چندرشیکھر کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ جاری بھیم آرمی قائدراون پر این ایس اے کے تحت کاروائی دلت مخالف!

سہارنپور۵نومبر(آمنا سامنا میڈیا، خاص خبراحمد رضا)پچھلے چھ ماہ قبل ایک خاص پلاننگ کے تحت ووٹ کے سیاسی کھیل کے مدنظر گاؤں دودھلی کے بھاجپا مسلم فساد کے بعدشبیرپور میں ہونے والے نسلی فسادات نے پورے ملک میں نریندر مودی اور یوپی کی یوگی سرکار کی کارکردگی پر جو سوال اٹھائے تھے تب بھاجپائیوں کو بچانیکے لئے اس وقت ہمارے چیف منسٹریوگی نے بہت ہی سہل انداز میں انکا جواب دیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت ایکشن کے احکامات جاری کئے تھے جس وجہ سے سپا اور بسپا جیسی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مٹھی بھربھاجپاکے سخت مزاج افراد نے بھی اس ہدایت پر حیرانی ظاہر کی تھی آج جبکہ یوگی سرکار میں فرقہ پرستی کا بھوت سر چڑھ کر بول رہاہے بھاجپائی بھی کسی بھی تنازعہ پر بہت جوشیلی بیان بازی کررہے ہیں مگر ایکشن صرف مسلم اور دلت فرقہ پر ہی لیا جارہاہے جہاں پچھلے سات ماہ سے گؤ کشی کے الٹے سیدھے معاملات میں سو سے زائد مسلمان جیل میں بند ہیں وہیں شبیر پور نسلی فساد کا ٹھیکرا بھیم آرمی کے سر مارکر بھاجپائیوں نے اعلیٰ ذات کے ٹھاکروں کو بچانیکی نیت سے بہ مشکل کچھ معاملات میں تین روز قبل بھیم آرمی چیف چندر شیکھر کو ملی ضمانت کے حکم کے بعد ہی جیل سے چھوٹے جانے سے قبل پھر سے چندر شیکھر کو نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کئے جانیکی بابت جیل جاکر عملی جامہ پہنادیا گیاافسرا ن کی سختی نے شبیر گاؤں میں فسادات کے ملزمان ( خاص طور پر دلت فرقہ) کے ذمہ داران کی نید حرام کردی ہے مگر ان فسادات کے بعد گزشتہ عرصہ میں ضلع بھر میں جس قدر بھی پر تشدد وارداتیں انجام دیگئی ہیں انکا خوف لکھنؤ تک محسوس کیا گیا یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے اس واردات کو سنجیدگی کے ساتھ لیکر کمشنری میں نظم ونسق قائم رکھنے کی مکمل ذمہ داری مقامی کمشنری افسران اور اے ڈی جی پی کے سپرد کردی تھی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ کمشنری کے اہم علاقوں میں پولیس، فورسیز اور افسران کی نگرانی لگاتار جاری رہی اور جرائم پیشہ عناصر پر شکنجہ کس دیاگیا مگر اس سرکاری جال میں اعلیٰ ذات کے افراد کو تو بھاجپا قیادت نے بچالیا مگر زیادہتر بیقصورتعلیم یافتہ دلتوں کو بری طرح سے فوجداری معاملات میں الجھادیاگیاہے یہ بھی سچ ہے کہ تالی کبھی بھی ایک ہاتھ سے نہی بچائی سکتی ہے اس طرح کے تنازعات میں کچھ کا کرادار کم تو کچھ کا زیادہ ضرور ہوتاہے صرف ایک فرقہ کوہی سرکاری عتاب کا شکار بنانا غیر آئینی عمل ہے اور گزشتہ چار روز سے شہر، دیہات اور کمشنری کے بیشتر علاقوں سے اس سخت کاروائی کیخلاف اب دلتوں کی آوازیں اٹھنی شروع ہوچکی ہیں اندنوں اس سرکاری اقدام کیخلاف دلتوں میں لگاتار علاقہ میں غصہ بھی بڑھتاہی جارہاہے دلت فرقہ اس وقت ہیجان کا شکار ہے ! ویسٹ یوپی کے جو مشہور ومعروف فوجداری کے مسلم اور دلت وکلاء فساد میں ملوث دلت فرقہ کی پیروی کر رہے ہیں انکا بھی بحث کے دوران بار بار قابل عدالتوں سے یہی التماس کیاگیاکہ جتنا سخت مقدمہ بناگیاہے اتنا سخت جرم ہونا کہیں بھی پولیس یا سرکاری ریکارڈ میں ثابت نہی اسی بنیاد پر قابل ہائی کورٹ کی بینچ ان ملزمان کی ضمانتیں بھی منظور کر رہی ہے اسکے بعد بھی سیاسی آقاؤں کی شہ پر سخت ایکشن اب دلتوں کے گلے نہی اتر پارہاہے اسلئے غصہ پھر سے پنپنے لگاہے!
عام چرچہ ہے کہ گاؤں میں ہم سبھی کو ملکر رہناہے گزشتہ ۹مئی کو دلت فرقہ کے اعلیٰ ذات ٹھاکروں اور پولیس سے ٹکراؤ کے نتیجہ میں ضلع کے چاروں ہائی ویز علاقوں میں جو کچھ بھی ہوا اسکو بھلا دیناہی بہتر ہے ( عام رائے ہے کہ جس طرح گزشتہ ستر سالوں سے ہندو مسلم فسادات کو سرکاری مشینری اور سیاسی قیادت اکثر بھلادیتی ہے) مگر چند مفاد پرست سیاست داں اس ایشوکو سیاسی مدعا مانکر بھاجپا کو فائدہ پہنچانیکا ۲۰۱۹ لوک سبھا جیتنیکا بڑا پلان بنا رہے ہیں جس وجہ سے کمشنری میں تناؤ لگاتار قائم ہے ڈی جی پی سلکھان سنگھ کی ہدایت پرشہر اور دیہات کے اہم علاقوں میں مقامی پولیس اور آر اے ایف کے علاوہ سی آر پی ایف کے جوانوں کی لگاتار گشت جاری ہے کہ جو کمشنری کے عوام کو پرامن رہنے کا پیغام پہنچانیکا شاندار کام انجام دیرہی ہے! کمشنری کے سبھی اہم فورسیز کی گشتی ٹیموں کی رہنمائی ہمیشہ کی مانند اس بار نگر پالیکاؤں اور نگر نگم چناؤں کے مد نظراعلیٰ پولیس اور سینئرا نتظامیہ کے افسران کے ذریعہ کیجا رہی ہے دوسری جانب ریاست کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی سخت ہدایت کے باعث آج ہی سے ریا ستی پولیس ہیڈ کواٹر اپنے مکھیا ڈی جی پی سلکھان سنگھ کی زیر قیادت فرقہ وارانہ تکرار ، نسلی تنازعات اور چناؤ کے موقع پر چھوٹے موٹے بیہودہ مگر بڑے بن جانیوالے کرائم کو کنٹرولکرنیکی نیت سے اب کافی سنجیدہ ہوچلاہے پولیس ذرائع کے مطابق قابل قدر ریاستی ڈائریکٹر جرنل پولیس سلکھان سنگھ کی حکمت عملی کے نتیجہ میں پوری ریاست میں غیر سماجی عناصر، مشکوک افراد، جرائم پیشہ بدمعاشوں اور زمین مافیاؤں کے علاوہ سبھی مشکوک اور سماج میں خوف پیدا کرنیوالے عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے ساتھ ہی سات ان سبھی غیر سماجی عناصر کے خلاف پرانی جانچ کی بنیاد پر نئے سرے سے کڑی کاروائی بھی کی جارہی ہے سرحدی علاقوں، سرکاری اداروں، بازاروں اور گھنی آبادی والے علاقوں میں پولیس اور حفاظتی یونٹ کی گشت بھی بڑھادی گئی ہے ہر پبلک مقام پر پولیس چیکنگ کا کام بھی بڑے پیمانہ پر شروع کرا دیاگیاہے الیکشن کے خاص موقع پر اندنوں ضلع ہیڈ کواٹر بھی لگاتار ریاستی وزیر اعلیٰ کے آفس سے جڑا ہوا ہے یوگی سرکار سے یہ اشارے ملنے لگے ہیں کہ بد امنی پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی اور لا قانونیت کے خاتمہ کیلئے سرکار کسی بھی طرح کا ایکشن لینے سے گریز نہی کریگی چیف منسٹر کے نئے احکامات کے مطابق بد نظمی پھیلانے والا کوئی بھی ہو کسی بھی پہنچ کا ہو کسی بھی شکل میں بخشانہی جانا چاہئے مگر اسکے بعد بھی بھیم آرمی سربراہ کی بلا شرط رہائی کے لئے مظاہرے کاجاری ہیں جنکو آپسی اخوت سے نپٹایا جانا بہت ضروری ہوگیاہے سبھی کو لوک سبھا الیکشن تک آپسی اتفاق بنائے رکھناہے یہی اعلیٰ افسران اور ہمارے عوام کا خاص مشورہ ہے کہ ماحول کو خراب ہونے سے روکنا ہم سبھی کی ذمہ داری ہے! یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جہاں بھگوا تنظیموں کی اشتعال انگیزی جاری ہے وہیں کمشنری میں بھیم آرمی چیف چندر شیکھر کی گرفتاری کو لیکر ابھی تک دلت فرقہ کے ہزاروں مرد اور خواتین کمشنری کی درجن بھر تحصیلوں میں مظاہرے کر رہے ہیں اور اب یہی مرد وخواتین انتظامیہ کے لاکھ بندوبست کے باوجو راون کی رہائی کو ضروری بنانے کیلئے سرگرم عمل ہیں! ضلع میں ایک نیا سیاسی محاذ بھاجپائیوں کی اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں ریاستی سرکار کو لگاتار تنگ اور پریشان کرنیکے لئے مضبوط حیثیت سے ابھر تا جارہاہے اور دلت سیاست بھاجپائی سیا ست پر بھاری پڑجائیگی یہی سوچ کر مرکزی بھاجپائی قیادت شاید آجکل سخت الجھن سے دوچار ہے مگر اپنی انا کی خاطر میل و محبت سے معاملہ کو رفع دفع کر نا نہی چاہ رہی ہے اور آج یہی وجہ ہے کہ چھ ماہ بعد بھی کمشنری کا ماحول تناؤ سے دوچار ہے معاملہ اور تنازعہ سیاسی ہونے کے سبب نپٹنے میں ہی نہی آرہاہے جس وجہ سے امن پسند عوام اپنے نکائے چناؤ کو لیکر الجھن کا شکار بناہے؟