فیل ہوا صفائی مشن علاقہ در علاقہ لگے ہیں گندگی کے انبار!

سہارنپور (احمد رضا) چارماہ کی مدت کے درمیان ضلع میں منائے گئے اہم تیوہاروں پر مین بازاروں اور چوراہوں پرلگے پائے گئے گندگی اور غلاظت کے امباروں نے پچھلے تیوہاروں پر سرکار افسران کے صفائی مشن کی پول ہی کھول کر رکھدی ہے شہر کے دودرجن علاقوں میں نالوں اور نالیوں کا پانی عوام کے گھروں اور سڑکوں پر بہتا پھر ر ہاہے آج بھی جگہ جگہ غلاظت کے امبار لگے ہوئے ہیں اور افسران گھروں میں آرام کر رہے ہیں؟صوبہ کے سپریم سیاست داں اورسینئر افسران اپنی قوم کیلئے کس قدر ہمدرد ہیں اس بات کاانددازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ کسی بھی ریاستی وزیر، وی آئی پی،ریاستی گورنرا کی آمد پر تو دور یہاں تو مقامی تیوہاروں اور قومی تقاریب کے موقع پر بھی پچھلے تین سال کی مدت میں ہمارے ضلع اور شہرکے خا ص علاقوں اور بازاروں میں گندگی صاف کرانے کا کوئی بھی معقول بندوبست نہی دیکھاگیا ہمکو معلوم نہی کہ نگر نگم میں تنخواہوں پر تعینات قریب قریب ۵۰۰سے زائد صفائی ملازم کہاں اور کس وقت کس طرح کی صفائی کرتے ہیں! آج سہارنپور میں ہر جانب گندگی کابول بالا رہاہے اہم مقامات پر اور اہم مذہبی مقامات کے آس پاس بھی گندگی کے ڈھیر اکثرلگے ہوتے ہیں ضلع انظامیہ کی اس لاپرواہی کے سبب جہاں عوام میں ناراضگی ہے وہیں سینئر افسران کے ماتحت علاقائی جونیئر اور ملازمین بھی لاپرواہ بنے ہوئے رہتے ہیں یہ ہے ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کا صاف شفاف بھارت کا سپنا جو اس بار ہولی کے اہم موقع پر ہی صاف صاف نظر آرہا ہے اگر اہم ہندو تیوہار کے موقع پر صفائی کا حال دیکھیں تو حالت یہ ہے کہ چاروں طرف گندگی ہی گندگی ہے تو پھر دیگر قوم کے تیوہاروں کاتو بس اللہ ہی حافظ! عام چرچہ ہے کہ انتظامیہ کی ناک کے نیچے صفائی ملازمین کے نام پر ملنے والی سرکاری رقم کو فرضی صفائی ملازمین کے نام پر مٹھی بھر نگم اور انتظامیہ کے افسران خد ہی ہضم کرنے کی سازش میں شامل ہیں؟ تیوہاروں کے اہم موقع پر بھی پینے کے صاف پانی، صفائی، حفاظت صحت، ٹریفک کے پختہ انتظامات اور ماحول کو پر امن بنائے رکھنے کے لئے حفاظتی بندوبست کہیں پر بھی نظر نہی آرہے ہیں ضلع انتظامیہ اور حکمراں جماعت کے سیاست نمائندوں کے لئے بھی یہ بات قابل افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ قابل شرم ہے قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی گندگی اور پانی کی ناقص سپلائی شہرمیں عام ہے نگر نگم اورضلع انتظامیہ دیہات تو دور صرف شہر سہارنپور کے خاص بازاروں اورعلاقوں میں بھی صفائی اور پینے کے صاف پانی کا نظام چست درست رکھنے میں بری طرح سے ناکام ہے شہر کی ناک کہے جانے والے اہم علاقہ رانگڑوں کے پل سے لیکر پل کمبوہان اور پلکھن تلہ اسکے علاوہ پرانی منڈی تک اسی طرح سے کمیلہ کالونی دھوبی والہ حبیب گڑھ اور نصیر کالونی بھی ان دنوں گندگی سے بری طرح سے متاثرہے شہر کی آدھی ہندو اور مسلم آبادی کے لوگ ا نہی علاقوں سے گزر کر اپنے گھروں کو آتے جاتے ہیں دکھ کی بات ہے کہ خاصتیو ہاروں اور اہم موقعوں پر بھی ان علاقوں میں گندگی کے انبار لگے رہتے ہیں۔ سڑک کے دونوں اور عوام کا گزر مشکل ہے ان حالات کو دیکھ کر شہر کی عوام میں ضلع انتظامیہ کے خلاف زبردست غصّہ ہے شرمناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی لوگ ا تنا سب کچھ دیکھنے کے باجود بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں!