وزیراعظم جی گجرات کا وہ 50 لاکھ گھر کہاں ہے؟ تحریر: رویش کمار، ترجمہ: افتخاررحمانی

2012مین جب گجرات میں انتخابات قریب آ رہے تھے تو اس وقت سیاسی مفاد کے تحت گجرات میں مکانات کو لیکر کافی شور شرابے ہوئے تھے۔ کانگریس نے گجرات کی خواتین کیلئے ”گھر نو گھر‘‘ پروگرام چلایا تھا کہ سرکار میں آئے تو 15لاکھ فلیٹ اور پندرہ لاکھ مکان دیں گے۔ کانگریس پارٹی کے دفتروں کے باہر بھیڑ لگی ہوئی تھی اور فارم بھرا جانے لگا تھا اس ضمن میں آپ کو گوگل سرچ کرنے پر ارجن موود وادیا کا بیان ملے گا 2012کے اگست ماہ میں ’منٹ اخبار‘ کے مولک پاٹھک نے اس پر رپورٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دو دنوں کے اندر کانگریس کے اس منصوبہ کے تحت 30لاکھ فارم بھر دیئے گئے تھے۔ مولک پاٹھک نے لکھا کہ گجرات ہاؤسنگ بورڈ نے گذشتہ دس سال میں ایک اسکیم بھی لانچ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل کوئی ایک لاکھ ستر ہزار گھر بنائے ہیں، کانگریس کی اس منصوبہ کے دباؤ میں آکر گجرات ہاؤسنگ بورڈ نے چھ ہزار تین سو نئے مکانات کی اسکیم لانچ کر دی ہے تب جاکر یہ منصوبہ سامنے آیا ہے۔دس سال تک گجرات میں کسی کو گھر کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ منٹ کی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت ہے کہ 2001سے لے کر 2012تک اندرا آواس یوجنا کے تحت  9,14,000مکانات کی تعمیر ہوئی تھی۔ سردار آواس یوجنا کے تحت تین لاکھ باون ہزار مکانات کی تعمیر ہوئی۔ اس رپورٹ میں بی جے پی کے ترجمان آئی کے جڈیجہ نے کہا تھا کہ مودی جی نے گیارہ سال میں ساڑھے بارہ لاگھ گھر بنائے ہیں، کانگریس نے چالیس سال میں دس لاکھ ہی گھر بنا سکی۔ 3دسمبر 2012کے کسی بھی معروف اخبار میں یہ خبر مل جائے گی کہ بی جے پی کا ”سنکلپ پتر“ (عزم نامہ) پیش کرتے ہوئے وزیر اعلی کے طور پر وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ پانج سال مین تیس لاکھ نوجوانوں کو نوکری دیں گے، گاؤں اور شہروں کے غریبوں کیلئے پچاس لاکھ گھر بناکر دیں گے۔ گجرات میں کیا وہ تیس لاکھ نوجوان سامنے آ سکتے ہیں جنہیں نوکری ملی ہے یا  جن کو گھر ملے ہوں؟ کیا اس انتخاب میں وہ اس کی بات کریں گے تب مودی نے کہا تھا کہ کانگریس نے چالیس سال گھٹیا کوالٹی کے دس لاکھ گھر بنائے، بی جے پی نے دس سال میں بائیس لاکھ گھر بنائے۔ ابھی ایک پیراگراف پہلے آپ بی جے پی ترجمان کابیان دیکھئے،دس سال میں ساڑھے بارہ لاگھ گھر بنے ہیں وزیر اعلی کہہ رہے ہیں کہ 22لاکھ گھر بنے ہیں، دس سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ آٹھ دسمبر2012 کے انڈین ایکسپریس میں اجے ماکن کا بیان شائع ہوا تھا اس وقت وہ شہری ترقیاتی امور کے وزیر تھے، ماکن کہہ رہے ہیں کہ پانچ سال میں پچاس لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ مشکل ترین امر ہے، یہی بات کیشو بھائی پٹیل بھی کہتے ہیں۔ ماکن نے تب کہا تھا کہ بی جے پی سرکار نے سات سال میں فقط ترپن، ہزار تین سو ننانوے گھر ہی الاٹ کئے ہیں اگر آپ زمین کی قیمت نکال بھی دیں تو بھی پچاس لاکھ گھر بنانے میں دولاکھ کروڑ کی لاگت آئے گی، اتنی خطیر رقم کہاں سے آئے گی؟ کچھ غور کیجئے! پانچ سال گذر رہے ہیں نریندر مودی اسی اثنا وزیراعلی سے وزیر اعظم بھی بن چکے ہیں 2012کے عوامی رائے کے ایک حصہ میں یعنی 2012-14کے درمیان وزیر اعلی اور اب2014 سے 2017 تک وزیر اعظم یعنی وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ دہلی کی سلطنت میں غریبوں کی رہائش کے لئے پیسے نہیں دیئے، وہ چاہیں تو بلاتاخیر دو منٹ میں بتا سکتے ہیں کہ کن کن لوگوں کو پچاس لاکھ گھر ملے ہیں اور وہ گھر کہاں کہاں ہیں۔ تیس مارچ  2017 کو اکنامک ٹائمز میں کولکاتہ سے ایک خبر شائع ہوئی اس وقت شہری ترقیاتی امور کے وزیر موجودہ نائب صدر وینکیا نائڈو تھے۔ اس خبر کے مطابق  2015 میں لانچ ہوئی پردھان منتری آواس اسکیم کے تحت گجرات میں سب سے زیاہ 25,873گھر بنائے گئے ہیں یہ ملک میں سب سے زیادہ ہے، آپ ذرا سوچئے!دو ہزار پندہ سے سترہ کے درمیان 25,873گھر بنتے ہیں اور اس شرح نمو سے کیا 2012 سے 2017 کے درمیان پچاس لاکھ گھر بنے ہوں گے؟ پجاس لاکھ چھوڑ یئے پانچ لاکھ بھی گھر بنے ہیں؟  27اگست 2017کے انڈین ایکسپریس کی خبر ہے کہ مودی سرکار نے شہری غریبوں کے لئے 2لا کھ17 ہزار گھر بنانے کے منصوبہ کو منظور ی دی ہے۔ اس کے تحت گجرات میں 15,222گھر بننے ہیں، مودی سرکار نے ابھی تک ملک بھر کے 26لاکھ 13ہزار گھر بننے کی منظوری دی ہے جس پر 1 لاکھ 39ہزار کروڑ خرچ ہوں گے اب آپ اوپر دیئے گئے اجے ما کن کے بیان کو پھرسے پڑھئے، ماکن کہہ رہے ہیں کہ زمین کی قیمت بھی ہٹادیں تو بھی پچاس لاکھ گھربننے میں دولاکھ کروڑدرکارہوں گے۔یہاں مودی پورے ملک کے لئے پچاس لاکھ نہیں؛ بلکہ اس کا آدھا یعنی چھبیس لاکھ گھر بنانے کے لئے ایک لاکھ انچالیس ہزار کروڑ کی بات کر رہے ہیں تو پجاس لاکھ گھر کے حساب سے دو لا کھ سے بھی زیادہ ہوتا ہے تو یہ ایک ریاست کے لئے یہاں 2022تک اس منصوبہ کے تحت سب کو گھر دینا چاہتے ہیں اور یہ منصوبہ پورے ملک کے لئے ہے۔ 18جون 2015کی دی ہندو کی خبر پڑھئے 2022کے لئے یعنی 2015سے 2022تک کے لئے دو کروڑ گھر بنانے کے ہد ف کا اعلان ہوا ہے۔  ہر ایک فیملی کو پختہ گھر ملے گا دو سال بعد مودی کابینہ 26لاکھ گھر بنانے کی منظوری دیتی ہے۔ آپ سیاست سمجھ رہے ہیں یا لافٹر چیلنج کا کوئی لطیفہ سن رہے ہیں؟ کیا گجرات میں بی جے پی نے 2012-2017کے درمیان 50لاکھ گھر بناکر دیئے؟ ہمارے پاس اس کا کوئی نہ تو جواب ہے او رنہ ہی کوئی تصدیق، گوگل پر بہت سرچ کیا تو 28اگست 2016کے کانگریس لیڈر ہمانشو پٹیل کا بیان ہے، ہمانشو الزام لگارہے ہیں کہ بی جے پی نے 20فیصدی بھی گھر بناکر نہیں دیئے آپ کہیں گے کہ بی جے پی ہی چناؤ جیتے گی، بالکل جیتے گی مگر کیا وہ جیت اور بھی شاندار نہیں ہوسکتی ا گر پارٹی یا وزیر اعظم مودی اپنے وعدے کا حساب دے دیتے؟ بتا دیں کہ 50لاکھ گھر کہاں ہیں؟ 30لاکھ روزگار کہاں ہیں؟ میں ڈیجیٹل انڈیا کے اس دور میں ابھی گوگل سرچ کر رہا ہوں کچھ نہ کچھ تو گھر بنے ہی ہوں گے،مل ہی جائیں گے۔ آپ کو معلوم ہو توآپ بھی بتائیں۔ گجرات ہاؤسنگ بورڈ کی ویب سائٹ سے ایک تخمینہ ہاتھ لگی ہے وہ یہ کہ مختلف آمدنی والے کٹیگری میں 21,920 گھر بن رہے ہیں یا بنائے جاچکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ 50لاکھ مکانات کن منصوبوں کے تحت بننے والے تھے، اس لیے بہتر ہے کہ سرکار ہی جواب دے۔