نتیش کی عربی وفارسی کے تئیں بے حسی، ادارہ تحقیقات عربی وفارسی کے بند ہونے کا خطرہ

پٹنہ 22اکتوبر :بہارکی راجدھانی پٹنہ میں واقع ادارہ تحقیقات عربی و فارسی کا وجود خطرہ میں ہے۔ ادارہ میں کئی برسوں سے اساتذہ کے سبھی عہدہ خالی پڑے ہیں۔ صرف ایک ڈائریکٹر موجود ہیں ، جو کسی طرح ادارہ کو چلا رہے ہیں۔ اساتذہ کی بحالی نہیں ہونے سے ادارہ کے بند ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ادارہ تحقیقات عربی و فارسی کی منفرد تاریخ رہی ہے۔ کبھی یہ ادارہ فارسی اورعربی پڑھانے والے اساتذہ کو نہ صرف تربیت دیتا تھا بلکہ عربی و فارسی زبانوں پر مسلسل تحقیقی کام بھی کرتا تھا ، لیکن ادارہ میں جیسے جیسے لوگ ریٹائرڈ ہوتے گئے، ان عہدوں پر بحالی نہیں ہوئی۔ اب حالت یہ ہے کہ ادارہ تحقیقات عربی و فارسی کے بندہوجانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔اساتذہ کی بحالی کے تعلق سے ادارہ تحقیقات عربی و فارسی کے ڈائریکٹرحکومت سے لگاتارمطالبہ کرتے رہے ہیں ، لیکن ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اقتدارمیں شامل مسلم لیڈران بھی اس معاملہ پرسنجیدہ نظرنہیں آتے ہیں۔ جے ڈی یو لیڈر غلام غوث کی بات بالکل صحیح ہے کی ٹیچر نہیں ہوگا تو تربیت کون دے گا۔ یہی سوال گزشتہ دس سالوں سے دانشوروں نے حکومت کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے ، لیکن’’سوشاسن‘‘کا دعویٰ کرنے والی نتیش حکومت کی اس معاملہ پرآج تک نیندنہیں کھل سکی ہے۔