درجن بھر ریاستوں میں مسلم خواندگی کی شرح پر غور وفکروقت کا تقاضہ!

سہارنپور ( خاص جائزہ احمد رضا) تین سال قبل کی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے اعداد و شمار کے مطابق درجن سے زیادہ اہم ریاستوں میں ملک کی بڑی مسلم آبادی خواندگی کی شرح میں کافی پست نظر آرہی ہے ایک جائزہ کے مطابق آزادی کے بعد سیہی ایک خاص سوچ کے تحت ہر ایک سیاست داں نے ہمیشہ تنگ نظری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ہر موقع پر اپنی ہی برادری کو فیض پہچایا جبکہ مسلم قیادت ہمیشہ ایک دوسرے کو پست کرنیکے لئے آپس ہی میں لڑتی رہی نتیجہ سبھی کے سامنے ہیکہ کہ ملک کی آزادی کے ستر سال بعد یہ بیس لاکھ سے زائد آبادی پر مبنی قوم آج دلت طبقہ سے بھی پست حال کھڑی ہے ہمارے نوجوان اپنے سنہرے مستقبل کیلئے ہاتھ پاؤں چلارہے ہیں مگر سخت جدوجہد کے باوجود دو فیصد بھی کامیابی تک نہی پہنچ پارہے ہیں دوسری جانب آزادی کے بعد سے آج تک مسلم قائدین نے بھی صر ف اپنی کرسی کیلئے جد و جہد کی ہے اور کرسی ملنے کے بعد اس قوم کو اکثر نظرانداز کرنے کی روش آج تک جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ہمیشہ سرکار آجانے پر آر ایس ایس ، بھاجپا ، بہوجن سماج پارٹی ، سماجوادی پارٹی اور ساؤتھ کی دیگر پارٹیوں نے ہمیشہ اپنی قوم کے اعلیٰ اور پچھڑے فرقہ کی بہتری کے لئے اور ان کو سرکاری نوکریاں فراہم کرانے کی غرض سے وہ سب کچھ اقدام کئے ہیں جو ایک باپ اپنی اولاد کے لئے کرتا ہے شرم کی بات یہ ہے کہ مسلم قائدین نے دولت اور طاقت ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں اور سرکاری نوکریوں میں جگہ دلانے کے لئے تھوڑی بھی دلچسپی نہیں دکھائی نتیجہ کے طور پر آج ملک میں مسلمان قوم دلتوں سے بھی بدتر حالت میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہے!
ملک کی تقریباً آدھی مسلم آبادی بہار ، اترپردیش ، دہلی ، آسام ، مغربی بنگال،ہریانہ، مہاراشٹرا اور پنجاب میں بستی ہے ، لیکن ان ریاستوں میں مسلم خواندگی کی شرح ریاست کی اوسط شرح سے کافی کم ہے اس صورتحال کے مد نظر سرکار نے اب مسلم سمیت مذہبی اقلیتی طلباء کے داخلے کا ’ڈاٹا بینک ‘ تیار کرنے کے منصوبہ کو آگے بڑھایا گیاہے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے اعداد و شمار کے مطابق بہار ، اترپردیش ، دہلی ، آسام ، مغربی بنگال اور پنجاب میں مسلم خواندگی کی شرح ان ریاستوں کی خواندگی کے اوسط سے کافی کم ہیں بہار کی کل شرح خواندگی ۸۰.۶۱ فیصد کے مقابلے مسلم شرح خواندگی ۳۶ فیصد اور اترپردیش کی کل شرح خواندگی ۶۷ فیصد کے مقابلے مسلم شرح خواندگی ۲۸.۲۸ فیصد ہے ۔ قومی راجدھانی خطہ دہلی کی کل شرح خواندگی ۰۷.۸۱ فیصد کے مقابلے مسلم شرح خواندگی ۰۶.۶۶ فیصد ، آسام کی ۷۲ فیصد کے مقابلے مسلم شرح خواندگی ۰۴.۴۸ فیصد اور مغربی بنگال کی شرح خواندگی ۶۹ فیصد کے مقابلے مسلم شرح خواندگی ۵۹ فیصد ہے ان ریاستوں میں ملک کی تقریباً ۴۵ فیصد مسلم آبادی رہتی ہے! اب سروے سے ثابت ہو چکا ہے کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں بری طرح سے پچھڑے ہوئے ہیں سرکاری اعلیٰ ملازمتوں میں ان کی حصہ داری دو فیصد بھی نہیں ہے گزشتہ سالوں میں دومرتبہپار لیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلم بچوں کی تعلیم کیلئے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے اور ان کی حصہ داری بڑھانے کیلئے خصوصی اسکیموں کی بھی کمی نظر آتی ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق گجرات ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر ، آندھراپردیش ، کرنا ٹک اورتمل ناڈو میں مسلم شرح خواندگی ریاست کی کل شرح خواندگی کے مقابلے زیادہ ہے ۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی کل آبادی کا ۴۳.۱۳ فیصد مسلم آبادی ہے ۔ بہار میں ۰۵.۱۶ فیصد ، اترپردیش میں ۰۵.۱۸ فیصد ، جھارکھنڈمیں ۰۸.۱۳ فیصد ، کرناٹک میں ۰۲.۱۲ فیصد ، دہلی میں ۰۷.۱۱ فیصد مسلم آبادی ہیں ۔تمام کوششوں کے باوجود ۶ سے ۱۳ سال کے ۸۰ لاکھ بچے اب سکولی تعلیم کے دائرے سے باہر ہیں ، جن میں تقریباً ۱۸ لاکھ بچے مسلم کمیونٹی کے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۹ میں مسلم کمیونٹی کے ۷۵.۱۸ لاکھ بچے اسکولی تعلیم کے دائرے سے باہر ہیں ، جن میں اترپردیش کے تقریباً ۱۰ لاکھ بچے ، مغربی بنگال کے ۵.۲ لاکھ بچے اور بہار کے ۳.۲ لاکھ بچے اسکولی تعلیم کے دائرے سے باہر ہیں !وزارت کے ایک افسر نے بتایا کہ وزارت نے ۲۰۱۳ میں مختلف فریقوں کے ساتھ اس موضوع پر قومی اقلیتی تعلیمی نگراں کمیٹی کی میٹنگ میں غور و خوض بھی کیاتھا انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلباء کے داخلے سے متعلق ڈاٹا بیس تیار کرنے کے موضوع پر بھی غور ہو چکاہے جو ۰۶۔۲۰۰۵ کے بعد سے پرائمری اور اپر پرائمری سطح پر داخلے کے اعداد و شمار سے جڑاہواہے اس کے ساتھ ہی ۱۴۔۲۰۱۳ سے نویں سے بارہویں کلاس میں مسلم طلباء کے داخلے اعداد و شمار جمع کرنے کے کام کو آگے بڑھایا جا رہاہے قومی تعلیمی اسکیم و ایڈمنسٹر یٹیو یونیورسٹی (این یو ای پی اے) کی جانب سے قومی نمونہ سروے تنظیم (این ایس ایس او) کے اعلیٰ تعلیمی اعداد و شمار کے جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ۰۸۔۲۰۰۷ میں مسلمانوں کی مجموعی شرح حاضری (جی اے آر) محض ۰۷.۸ فیصد تھی ، جبکہ اس مدت کے دوران غیر مسلمانوں کی مجموعی شرح حاضری ۰۸.۱۶ فیصد درج کی گئی!