتا لگاتار بڑھا واہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو للکارنے کا بھی گھنونہ کام بھی انجام دے رہے ہیں سب سے شرمناک بات تو یہ ہے کہ ملک کے ماحول کو بگاڑنے اور اقلیتی فرقہ کے خلاف زہر افشانی کرنے میں مرکزی سرکار کے وزیر مہیش شرما،گری راج سنگھ اور سنجیو بالیان کی بھاگے داری سوچ سے بھی زیادہ ہے اور یہی بڑبولہ پن آج اس عظیم ملک اور امن پسندقوم کی ایکتا ،خوشحالی اور بھائی چارہ کے لئے خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کو بانٹنے کی بیہودہ سازش کا ہی ایک حصہ ہے؟ سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے کہاکہ اب تک ملک میں جتنے بھی فرقہ وارانہ فساد رونماء ہوئے ہیں انمی سنگھی گروہ اور فرقہ پرست تنظیموں کا زبردست رول رہا ہے اس بات کا خلاصہ صوبائی سرکار کے زریعہ کرائی گئی جانچ میں بھی ثابت ہو چکاہے کہ چندلوگ ہی فر قہ پرستی کو بڑھاوادینے میں آگے آگے ہیں؟مسلمانوں کو پہلے جوش دلاؤ پھرایک دوسرے سے لڑاؤ، حالات بگڑنے کے بعد مسلمانوں کی خوب پٹائی کراؤاور جب فورسیز مالمانوں پر ظلم ڈھائے تب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے گروں میں دبک کر بیٹھ جاؤاور پھر مظلوم مسلمانوں کو بیچ سڑک پر کھڑا کر کے بھاگ جاؤ بس یہ ہے ہمارے قائدین اور سیای جماعتوں کے لیڈرا ن کی ہنر مندی ۔ آخر یہ کس طرح کی ذہنیت آخر کیو ں مسلمانوں کے ساتھ آزادی سے آج تک یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے بتایا کہ ملک میں رونما ہونے والے ہر دنگے میں مسلمانوں کو بھا ری تباہی کا سامنا ہے! فوٹو۔۔۔ مسلم قوم کی حالت سے ملک کو روشناس کرانیکے مقصد سے ٖفیض آباد کی ایک مسلم بستی کا دورہ کرتے ہوئے سو شل قائد احسان الحق ملک