اقلیتی فرقہ پر انگلی اٹھانیوالے اپنے گریباں جھانکیں!احسان الحق ملک

سہارنپور ( احمد رضا) یہاں لگاتار ایسی اطلاعا ت بھی ہمیں موصول ہورہی ہیں کہ میرٹھ، سہارنپور، مراد آباد، بجنور، امروہہ، بلند شہر، بجنور، امروہہ، غازی آبا ،فیض آباد، ایودھیا، کانپور، بہرائچ، گونڈہ، بستی اور گورکھپور جیسے اہم علاقوں میں اقلیتی طبقہ کیخلاف ایک خاص مہم انکو تنگ وپریشان کرنیکے لئے مسلسل جاری ہے طرح طرح کی سرگوشیاں عام ہیں سبھرامنیم سوامی، سنگیت سوم، وکرم سینی اور دو عدد ریاستی وزیر بھی لگاتار شری را م کے بلند قامت مجسمہ کو ایودھیامیں نصب کئے جانیکی بار بار تشہیر کر رہے ہیں علاوہ ازیں گؤ کشی کے فرضی معاملات اور دہشت گردی جیسے بیہودہ الزامات لگاکر اقلیتی فرقہ کو تنگاور پریشان کئے جانیکے ساتھ ساتھ شر انگیز تقاریر کے ذریعہ ہمکو خوف دلایا جارہاہے ! مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کل دیر شام پسماندہ فرقہ اور پچھڑی برادیوں کے تعلیمی اور سوشل اسٹیٹس کو بہتر بنانیکے نظریہ سے لمبے عرصہ سے اسی عملی جدوجہد میں سرگرم سوشل رہبر احسان الحق ملک نے اخبار نویسوں کو بتایاکہ انہوں نے مرکزی سرکار کی اعلیٰ قیادت کو یاد دلایاہے کہ ملک کے دستور میں اقلیتی فرقہ اور پچھڑے عوام کو جو حقوق دئے گئے ہیں سرکاری مشینری کے ذریعہ آج بھی اقلیتی فرقہ کو ان حقوق سے محروم کیا جارہاہے گزشتہ لمبے عرصہ سے خاص سازش کے تحت ملنیوالی سبھی سہولیات و مراعات کا بھی سہی طور سے ارتکاب نہی کیا جارہاہے جس وجہ سے اقلیتیں اور پچھڑے افراد آج ہر میدان میں بہت پچھڑتے جارہے ہیں جانبوجھ کر اقلیتی فرقہ کو مین اسٹریم سے دور کیا جارہاہے اقلیتی طبقہ کو سرکاری مراعات اعلیٰ تعلیمی تربیت اور کورسیز کے حصول کے لئے دستیاب نہی کی جارہی ہیں اقلتی فرقہ کو ہر مورچہ پر پست کئے جانیکی سازشیں عام ہیں یہ خطرناک رحجان سرکار کی تنگ نظری اور اقلیتی طبقہ کے ساتھ رنجش کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں؟

پچھڑا سماج مہاسبھاکے قومی رہبر اے ایچ ملک نے سوال اٹھایاہے کہ دہلی اور لکھنؤ کے پر رونق اور راحت بخش ایوانوں میں بیٹھ کر اقلیتوں اور بچھڑوں کی فلاح اور بہبودگی کی لمبی لمبی باتیں کہنے میں اچھی محسوس ہوتی ہیں مگر گزشتہ ستر سالوں سے ملک کے پچھڑوں اور اقلیتی فرقہ کو کچھ بھی بہتر ملا ہوتا تو جسٹس سچر اقلیتی فرقہ کی بری حالت پر درجنوں صفحات کی سچائی پر مبنی اپنی اہم رپورٹ ملک کی عوام کے سامنے پیش نہی کیجا سکتی تھی سچر کمیٹی کی رپورٹ سے یہ حقیقت آج ملک کے سامنے ہیکہ آزادی کے ستر سال بعد بھی ملک کا اقلیتی طبقہ آج بھی دلتوں سے بری حالت میں زندگی گزار نے کو مجبور ہے اس ضمن میں قابل قدرجسٹس سچر کمیشن کی اقلیتی فرقہ کی بری حالت پر درجنوں صفحات کی سچائی پر مبنی اہم رپورٹ ہر زاوئے سے ملک کے پچیس کروڑ مسلمانوں کی سہی تصویر پیش کر نیکے لئے بہت کافی ہے ہمارے اقلیتی امور کےوزیر مختار عباس نقوی نے کبھی دہلی، کبھی حیدرآباد کبھی لکھنؤ تو کبھی ہر یانہ کے میوات علاقہ سے اقلیتی فرقہ کی فلاح کے لئے بہت سے فلاحی اسکیموں کی شاندار شروعات کی ہے مگر سرکار یہ بتائے کہ ستر سالوں میں ہر سرکار مسلم عوام کی بہبودگی کا جو ڈنکا بجاتی آئی ہے اسکینتائج کیاہیں اور مسلم اداروں، تنظیموں اور طلبہ کو کون کون سی مراعات آج تک دستیاب کرائی گئی ہیں ان سبھی کی فہرست بھی مکمل اعداد وشمار کے ساتھ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ اقلیتی سدھار اور بہبودگی کا ڈنکا بجانیوالی سرکار کی حقیقت ملک کے سامنے آسکے؟ سوشل رہبر احسان ملک نے کہاکہ ہماری قوم اور ہمارے اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے پہلے اپنی گزشتہ کرتوت، کردار اور حکمت عملی پر نظر ڈالیں !