بے قصور لوگوں کو بھینس کا گوشت برامد ہونے کے بعد بھی گؤ کشی کے الزام میں گرفتار کر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ 

سہارنپور (احمد رضا) مغربی اتر پردیش کے ساتھ ساتھ ہریانہ باؤڈر پر بھی گؤکشی کے نام پر گزشتہ 6 ماہ سے جاری اقلیتی فرقہ کے افراد پر ظلم اور جبر کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اب تو حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ جو لوگ اپنے گھر کے استعمال کے لئے 10 یا 20 کلو بھینس کا گوشت اسکوٹر ،کار یا تھری وہیلرس سے ادھر ادھر لے جاتے ہیں تو انکو سرحدی چوکیوں پر پولیس ملازمین اور نام نہاد گؤ رکشکوں کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے، گزشتہ 1 ماہ میں یمنا نگر ، سرساوہ، دیوبند، مظفرنگر ، کھتولی ،میرٹھ ، شاملی، رامپور منیہاران، نانوتہ ، ناگل ، ٹپری ، مرزا پور ، فتح پوراور چلکانہ کے علاقوں میں پک اپ یا تھری وہیلرس سے آنے والی دودھ دینے والی بھینسوں کو روک کر انکے ساتھ سفر کرنے والے بھینس مالکوں کو ، گاڑی ڈرائیور اور ہیلپر کو پولیس اور گؤ رکشکوں کے ذریعہ بوری طرح سے مار پیٹ کرنے کے بعد جیل میں بھیجے جانے کی دو درجن سے زیادہ شکایات موصول ہو چکی ہیں بار بار کمشنری افسران کو آگاہ کئے جانے کے بعد بھی پولیس ملازمین اور گؤ رکشک گؤ کشی کے معاملات میں منسفانہ کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں جس وجہ سے علاقہ کے عوام میں خوف و حراس پھیلا ہے، سینئر افسران حالات سے بخوبی واقف ہیں مگر اس کے با وجود بھی بے قصور لوگوں کو بھینس کا گوشت برامد ہونے کے بعد بھی گؤ کشی کے الزام میں گرفتار کر جیل بھیجا جا رہا ہے۔
دیہات اسمبلی حلقہ سے محمد اکبر ، محمد راشد ، سریش ، مہیپال ، رضوان اور جمشید علی کا کہنا ہے کہ اس بابت انہوں نے اپنے ممبر اسمبلی مسود اختر سے کتنی مرتبہ شکایت کی اور خود مسود اختر نے کمشنر اور ڈی آئی جی کو بہت بار اس شکایت سے آگاہ بھی کرایا ہے مگر اسکے بعد بھی پولیس ملازمین اور گؤ رکشک ٹولہ کے لوگ اکثر اقلیتی فرقہ کے افراد کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں قیمتی دودھ دینے والی بھینسوں اور گؤوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں کافی منت خشامد کرنے کے بعد بھی قیمتی بھینسوں کو واپس نہیں کیا جاریا ہے جان بوجھکر اقلیتی فرقہ کے افراد کو فرضی گؤ کشی کے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے جو قابل مذمت عمل ہے۔