ناندیڑ میں سیکولرزم کی جیت کا جشن نہال صغیر

اندیڑ میں کانگریس نے 81 سیٹوں میں سے 73 سیٹ جیت کر اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ اب بی جے پی کی واپسی کی شروعات ہو گئی ہے ۔ناندیڑ کانگریس کا گڑھ رہا ہے پچھلے کارپوریشن میں بھی اقتدار اسی کے حصے میں آیا تھا ۔اس بار اسے توقعات سے زیادہ سیٹوں نے یہ احساس دلایا ہے کہ اس نے اقتدار میں دوبارہ آنے کی طرف قدم بڑھادیا ہے ۔لیکن ایسا فی الواقعہ ہے اس کے تجزیہ کی ضرورت ہے ۔کیوں کہ بی جے پی نے پچھلی دو سیٹوں کے مقابلہ اس بار چھ سیٹوں پر سبقت حاصل کی ہے اور تین فیصد کے مقابلہ اس بار انیس فیصد ووٹ ملے ۔کانگریس کو زیادہ خوشی اس لئے ہے کہ اس نے ناندیڑ کارپوریشن میں اسی طرح کی جیت حاصل کی ہے جس طرح پارلیمانی انتخاب 2014 میں نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی نے پارلیمنٹ سے حزب اختلاف کا صفایا کردیا ۔بہر حال یہ سیاسی داؤ پیچ کبھی کانگریس اور کبھی بی جے پی کے حق ہوتا رہے گا ۔شیو سینا نے پارلیمانی الیکشن 2014 کے بعد بی جے پی سے اپوزیشن جیسا برتاؤ تو کیا لیکن اس سے علیحدگی اختیار نہیں کی صرف زبانی بیان بازیوں نے اس کے ووٹ بینک کو بھی متاثر کیا اور اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہو رہا ہے ۔شیو سینا کے صاف چھپتے بھی نہیں پاس آتے بھی نہیں کی صورتحال نے ہی ناندیڑ میں بھی اس کی مٹی خراب کی کہ چودہ سے ایک سیٹ پر اسے سمٹ جانا پڑا ۔ این سی پی کو بھی اس کے شیو سینا کی طرز پر کبھی اسطرف اور کبھی اس جانب کے سبب دس سیٹ سے سیدھے صفر پر آنا پڑا ۔مجلس اتحاد المسلمین جس نے مہاراشٹر میں 2012 میں ناندیڑ کارپوریشن سے زور دار داخلہ لیا تھا اس بار صفر پر سمٹ جانا پڑا ۔لیکن مجلس کی ہار شیو سینا یا این سی پی کی طرح نہیں ہے ۔ان دو سیاسی پارٹیوں کی ہار کی وجہ سیاسی ہے وہیں مجلس کی ہار مسلمانوں کے خوف کی نفسیات کے سبب ہے ۔ یہ خوف کی نفسیات کا سیکولر پارٹیوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور اس میں کانگریس نے اولیت حاصل کی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کو پیشہ ور مولویوں ،مفتیوں اور قصاب ٹائپ کے نام نہاد مسلم قائدین کی خدمات حاصل ہیں ۔
کانگریس کی ناندیڑ کارپوریشن میں جیت کا جشن اور مبارکباد دینے میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ۔بیچارہ مسلمان بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ والی پوزیشن میں آگیا ہے ۔کانگریس کو مسلمانوں نے بھرپور ووٹ سے نوازا اس کے 24 میں چوبیس مسلم امیدوار کامیاب ہو گئے ۔یہ ویسی ہی کامیابی ہے جیسی یوپی اسمبلی میں مسلم امیدواروں کو ملی تھی اور ستر یا بہتر ایم ایل اے مسلمان ہوئے تھے ۔اس کے باوجود فسادات میں مسلمانوں کا نقصان ہوتا رہا پر وہ کچھ نہیں کرسکے ۔پارلیمنٹ میں بھی مسلم لیڈروں میں صرف وہی بولتا ہوا نظر آتا ہے جس کی نکیل کسی ایسی پارٹی کے ہاتھوں میں نہ ہو جس کا سربراہ غیر مسلم ہو اور جہاں مسلمان پالیسی سازی کا اختیار نہیں رکھتا ہو ۔کچھ لوگوں کو کسی مجلس کے پرجوش رکن کا یہ تبصرہ کافی گراں لگا کہ ’’مسلمانوں تمہیں کانگریس کی غلامی مبارک ہو ‘‘ ۔اس میں برا لگنے جیسی کوئی بات نہیں تھی ۔یہ تو ایک سچائی ہے ۔آزادی کے بعد سے مسلمانوں نے کانگریس کی غلامی میں ہی تو وقت گزارا ہے ۔ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس جانب کبھی توجہ نہیں دی جاتی کہ اس سیاسی بے وزنی کا تدارک کیسے ہو ؟کوئی مخلص مسلم قائد اٹھتا ہے اور مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کی جانب قدم بڑھاتا ہے تو کانگریس کے برانڈیڈ مسلمان سیاسی لیڈر اور برانڈیڈ مفتی اور مولوی مسلمانوں کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی دہشت سے اس قدر ڈراتے ہیں کہ وہ بھول جاتا ہے کہ ہمیں اس حالت میں پہنچانے والی یہی پارٹی اور اس کے مسلم شو بوائے رہے ہیں اور آج بھی یہ لوگ اتنے ہی متحرک ہیں ۔مہاراشٹر کانگریس کے صدر اشوک چوان کہتے ہیں کہ ’’مسلمان یہ جان چکے ہیں کہ مجلس اتحاد المسلمین بی جے پی کا متبادل نہیں بن سکتی اس لئے انہوں نے کانگریس کو ووٹ دیا ‘‘۔ یہاں اشوک چوان کی زبان پارلیمانی طرز کی ہے اس لئے انہوں نے ایسا کہا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ تمہیں بی جے پی کی دہشت سے صرف کانگریس ہی بچاسکتی ہے ۔کہاں تم فضول اپنی قیادت اپنی سیاست کے چکر میں ہو ۔ کانگریس کی اس شاندار جیت پر جماعت اسلامی کے ایک رکن یا کارکن نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’’کانگریس کی جیت مسلمانوں کی متحدہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے صرف کانگریس کو ووٹ دیا اور اپنا ووٹ تقسیم نہیں ہونے دیا ‘‘۔یہ مسلمانوں کی اس جماعت کے ایک فرد کا سیاسی شعور ہے جس کے بارے میں ہمیں اب تک غلط فہمی ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جہاں مسلم دنشوروں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے ۔اب ایسی تنظیم کے افراد کی سیاسی بصیرت ایسی ہوگی تو عام مسلمانوں کا حال کیا ہوگا ۔سچ کہا علامہ اقبال نے کہ غلامی میں بدل جاتا قوموں کو ضمیر۔اس قوم کا ضمیر بدل چکا ہے ۔اس لئے بی جے پی کی حالیہ دہشت انگیزی پر سیکولرزم کا جشن منائیے اور اسی سوراخ سے خود کو ڈسواتے رہیں جس سے ستر برسوں سے ڈسے جاتے رہے ہیں ۔جبکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ۔