ظالم طاقتوں سے بچنے کے لیے نیک اعمال کے ذریعہ ہم خدا کی طاقت حاصل کریں جامعہ رحمانی کے سالانہ اجلاس سے حضرت امیر شریعت کا پیغام

مونگیر ۵؍ نومبر (آمنا سامنا میڈیا)
جامعہ رحمانی مونگیر کا عظیم الشان اجلاس بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوگیا، اس موقعہ پرجید علماء کرام کے خطابات وبیانات ہوئے، کتاب کا اجراء ہوا، اورلین دین ومطالبہ سے پاک آٹھ نکاح ہوئے، جو سادگی کے نمونہ اور سنت کا مظہر تھے، اس موقعہ پر اجلاس کے صدر امیر شریعت، مفکراسلام حضرت مولانا محمدولی صاحب رحمانی نے مختلف ریاستوں سے جامعہ کے اجلاس وخانقاہ رحمانی کے سالانہ فاتحہ ودعاء میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میںآئے عقیدتمندوں اور فرزندان اسلام سے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہاں آنا مبارک ہے، مگر یہ آمد تب مقبول اور پسندیدہ ہے، جب آپ کا یہاں آنا محض آنا اور چلا جانا نہ ہو، بلکہ آپ علماء کی انقلابی باتوں کو سن کر اپنے اندر تبدیلی لائیں، اور آپ کی زندگی میںیہ نمایاں تبدیلی انقلابی موڑ ثابت ہو، انہوں نے کہا کہ ہجوم کی کثرت کی وجہ سے آپ کو بیشک تکلیف ہورہی ہے، مگر اس تکلیف کو برداشت کرنا آپ کے لیے مفید بھی بن سکتا ہے، جب آپ اپنے اندر تبدیلی لا کر اللہ کی رحمت وبرکت لوٹنے کا حسین موقعہ اپنے ہاتھ کرلیں، یاد رکھئے، جب بندہ نیک عمل کرتا ہے، نیک لوگوں کی صحبت میں رہتا ہے، اوریہ مسلسل کرتا رہتا ہے، تو عمل کا تسلسل اس میں دھیرے دھیرے بڑی تبدیلی پیدا کرتا ہے، جس طرح گھڑا پکی زمین پر رہتے رہتے ایک عرصہ بعد اس پر ایک بڑا گہرا داغ ظاہر کرتا ہے، اور ایک بڑی مدت کے بعد اس میں اس کا اثر اس طور پر ہوتا ہے کہ اس پکی زمین میں مٹی کے گھڑے کی وجہ سے سوراخ بن جایا کرتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے ہمیں اس نسخہ کو بتایا اور سمجھایاہے، نسائی شریف میں ہے کہ جب بندہ اللہ سے عبادت کے ذریعہ قربت حاصل کرتا ہے، اور کرتا رہتا ہے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے، کہ بندہ دیکھتا اپنی آنکھ سے ہے، مگر اللہ کی مدد اس کے پیچھے ہوتی ہے اور وہ بھی دیکھتا ہے جو انسان طاقت سے باہر ہے، اسی طرح بولتا اپنی زبان سے ہے ،مگر اللہ کی طاقت اس میں مل جایا کرتی ہے، تووہ آواز بہت دور تک پہونچ جایا کرتی ہے، جہاں تک پہونچانا انسان کے بس سے باہر ہے، اسی طرح اس کے ہاتھ اور اس کے قدم کا حال ہوتا ہے، تاریخ میں ایسی مثال موجود ہے، حضرت عمرؓ نے سیکڑوں کیلو میٹردور اسلامی لشکر کی پریشانی کو دیکھ لیا، اور مسجد نبوی کے ممبر سے ہدایت جاری کی اور ان کی یہ ہدایت سیکڑوں کیلو مٹیر دور اسلامی لشکر کے سپہ سالار اور دوسرے لوگوں نے سنی، آپ بھی جب نیک عمل کے ذریعہ اللہ سے قربت حاصل کریں گے، اور مسلسل کرتے رہیں گے تو آپ کی بھی مدد جائے گی،آپ کے ساتھ بھی خدائی طاقت مل جائے گی، پھر دنیائی کوئی طاقت آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، اس لیے آپ یہاں سے بڑی تبدیلی کا پختہ عزموارادہ لے کرجائیں۔ اس سے پہلے جناب مولانا عمرین محفوظ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یہ علماء ا ور بزرگوں کی جرأت ووصلاحیت ہی رہی ہے کہ وقت کے بڑے ظالموں اور باطل طاقتوں کی سر کوبی ہوئی ہے، خانقاہ رحمانی کے بزرگوں نے بھی اس سلسلہ میں تاریخ رقم کی ہے، اس لیے خانقاہ رحمانی جو مرکز رشدوہدایت ہے، اور جامعہ رحمانی جو مرکز علم ودین ہے، اس کی حفاظت اور اس کی ترقی کے لیے کوشش کرنا اپنا فریضہ سمجھئے۔ امارت شرعیہ کے ناظم جناب مولانا انیس الرحمان صاحب قاسمی نے کہا کہ میں نے ہندوستان کی خانقاہوں کو دیکھا ہے، عقیدہ کی صحت اور پختگی کے ساتھ دین کی خدمت کا جو سلسلہ یہاں سے جاری ہے، وہ کسی اور خانقاہ سے نہیں، اس جگہ کی خدمات کا ایک لانبا سلسلہ ہے، انہوں نے کہا کہ نوجوان دینی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ ان کی عمر عمر نبوت ہوتی ہے، جناب مولانا محفوظ الرحمان صاحب فاروقی امیر مرکز علوم شرعیہ مراٹھوارہ مہاراشٹر نے کہا کہ آپ یہاں مرکز علم وہدایت میں آئے ہیں، اپنی زندگی کو سنوارنے کا ارادہ کرکے جائیے، دینی مزاج بنائیے، اور دین پر کاربند رہنے کی فکر دامن گیر رکھئے۔ جناب مولانا عبد المتین صاحب نعمانی امام وخطیب جامع مسجد فاربس گنج ارریہ نے کہا کہ ہم انسانوں کے سلوک جانوروں سے بھی بد تر ہوتے جارہے ہیں، انسانیت، بھائی چارگی، صلہ رحمی یہ سب چیزیں ہم سے رخصت ہوگئی ہیں، اس لیے ہم پریشانیوں میں گھر گئے ہیں۔ جناب مولانا مفتی سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ حضرت مونگیری نے اخلاص کے ساتھ خانقاہ کی بنیاد رکھی، جس کا نتیجہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کی ہدایت کا یہ ذریعہ بنی، دنیا کا بڑا سے بڑا ادارہ وسائل کے باوجوداتنی عظیم خدمت انجام نہیں دے سکتا ۔ جناب مولانا شبلی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ امیر کی اطاعت فرض ہے، ہم سبھوں کو امیر شریعت کی بات مان کر زندگی گذارنی چاہئے۔جلسہ کا آغاز جناب قاری نظام الدین صاحب استاذ جامعہ رحمانی کی تلاوت سے ہؤا،اس موقعہ پر مولانا منظر قاسمی فاضل جامعہ رحمانی اور محمد مسعود رحمانی متعلم جامعہ رحمانی نے نظم ونعت سناکر سامعین کو محظوظ کیا، جلسہ کی کامیاب نظامت جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا محمد خالد صاحب رحمانی اور جناب مولانا محمدرضاء الرحمن صاحب رحمانی نے کی۔