سہی کام کرنے والوں پر ہمیشہ مشکل حالات آتے ہیں۔مولانا شاہد الحسنیٰ

سہارنپور (احمد رضا)موجودہ ریاستی حکومت کے مدارس اسلامیہ کے ساتھ عاندانہ رویہ اور مدراس کے نظام ونصاب تعلیم میں چغل اندازی کے مسئلہ پر جامعۃ الشیخ زکریا میں ذمہ دارانِ مدارس کی ایک اہم مشاورتی مجلس منعقد کیگئی جس کی صدارت مدرسہ کے بانی اور جامعہ مظاہر علوم کے امین عام مولاناسید محمد شاہد الحسنی نے فرمائی اس اہم موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں مدرسہ کے بانی اور جامعہ مظاہر علوم کے امین عام مولاناسید محمد شاہد الحسنی نے کہا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک کی آزادی اور تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بھی ملک وملت کے بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں انہوں نے ذمہ داران مدارس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ کام کرنے والوں پر ہمیشہ مشکل حالات آتے ہیں لیکن ان حالات سے گھبرانا مومن کی شان نہیں ہے۔ جامعہ اسلامیہ ریڑھی کے مہتمم اور جمعےۃ علماء مغربی اتر پردیش کے صدر مولانا اختر قاسمی نے فرمایا کہ اس مسئلہ پر کوئی عمل اقدام کرنے سے پہلے محکمہ تعلیم کے افسران اور ضلع انتظامیہ سے وضاحت طلب کی جانی چاہئے کہ جس ضابطہ کے حوالے سے یہ ہدایت نامہ جاری کیاگیا ہے ؟ کیا اس زمرے میں دینی مدارس بھی آتے ہیں؟ جمعےۃ علما کے ضلع صدر مولانا حبیب اللہ مدنی نے مدارس اسلامیہ کی تاریخ بیاں کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پورے ملک اور ملت اسلامیہ کے ہر فرد کا مسئلہ ہے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اس نوش سے متعلق مشورہ کے لئے آج مولانا حسین احمدمدنی مدرسہ میں ضلعی سطح کی ایک میٹنگ منعقد کی جارہی ہے جس میں جمعےۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا اشہد رشیدی بطور خاص شرکت فرمارہے ہیں ! اس موقع پر قابل ہونہار وکیل ( کرائم )چودھری جاں نثار ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ انگریزوں کے سامنے اپنی رہائی کیلئے معافی مانگنے والے لوگ آج اقتدارپر مسلط ہیں اور ملک کوآزاد کرانے کے لئے تحریک چلانے اور قربانیاں دینے والوں سے وفاداری کا سر ٹیفیکیٹ طلب کر رہے ہیں اس کے علاوہ شاہد زبیری ، مولانا اطہر حقانی، مولانا محمدشاہد مظاہری، مولانا سلیم سنسارپوری، مولانا محمد طاہر قاسمی، چودھری جانثار ایڈووکیٹ، یونس کوثر ایڈووکیٹ، محمد علی ایڈووکیٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔ مولانا ساجد کاشفی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ شرکت کرنے والوں میں مولانا سید یاسر، مولانا اشرف چھجپورہ، قاری شبیراحمد قاسمی، قاری سالم کاشفی، قاری قربان کاشفی، قاری عارف مظاہری، مولانا دلشاد مظاہری، مولانا نادر مظاہری، مولانا الطاف مظاہری، مولاناخالدندوی مولانا محسن ندوی، مولانا مبین مظاہری، قاری اسلام کاشفی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ قاری سعید احمد تڑفوی کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔