داعش ‘ دہشت گرد عورتوں کا چناؤ کیسے کرتے؟ داعش کی ستم رسیدہ یزیدی خاتون کے لرزہ خیز انکشافات

بغداد13اکتوبر: عراق اور شام کے وسیع علاقے پر مشتمل اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرنے والی انتہا پسند تنظیم ’داعش‘ کی جانب سے خواتین کو جس ظالمانہ انداز میں جنسی بازار بنایا گیا، معاصر تاریخ میں اس کی کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔حال ہی میں داعش کے چنگل سے نجات پانے والی عراقی یزیدی قبیلے کی ایک ستم رسیدہ خاتون نے اپنے انٹرویو میں داعشی مظالم کے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔یزیدی خاتون کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو خواتین کو ’مسلمان بنانے‘ کے لیے ان کی اجتماعی عصمت دری کا وحشیانہ طریقہ اختیار کرتے۔ داعشی جنگجوؤں کی طرف سے کہا جاتا کہ ’آپ کی بار بار آبرو ریزی کی جائے گی تاکہ آپ مسلمان بن سکیں‘۔خاتون نے بتایا کہ داعشی دہشت گرد گرفتار کی گئی خواتین کو جنسی مقاصد کے لیے چھان بین کرکے چنتے۔ عورتوں کو لونڈیاں بنایا جاتا۔ بعد ازاں انہیں داعشی دہشت گردوں کی جنسی ہوس کا سامان بہم پہنچانے کے لیے خواتین ان کے حوالے کی جاتیں۔اخبار ’ڈیلی میل‘ نے انٹرویو دینے والی متاثرہ یزیدی خاتون کو پہلے درجے کی متاثرہ خاتون قرار دیا۔ خاتون نے بتایا کہ داعشی عورتوں کو صرف جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھتے۔ شمالی عراق کیعلاقے سنجار میں رہنے والے یزیدی قبیلے کی خواتین کو صرف جنسی مقاصد کی لونڈیاں بنایا گیا۔ انہیں جنگجو اپنی رہائش گاؤں پر قید کر کے رکھتے تاکہ عورتیں فرار نہ ہوسکیں۔متاثرہ یزیدی خاتون نے بتایا کہ خواتین ساتھ جنسی تسکین کے لیے ان کے چناؤ کا طریقہ عجیب و غریب تھا۔ عورتوں کو ایک قطار میں دیوار کے ساتھ کھڑا کیا جاتا۔ ان کا بریکی سے جائزہ لیا جاتا کہ ان میں سے کون کون سی خواتین جنسی مقاصد کے لیے پرکشش ہے؟ بالغ لڑکیوں کو فوری طور پرجنسی مقاصد کے لیے منتخب کیا جاتا تاہم نابالغ بچیوں کو ایک معینہ وقت تک رکھا جاتا۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ عوروں کا شرمناک اور ذلت آمیز انداز میں معائنہ کیا جاتا۔ اس طرح ہر تین ماہ بعد خواتین کو خریدار اور بیچا جاتا۔ یزیدی خاتون نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ داعشی دہشت گردوں کی جانب سے آبرو ریزی کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ اس نے اسقاط حمل کی کوشش کی۔ اس کوشش کے دوران اس نے کئی بار خود کو سیڑھیوں پر بھی گرایا۔ داعشی تنظیم کی پالیسی یہ تھی کہ وہ ان خواتین کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کی ایک نئی نسل تیار کریں۔پہلے نمبرکی متاثرہ خاتون نے بتایا کہ فرار کی سزا کے طور پر بعض اوقات ایک رات کو چھ چھ دہشت گرد آبرو ریزی کرتے۔ ایک ہی کمرے میں ایک سے زاید عورتوں کی عزتیں تاراج کی جاتیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات عورتوں کے گرفتار کیے گئے بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے اور ان کی ماؤں کو ان کے سامنے درندگی کا نشانہ بنایا جاتا۔خواتین کی نیلامی کے لیے بازار لگایا جاتا جہاں عورتوں کی قیمتیں لگتی اسے بھی بار بار خریدا اور بیچا گیا۔یزیری خاتون نے بتایا کہ داعشی دہشت گردوں کی مسلمان عورتوں کا رویہ بھی حیران کن تھا۔ جب ان داعشی خواتین سے پوچھا جاتا کہ جنگجو ان کی عزتیں کیوں لوٹتے ہیں تو وہ جواب دیتی کہ ایسا کرنے سے تم مسلمان بن سکو گی۔ تمہیں مسلمان بنانے کے لیے تمہاری عصمت دری ضروری ہے، ورنہ تم اسلام قبول نہیں کرسکو گی۔یوں داعشی دہشت گرد اور ان کی عورتیں اسلامی تعلیمات کی کھلم کھلا تحریف کرتے اور اپنے کفریہ نظریات مسلط کرنے کی کوشش کرتے۔برطانوی اخبار’گارجین‘ نے بھی داعش کے قبضے سے نجات پانے والی بعض یزیدی خواتین کے لرزہ خیز واقعات شائع کیے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ’ام اسماء التونسیہ‘ کا واقعہ ہے۔ ام اسماء کا کہنا ہے کہ اسے 100 داعشی دہشت گردوں نے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔