فرانس کے آٹھ شرپسندوں پر مساجد پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام

پیرس23اکتوبر:فرانسیسی حکام نے تین کم عمر لڑکوں سمیت آٹھ افراد پر مساجد اور سیاست دانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا ہے۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزمان میں دائیں بازو کا ایک انتہا پسند بھی شامل ہے جس نے سیاسی رہ نماؤں اور مساجد پر حملوں کے لیے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے۔ملزمان کی عمریں 17 سے 29 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ ان پر دہشت گردی کی مجرمانہ سازشوں میں ملوث ہونے کا الزم عاید کیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سرفہرست ملزمان میں الیگزینڈ نیسین شامل ہے جس نے دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے ایک تنظیم بنا رکھی تھی۔ اسے گذشتہ جون میں مارسیلیا سے حراست میں لیا گیا تھا۔نیسین نے ’او اے ایس‘ کے نام سے ایک خفیہ لشکر تشکیل دینے کی کوشش کی۔ ایسا ہی ایک گروپ الجزائر کی فرانس سے آزادی روکنے کے لیے بھی تشکیل دیا گیا تھا۔ نیسین کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس نے اپنے مذموم عزائم انٹرنیٹ کے ذریعے ظاہر کیے اور اعلان کیا کہ وہ سیاہ فاموں، دہشت گردوں اور پناہ گزینوں پر حملے کرے گا۔یہ 21 سالہ ملزم نے نئے نازی گروپ سے تعلق رکھنے والے بیرنگ پریفک سے متاثر لگتا ہے جس نے سنہ 2011ء میں ناروے میں فائرنگ اور بم دھماکے میں 77 افراد قتل کردیے تھے۔پیریس کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ نیسین اور اس کے ساتھیوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم ان کارروائیوں کیخدو خال واضح نہیں ہوسکے۔کیس کی تحقیق کرنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ نیسین اپنی تنظیم کے لیے اسلحہ خریدنے، گروپ میں شامل ہونے والوں کو فوجی تربیت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے بعض عناصر کو فائرنگ کرنے کے گر سکھائے بھی ہیں۔پولیس نے نیسین سمیت 10 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں اس کی والدہ سمیت دو افراد کو رہا کردیا گیا۔تفتیش سے پتا چلا ہے کہ نیسین اور اس کے ساتھی مساجد، سیاسی رہ نماؤں، شمالی افریقا کے سیاہ فاموں اور فاشزم کے خلاف سرگرم کارکنوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔